صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب قول النبى صلى الله عليه وسلم للأنصار: اصبروا حتى تلقوني على الحوض :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار سے یہ فرمانا کہ مجھ سے حوض پر ملنے تک صبر کرنا۔
حدیث نمبر: 3794
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ خَرَجَ مَعَهُ إِلَى الْوَلِيدِ، قَالَ: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ إِلَى أَنْ يُقْطِعَ لَهُمُ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالُوا: لَا إِلَّا أَنْ تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَهَا، قَالَ:" إِمَّا لَا فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي فَإِنَّهُ سَيُصِيبُكُمْ بَعْدِي أَثَرَةٌ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا جب وہ انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلیفہ ولید بن عبدالملک کے یہاں جانے کے لیے نکلے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کا ملک بطور جاگیر انہیں عطا فرما دیں۔ انصار نے کہا جب تک آپ ہمارے بھائی مہاجرین کو بھی اسی جیسی جاگیر نہ عطا فرمائیں ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو جب آج تم قبول نہیں کرتے ہو تو پھر میرے بعد بھی صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو، کیونکہ میرے بعد قریب ہی تمہاری حق تلفی ہونے والی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3794]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3794
| دعا النبي الأنصار إلى أن يقطع لهم البحرين فقالوا لا إلا أن تقطع لإخواننا من المهاجرين مثلها قال إما لا فاصبروا حتى تلقوني سيصيبكم بعدي أثرة |
جامع الترمذي |
3903
| أقرئ قومك السلام فإنهم ما علمت أعفة صبر |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3794 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3794
حدیث حاشیہ:
یعنی دوسرے غیر مستحق لوگ عہدوں پر مقرر ہوں گے اور تم کو محروم کردیا جائے گا، بنی امیہ کے زمانے میں ایسا ہی ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی، مگر انصار نے فی الواقع صبر سے کام لے کر وصیت نبوی پر پورا عمل کیا۔
رضي اللہ عنهم ورضوا عنه، یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت انس ؓ کو عبدالملک بن مروان نے ستایا تھا اور وہ بصرہ سے دمشق جاکر ولید بن عبدالملک کے ہاں اپنی شکایات لے کر پہنچے تھے، آخر ولید بن عبدالملک (حاکم وقت)
نے ان کا حق دلایا۔
(فتح الباری)
یعنی دوسرے غیر مستحق لوگ عہدوں پر مقرر ہوں گے اور تم کو محروم کردیا جائے گا، بنی امیہ کے زمانے میں ایسا ہی ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی، مگر انصار نے فی الواقع صبر سے کام لے کر وصیت نبوی پر پورا عمل کیا۔
رضي اللہ عنهم ورضوا عنه، یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت انس ؓ کو عبدالملک بن مروان نے ستایا تھا اور وہ بصرہ سے دمشق جاکر ولید بن عبدالملک کے ہاں اپنی شکایات لے کر پہنچے تھے، آخر ولید بن عبدالملک (حاکم وقت)
نے ان کا حق دلایا۔
(فتح الباری)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3794]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3794
حدیث حاشیہ:
1۔
انصار کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میرے بعد عنقریب تمھیں ترجیحات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسرے غیر مستحق لوگ عہد پر فائز ہوں گے اور تمھیں محروم کیا جائے گا۔
“ چنانچہ بنوامیہ کے دور میں ایسا ہی ہوارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی مگر انصار نے فی الواقع صبر سے کام لے کر وصیت نبوی پر پورا پورا عمل کیا۔
2۔
مذکورہ حدیث میں حضرت انس ؓ کے نکلنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ کو حاکم بصرہ حجاج نے تنگ کیا تو انھوں نےدمشق جا کر ولید بن عبدالملک سے شکایت کی۔
آخر دمشق کے حاکم نے انھیں حق دلایا۔
(فتح الباري: 149/7)
1۔
انصار کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میرے بعد عنقریب تمھیں ترجیحات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسرے غیر مستحق لوگ عہد پر فائز ہوں گے اور تمھیں محروم کیا جائے گا۔
“ چنانچہ بنوامیہ کے دور میں ایسا ہی ہوارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی مگر انصار نے فی الواقع صبر سے کام لے کر وصیت نبوی پر پورا پورا عمل کیا۔
2۔
مذکورہ حدیث میں حضرت انس ؓ کے نکلنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ کو حاکم بصرہ حجاج نے تنگ کیا تو انھوں نےدمشق جا کر ولید بن عبدالملک سے شکایت کی۔
آخر دمشق کے حاکم نے انھیں حق دلایا۔
(فتح الباري: 149/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3794]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3903
انصار اور قریش کے فضائل کا بیان
ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی قوم ۱؎ کو سلام کہو، کیونکہ وہ پاکباز اور صابر لوگ ہیں جیسا کہ مجھے معلوم ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3903]
ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی قوم ۱؎ کو سلام کہو، کیونکہ وہ پاکباز اور صابر لوگ ہیں جیسا کہ مجھے معلوم ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3903]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی: قوم انصار کو سلام کہو،
اس میں انصارکی فضیلت ہے۔
نوٹ:
(سند میں محمد بن ثابت بنانی ضعیف راوی ہے،
مگر اس کا دوسرا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح ہے،
الصحیحة:3096)
وضاحت:
1؎:
یعنی: قوم انصار کو سلام کہو،
اس میں انصارکی فضیلت ہے۔
نوٹ:
(سند میں محمد بن ثابت بنانی ضعیف راوی ہے،
مگر اس کا دوسرا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح ہے،
الصحیحة:3096)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3903]
يحيى بن سعيد الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري