صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب غزوة أحد:
باب: غزوہ احد کا بیان۔
حدیث نمبر: 4049
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ , سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ:" فَقَدْتُ آيَةً مِنْ الْأَحْزَابِ حِينَ نَسَخْنَا الْمُصْحَفَ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا , فَالْتَمَسْنَاهَا فَوَجَدْنَاهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ سورة الأحزاب آية 23 فَأَلْحَقْنَاهَا فِي سُورَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں خارجہ بن زید بن ثابت نے خبر دی انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ جب ہم قرآن مجید کو لکھنے لگے تو مجھے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت (لکھی ہوئی) نہیں ملی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی تلاوت کرتے بارہا سنا تھا۔ پھر جب ہم نے اس کی تلاش کی تو وہ آیت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ہمیں ملی (آیت یہ تھی) «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر» پھر ہم نے اس آیت کو اس کی سورت میں قرآن مجید میں ملا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4049]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥زيد بن ثابت الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو خارجة، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥خارجة بن زيد الأنصاري، أبو زيد خارجة بن زيد الأنصاري ← زيد بن ثابت الأنصاري | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← خارجة بن زيد الأنصاري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق إبراهيم بن سعد الزهري ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حجة | |
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة موسى بن إسماعيل التبوذكي ← إبراهيم بن سعد الزهري | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4784
| أسمع رسول الله يقرؤها لم أجدها مع أحد إلا مع خزيمة الأنصاري جعل رسول الله شهادته شهادة رجلين من المؤمنين |
صحيح البخاري |
4049
| أسمع رسول الله يقرأ بها فالتمسناها فوجدناها مع خزيمة بن ثابت الأنصاري من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر |
صحيح البخاري |
2807
| يقرأ بها فلم أجدها إلا مع خزيمة بن ثابت الأنصاري جعل رسول الله شهادته شهادة رجلين |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4049 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4049
حدیث حاشیہ:
اس آیت کا ترجمہ یہ ہے۔
مسلمانوں میں بعض مرد تو ایسے ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو قول وقرار کیا تھا وہ سچ کر دکھایا۔
اب ان میں بعض تو اپنا کام پورا کر چکے شہید ہو گئے۔
(جیسے حمزہ اور مصعب ؓ)
اور بعض انتظار کر رہے ہیں (عثمان اور طلحہ ؓ وغیرہ)
اس روایت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ آیت صرف خزیمہ ؓ کے کہنے پر قرآن میں شریک کردی گئی بلکہ یہ آیت صحابہ کو یاد تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بارہا سن چکے تھے مگر بھولے سے مصحف میں نہیں لکھی گئی تھی۔
جب خزیمہ ؓکے پاس لکھی ہوئی ملی تو اس کو شریک کر دیا۔
اس آیت کا ترجمہ یہ ہے۔
مسلمانوں میں بعض مرد تو ایسے ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو قول وقرار کیا تھا وہ سچ کر دکھایا۔
اب ان میں بعض تو اپنا کام پورا کر چکے شہید ہو گئے۔
(جیسے حمزہ اور مصعب ؓ)
اور بعض انتظار کر رہے ہیں (عثمان اور طلحہ ؓ وغیرہ)
اس روایت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ آیت صرف خزیمہ ؓ کے کہنے پر قرآن میں شریک کردی گئی بلکہ یہ آیت صحابہ کو یاد تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بارہا سن چکے تھے مگر بھولے سے مصحف میں نہیں لکھی گئی تھی۔
جب خزیمہ ؓکے پاس لکھی ہوئی ملی تو اس کو شریک کر دیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4049]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4049
حدیث حاشیہ:
1۔
