صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. باب إتيان اليهود النبى صلى الله عليه وسلم حين قدم المدينة:
باب: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس یہودیوں کے آنے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q3941
هَادُوا سورة البقرة آية 62 صَارُوا يَهُودًا وَأَمَّا قَوْلُهُ هُدْنَا سورة الأعراف آية 156 تُبْنَا هَائِدٌ تَائِبٌ.
سورۃ البقرہ میں لفظ «هادوا» کے معنی ہیں کہ یہودی ہوئے اور سورۃ الاعراف میں «هدنا» «تبنا» کے معنی میں ہے (ہم نے توبہ کی) اسی سے «هائد» کے معنی «تائب» یعنی توبہ کرنے والا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: Q3941]
حدیث نمبر: 3941
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ آمَنَ بِي عَشَرَةٌ مِنْ الْيَهُودِ لآمَنَ بِي الْيَهُودُ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر دس یہودی (احبار و علماء) مجھ پر ایمان لے آتے تو تمام یہود مسلمان ہو جاتے۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3941]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥قرة بن خالد السدوسي، أبو خالد، أبو محمد قرة بن خالد السدوسي ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ضابط | |
👤←👥مسلم بن إبراهيم الفراهيدي، أبو عمرو مسلم بن إبراهيم الفراهيدي ← قرة بن خالد السدوسي | ثقة مأمون |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3941
| لو آمن بي عشرة من اليهود لآمن بي اليهود |
صحيح مسلم |
7058
| لو تابعني عشرة من اليهود لم يبق على ظهرها يهودي إلا أسلم |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3941 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3941
حدیث حاشیہ:
مطلب یہ ہے کہ میرے مدینہ میں آنے کے بعد اگردس یہود بھی مسلمان ہو جاتے تو دوسرے تمام یہودی بھی ان کی دیکھا دیکھی مسلمان ہو جاتے۔
ہوا یہ کہ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو صرف عبد اللہ بن سلام ؓ مسلمان ہوئے باقی دوسرے سردار یہود کے جیسے ابو یاسر اور حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف رافع بن ابی الحقیق۔
بنی نضیر میں سے اور عبد اللہ بن حنیف اور قحاص اور رفاعہ بنی قینقاع میں سے زبیر اور کعب اور شویل بنی قریظہ میں سے یہ سب مخالف رہے۔
کہتے ہیں ابو یاسر آپ کے پاس آیا اور اپنی قوم کے پاس جاکر ان کو سمجھایا یہ سچے پیغمبرہیں وہی پیغمبر ہیں جن کا ہم انتظار کرتے تھے۔
ان کا کہنا مان لو لیکن اس کے بھائی نے مخالفت کی اور قوم کے لوگوں نے بھائی کی مخالفت کی وجہ سے ابو یاسر کا کہنا نہ سنا اورمیمون بن یامین ان یہودیوں میں سے مسلمان ہو گیا۔
اس کا بھی حال عبد اللہ بن سلام کا سا گزرا۔
پہلے تو یہودیوں نے بڑی تعریف کی جب معلوم ہوا کہ مسلمان ہو گیا تو لگے اسکی برائی کرنے۔
(وحیدی)
مطلب یہ ہے کہ میرے مدینہ میں آنے کے بعد اگردس یہود بھی مسلمان ہو جاتے تو دوسرے تمام یہودی بھی ان کی دیکھا دیکھی مسلمان ہو جاتے۔
ہوا یہ کہ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو صرف عبد اللہ بن سلام ؓ مسلمان ہوئے باقی دوسرے سردار یہود کے جیسے ابو یاسر اور حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف رافع بن ابی الحقیق۔
بنی نضیر میں سے اور عبد اللہ بن حنیف اور قحاص اور رفاعہ بنی قینقاع میں سے زبیر اور کعب اور شویل بنی قریظہ میں سے یہ سب مخالف رہے۔
کہتے ہیں ابو یاسر آپ کے پاس آیا اور اپنی قوم کے پاس جاکر ان کو سمجھایا یہ سچے پیغمبرہیں وہی پیغمبر ہیں جن کا ہم انتظار کرتے تھے۔
ان کا کہنا مان لو لیکن اس کے بھائی نے مخالفت کی اور قوم کے لوگوں نے بھائی کی مخالفت کی وجہ سے ابو یاسر کا کہنا نہ سنا اورمیمون بن یامین ان یہودیوں میں سے مسلمان ہو گیا۔
اس کا بھی حال عبد اللہ بن سلام کا سا گزرا۔
پہلے تو یہودیوں نے بڑی تعریف کی جب معلوم ہوا کہ مسلمان ہو گیا تو لگے اسکی برائی کرنے۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3941]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3941
حدیث حاشیہ:
مدینہ طیبہ میں یہودیوں کے تین قبیلے آباد تھے اور ان میں دس آدمی بڑا اثرورسوخ رکھتے تھے:
بنو نضیر میں ابویاسر بن اخطب۔
اس کا بھائی حی بن اخطب، کعب بن اشرف اور رافع بن ابی الحقیق۔
بنوقینقاع میں عبداللہ بن حنیف، فخاص اوررفاعہ بن زید۔
بنوقریظہ میں سے زبیر بن باطیاء کعب بن اسعد او شمویل بن زید۔
اگریہ یہودی مسلمان ہوجائے تو مدینے کے تمام یہودی مسلمان ہوجاتے لیکن ان میں سے کسی کو اسلام نصیب نہیں ہوا۔
ان سرداروں میں سے صرف عبداللہ بن سلام ؓ مسلمان ہوئے۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جب یہ حدیث بیان کی تو کعب احبار نے کہا کہ حدیث میں بارہ اشخاص کا ذکر ہے، کیونکہ قرآن میں ہے:
”ہم نے ان میں بارہ نقیب مقرر کیے۔
“ (المائدة: 12: 5)
یہ سن کر ابوہریرہ ؓ خاموش ہوگئے۔
ابن سیرین کہتے ہیں کہ کعب احبار کے مقابلے میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی قدروقیمت ہمارے نزدیک زیادہ ہے۔
(فتح الباري: 344/7، 345)
مدینہ طیبہ میں یہودیوں کے تین قبیلے آباد تھے اور ان میں دس آدمی بڑا اثرورسوخ رکھتے تھے:
بنو نضیر میں ابویاسر بن اخطب۔
اس کا بھائی حی بن اخطب، کعب بن اشرف اور رافع بن ابی الحقیق۔
بنوقینقاع میں عبداللہ بن حنیف، فخاص اوررفاعہ بن زید۔
بنوقریظہ میں سے زبیر بن باطیاء کعب بن اسعد او شمویل بن زید۔
اگریہ یہودی مسلمان ہوجائے تو مدینے کے تمام یہودی مسلمان ہوجاتے لیکن ان میں سے کسی کو اسلام نصیب نہیں ہوا۔
ان سرداروں میں سے صرف عبداللہ بن سلام ؓ مسلمان ہوئے۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جب یہ حدیث بیان کی تو کعب احبار نے کہا کہ حدیث میں بارہ اشخاص کا ذکر ہے، کیونکہ قرآن میں ہے:
”ہم نے ان میں بارہ نقیب مقرر کیے۔
“ (المائدة: 12: 5)
یہ سن کر ابوہریرہ ؓ خاموش ہوگئے۔
ابن سیرین کہتے ہیں کہ کعب احبار کے مقابلے میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی قدروقیمت ہمارے نزدیک زیادہ ہے۔
(فتح الباري: 344/7، 345)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3941]
محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي