🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب مناقب زيد بن ثابت رضي الله عنه:
باب: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3810
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ كُلُّهُمْ مِنْ الْأَنْصَارِ: أُبَيٌّ , وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ , وَأَبُو زَيْدٍ , وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، قُلْتُ لِأَنَسٍ: مَنْ أَبُو زَيْدٍ؟ قَالَ: أَحَدُ عُمُومَتِي".
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چار آدمی جن سب کا تعلق قبیلہ انصار سے تھا، قرآن مجید جمع کرنے والے تھے۔ ابی بن کعب، معاذ بن جبل، ابوزید اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم میں نے پوچھا: ابوزید کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ میرے ایک چچا ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3810]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں جن چار آدمیوں نے قرآن مجید یاد کیا تھا وہ سب انصاری تھے: حضرت ابی، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابوزید اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم۔ (قتادہ رحمہ اللہ نے کہا:) میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ابوزید کون تھے؟ انہوں نے فرمایا: وہ میرے ایک چچا تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3810]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3810
جمع القرآن على عهد النبي أربعة كلهم من الأنصار أبي ومعاذ بن جبل وأبو زيد وزيد بن ثابت
صحيح مسلم
6341
من جمع القرآن على عهد رسول الله قال أربعة كلهم من الأنصار أبي بن كعب ومعاذ بن جبل وزيد بن ثابت ورجل من الأنصار يكنى أبا زيد
صحيح مسلم
6341
جمع القرآن على عهد رسول الله أربعة كلهم من الأنصار معاذ بن جبل وأبي بن كعب وزيد بن ثابت وأبو زيد
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3810 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3810
حدیث حاشیہ:
حضرت زید بن ثابت کاتب وحی سے مشہور ہیں اور بڑا شرف ہے جو آپ کو حاصل ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3810]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3810
حدیث حاشیہ:

یہ حدیث ایک گزشتہ حدیث(3758)
کے خلاف نہیں جس میں ذکر ہے کہ قرآن مجید چار آدمیوں سے پڑھو۔
وہاں ابوزید اور زید بن ثابت ؓ کی بجائے عبداللہ بن مسعود ؓ اور حضرت سالم کا ذکر ہے کیونکہ اس حدیث میں حضرت انس ؓ قبیلہ انصار کے متعلق بیان کررہے ہیں۔
ایک حدیث میں حضرت ابی ؓ کے بجائے حضرت ابوالدرداء ؓ کا نام ہے۔
(صحیح البخاري، فضائل القرآن، حدیث: 5004)
اس روایت میں ہے کہ حضرت قتادہ ؓ نے حضرت انس ؓ سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کس کس نےقرآن یا دکررکھا تھا توآپ نے مذکورہ جواب دیا۔
ایک روایت میں ہے کہ ابوزید ؓ جب فوت ہوئے تو ان کا کوئی اہل وعیال نہ تھا اور وہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 3996)
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ہم ان(کے چھوڑے ہوئے مال)
کے وارث بنے تھے۔
(صحیح البخاري، فضائل القرآن، حدیث: 5005)

بہرحال اس حدیث میں حضرت زید بن ثابت ؓ کی فضیلت کا ذکر ہے کہ وہ حافظ قرآن تھے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3810]

Sahih Bukhari Hadith 3810 in Urdu