🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب قول النبى صلى الله عليه وسلم: اقبلوا من محسنهم وتجاوزوا عن مسيئهم :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ”انصار کے نیک لوگوں کی نیکیوں کو قبول کرو اور ان کے غلط کاروں سے درگزر کرو“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3799
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى أَبُو عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ أَخُو عَبْدَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:" مَرَّ أَبُو بَكْرٍ , وَالْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِمَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ وَهُمْ يَبْكُونَ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكُمْ، قَالُوا: ذَكَرْنَا مَجْلِسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا , فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، قَالَ: فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ عَصَبَ عَلَى رَأْسِهِ حَاشِيَةَ بُرْدٍ، قَالَ: فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ وَلَمْ يَصْعَدْهُ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ فَإِنَّهُمْ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَقَدْ قَضَوْا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ , فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ".
مجھ سے ابوعلی محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدان کے بھائی شاذان نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، ہمیں شعبہ بن حجاج نے خبر دی، ان سے ہشام بن زید نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر اور عباس رضی اللہ عنہما انصار کی ایک مجلس سے گزرے، دیکھا کہ تمام اہل مجلس رو رہے ہیں، پوچھا آپ لوگ کیوں رو رہے ہیں؟ مجلس والوں نے کہا کہ ابھی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کو یاد کر رہے تھے جس میں ہم بیٹھا کرتے تھے (یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کا واقعہ ہے) اس کے بعد یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعہ کی اطلاع دی، بیان کیا کہ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، سر مبارک پر کپڑے کی پٹی بندھی ہوئی تھی، راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ منبر پر تشریف لائے اور اس کے بعد پھر کبھی منبر پر آپ تشریف نہ لا سکے، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ میرے جسم و جان ہیں، انہوں نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں لیکن اس کا بدلہ جو انہیں ملنا چاہیے تھا، وہ ملنا ابھی باقی ہے، اس لیے تم لوگ بھی ان کے نیک لوگوں کی نیکیوں کی قدر کرنا اور ان کے خطا کاروں سے درگزر کرتے رہنا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3799]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کا گزر انصار کی مجلس سے ہوا جبکہ وہ رو رہے تھے۔ ان دونوں حضرات نے رونے کی وجہ پوچھی تو انصار کہنے لگے: ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے پاس بیٹھنا یاد آ رہا ہے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے) یہ سن کر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع دی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے جبکہ چادر کے کنارے سے اپنا سر مبارک باندھا ہوا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے۔ یہ آخری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر پر جلوہ افروز ہونا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: لوگو! میں تمہیں انصار کی بابت وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ میری جان اور جگر ہیں۔ انہوں نے اپنا حق ادا کر دیا ہے، البتہ ان کا حق باقی رہ گیا ہے، لہٰذا تم ان کے نیکوکار کی نیکی قبول کرو اور ان کے خطا کار سے درگزر کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3799]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥هشام بن زيد الأنصاري
Newهشام بن زيد الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← هشام بن زيد الأنصاري
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥عثمان بن جبلة العتكي
Newعثمان بن جبلة العتكي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن عثمان العتكي، أبو الفضل
Newعبد العزيز بن عثمان العتكي ← عثمان بن جبلة العتكي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن يحيى اليشكري، أبو علي
Newمحمد بن يحيى اليشكري ← عبد العزيز بن عثمان العتكي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3801
الأنصار كرشي وعيبتي الناس سيكثرون ويقلون اقبلوا من محسنهم تجاوزوا عن مسيئهم
صحيح البخاري
3799
أوصيكم بالأنصار فإنهم كرشي وعيبتي وقد قضوا الذي عليهم وبقي الذي لهم اقبلوا من محسنهم تجاوزوا عن مسيئهم
صحيح مسلم
6421
الأنصار كرشي وعيبتي الناس سيكثرون ويقلون اقبلوا من محسنهم اعفوا عن مسيئهم
جامع الترمذي
3907
الأنصار كرشي وعيبتي الناس سيكثرون ويقلون اقبلوا من محسنهم تجاوزوا عن مسيئهم
المعجم الصغير للطبراني
905
الأنصار كرشي وعيبتي اقبلوا من محسنهم تجاوزوا عن مسيئهم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3799 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3799
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو کرش اور علیہ قراردیا ہے۔
کرش معدے کو کہتے ہیں جو غذا کے ٹھہرنے کی جگہ ہے جس کے باعث حیوان نشو ونما پاتا ہے اور علیہ وہ صندوقچی ہے جس میں انسان نفیس اور عمدہ چیز بطور حفاظت رکھتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو اپنے قابل اعتماد رازدان اور صاحب امانت قراردیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگہ دینا اور آپ کی بھر پور مدد کرنا انصار کی ذمہ داری تھی جو انھوں نے پوری کردی ہے ان کے ذمے جو نصرت اسلام کا فریضہ تھا وہ بھی انھوں نے انجام دے دیا ہے۔
اب تمھاری باری ہے کہ تم ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔
انھیں کسی قسم کی اذیت سے دو چار نہ کرو۔
ان میں سے جو نیکو کار ہیں ان کی اچھی باتیں قبول کرو اور جو خطا کار ہیں ان کی خطاؤں سے درگزر کرو۔
یہی اب ان کے حقوق کی ادائیگی ہے جو تم نے پوری کرنی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3799]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6421
حضرت ابواسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،"انصار کے گھرانوں میں سے بہترین بنو نجا ر ہیں پھر بنو عبدالاشہل ہیں،پھر بنو حارث بن خزرج ہیں پھر بنوساعدہ ہیں اور انصار کے تمام گھرانوں میں خیرہے۔"حضرت سعد (بن عبادہ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اور لوگوں کو) ہم پر فضیلت دی ہے تو ان سے کہاگیا۔آپ کو بھی بہت لو گوں پر فضیلت دی ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6421]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اسلام کے معیار کے مطابق فضیلت و برتری کا دارومدار،
دین کو پہلے اختیار کرنے،
اس پر عمل پیرا ہونے اور اس کی نصرت و حمایت پر ہے،
جیسا کہ فرمان باری ہے،
"تم میں سے اللہ کے ہاں سب سے معزز اور محترم وہ ہے،
جو اس کی حدود و احکام کا سب سے زیادہ پابند ہے۔
" سورۃ الحجرات،
آیت نمبر 13۔
اور آپ نے بنو ساعدہ جس کے سردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تھے،
کو چوتھے مرتبہ پر رکھا،
حالانکہ انصاری قبائل اور بھی بہت سے ہیں،
اس لیے انہیں جواب دیا گیا،
تمہیں بہت سارے قبائل پر ترجیح دی گئی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6421]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3801
3801. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: انصار میرے معدے اور زنبیل کے درجے میں ہیں۔ عنقریب لوگ بہت ہو جائیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، لہذا ان کی خوبیوں کو قبول کرنا اور ان کی برائیوں سے چشم پوشی کرنا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3801]
حدیث حاشیہ:
یہاں تک حضرت امام نے انصار کے فضائل بیان فرمائے اور آیات واحادیث کی روشنی میں واضح کرکے بتلایا کہ انصار کی محبت جزو ایمان ہے، اسلام پر ان لوگوں کے بہت سے احسانات ہیں، یہ وہ خوش نصیب مسلمان ہیں جن لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ میں میزبانی کا شرف حاصل کیا اور یہ وہ لوگ ہیں کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جوعہد وفا باندھا تھا اسے پورا کردکھایا، پس ان کے لیے دعائے خیر کرنا قیامت تک ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے، جولوگ انصاری کہلاتے ہیں جو عام طور پر کپڑا بننے کا بہترین کاروبار کرتے ہیں، جہاں تک ان کے نسب ناموں کا تعلق ہے، یہ فی الحقیقت انصار نبویہ ہی کے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، الحمد للہ آج بھی یہ حضرات نصرت اسلام میں بہت آگے آگے نظر آتے ہیں، کثر اللہ سواده آمین۔
اب آگے ان کے بعض افراد خصوصی کے مناقب شروع ہوتے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3801]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3801
3801. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: انصار میرے معدے اور زنبیل کے درجے میں ہیں۔ عنقریب لوگ بہت ہو جائیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، لہذا ان کی خوبیوں کو قبول کرنا اور ان کی برائیوں سے چشم پوشی کرنا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3801]
حدیث حاشیہ:

انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رہنے کے لیے جگہ دی اور اسلام کی مدد کی۔
ان کا یہ وقت گزرچکا ہے کوئی دوسرا اس سعادت میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہے اور نہ کوئی ان سے سبقت کر سکتا ہے۔
ان میں سے جو بھی فوت ہو گا اس کی جگہ کبھی پر نہ ہوگی لہٰذا وہ کم ہوتے رہیں گے اور دوسرے لوگ زیادہ ہوتے جائیں گے حتی کہ انصار کھانے میں نمک کے برابر رہ جائیں گے۔
ان کے مقابلے میں مہاجرین حکمران ہوں گے انھیں آپ نے وصیت فرمائی کہ انصار سے احسان کرتے رہنا اور انھیں تکلیف پہنچانے سے گریز کرنا۔
بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ اخذ کیا ہے کہ انصار کو کبھی حکومت نہیں ملے گی لیکن یہ موقف واضح نہیں ہے۔

واقعہ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عظیم معجزہ ہے کہ انصار دن بدن کم ہو رہے ہیں اگرچہ اس کا دعوی کرنے والے بہت ہیں لیکن دعوی کرنے والوں کے پاس انصار ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
واللہ المستعان۔
نوٹ:
۔
امام بخاری ؒ نے ان احادیث کے ذریعے سے انصار کے مجموعی کردار کو نمایاں کیا ہے اس سے یہ انداز ہ کیا جا سکتا ہے کہ انصار نے کسی طرح بڑھ چڑھ کر اپنے مہاجرین بھائیوں کا احترام کیا اور کس قدر محبت خلوص ایثار اور قربانی سے کام لیا۔
نیز مہاجرین بھی اس نوازش و اکرام کی کتنی قدر کرتے تھے چنانچہ انھوں نے بھی انصار کی پیش کش سے کوئی غلط فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ ان سے صرف اتنا ہی حاصل کیا جس سے وہ اپنی ٹوٹی ہوئی معیشت کو سہارا دے سکتے تھے۔
واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم کردہ سلسلہ مؤاخات سے دور جاہلیت کے جانبدار نہ رویے رنگ و نسل اور وطن کے امتیازات مٹ گئے بلندی و پستی کا معیار انسانیت و تقوی کے علاوہ اور کوئی چیز نہ تھا۔
واقعی یہ بھائی چارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک نادر حکمت عملی حکیمانہ سیاست اور مسلمانوں کو درپیش مسائل کا حل تھا۔
اس سلسلے میں انصار کا تعاون ایک ایسی مثال ہے جس کی مثال تاریخ عالم پیش کرنے سے قاصر ہے۔
اللہ تعالیٰ ان پاکیزہ ہستیوں کو اپنے ہاں بلند مقام عطا فرمائے اور قیامت کے دن ہمیں ان کی رفاقت نصیب کرے۔
آمین۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3801]

Sahih Bukhari Hadith 3799 in Urdu