ایک روایت میں صراحت ہے کہ مذکورہ آیت شہدائے احد کے متعلق نازل ہوئی، چنانچہ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے خیال کے مطابق یہ آیت ہمارے چچا حضرت انس بن نضر ؓ اور اس طرح دیگر جاں نثاروں کے متعلق نازل ہوئی۔
(صحیح البخاري، الجهاد والسیر، حدیث: 2805)
بلکہ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ہمارے یقین کے مطابق یہ آیت حضرت انس بن نضر ؓ کے متعلق نازل ہوئی۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4783)
2۔
واضح رہے کہ مذکورہ آیت حضرت زید بن ثابت ؓ کو یاد تو تھی لیکن لکھی ہوئی کسی کے پاس نہ تھی۔
اس سے قرآن مجید کے تواتر میں کوئی خلل نہیں آتا کیونکہ تواتر کے لیے تحریری طور پر پایا جانا ضروری نہیں۔
اس وقت بھی تواتر حفظی موجود تھا البتہ تواتر کتابی نہیں تھا۔
اس کی تفصیل ہم کتاب فضائل القرآن حدیث4988۔
کے تحت بیان کریں گے۔
ان شاءاللہ۔
1۔
ایک روایت میں صراحت ہے کہ مذکورہ آیت شہدائے احد کے متعلق نازل ہوئی، چنانچہ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے خیال کے مطابق یہ آیت ہمارے چچا حضرت انس بن نضر ؓ اور اس طرح دیگر جاں نثاروں کے متعلق نازل ہوئی۔
(صحیح البخاري، الجهاد والسیر، حدیث: 2805)
بلکہ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ہمارے یقین کے مطابق یہ آیت حضرت انس بن نضر ؓ کے متعلق نازل ہوئی۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4783)
2۔
واضح رہے کہ مذکورہ آیت حضرت زید بن ثابت ؓ کو یاد تو تھی لیکن لکھی ہوئی کسی کے پاس نہ تھی۔
اس سے قرآن مجید کے تواتر میں کوئی خلل نہیں آتا کیونکہ تواتر کے لیے تحریری طور پر پایا جانا ضروری نہیں۔
اس وقت بھی تواتر حفظی موجود تھا البتہ تواتر کتابی نہیں تھا۔
اس کی تفصیل ہم کتاب فضائل القرآن حدیث4988۔
کے تحت بیان کریں گے۔
ان شاءاللہ۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4049]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2807
2807. حضرت زید بن ثابت ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں قرآن مجید کو مصاحف میں لکھ رہاتھا کہ میں نے اس دوران میں سورہ احزاب کی ایک آیت گم پائی جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ تلاش بسیار کے بعد وہ مجھے حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری ؓکے پاس مل گئی، جن کی گواہی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیاتھا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کایہ ارشادہے: ”اہل ایمان میں سے کچھ لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کردکھایا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2807]
حدیث حاشیہ:
اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ قرآن شریف ایک شخص کی روایت پر جمع ہوا ہے کیونکہ یہ آیت سنی تو بہت سے آدمیوں نے تھی جیسے حضرت عمر ؓ اور ابی بن کعب ؓ اور ہلال بن امیہ ؓ اور زید بن ثابت ؓ وغیرہم سے مگر اتفاق سے لکھی ہوئی کسی کے پاس نہ ملی۔
حضرت خزیمہؓ کی شہادت کو آپ نے دو شہادتوں کے برابر قرار دیا‘ یہ خاص خزیمہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
ہوا یہ کہ آپؐ نے ایک شخص سے کوئی بات فرمائی‘ اس نے انکار کیا۔
خزیمہ نے کہا میں اس کا گواہ ہوں۔
آپؐ نے فرمایا کہ تجھ سے تو گواہی طلب نہیں کی گئی پھر تو گواہی دیتا ہے۔
خزیمہ نے کہا یا رسول اللہ! ہم آسمان سے جو حکم اترتے ہیں ان پر آپؐ کی تصدیق کرتے ہیں یہ کونسی بڑی بات ہے۔
آپؐ نے خزیمہ کی شہادت پر فیصلہ کردیا اور ان کی شہادت دوسرے دو آدمیوں کی شہادت کے برابر رکھی (وحیدی)
اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ قرآن شریف ایک شخص کی روایت پر جمع ہوا ہے کیونکہ یہ آیت سنی تو بہت سے آدمیوں نے تھی جیسے حضرت عمر ؓ اور ابی بن کعب ؓ اور ہلال بن امیہ ؓ اور زید بن ثابت ؓ وغیرہم سے مگر اتفاق سے لکھی ہوئی کسی کے پاس نہ ملی۔
حضرت خزیمہؓ کی شہادت کو آپ نے دو شہادتوں کے برابر قرار دیا‘ یہ خاص خزیمہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
ہوا یہ کہ آپؐ نے ایک شخص سے کوئی بات فرمائی‘ اس نے انکار کیا۔
خزیمہ نے کہا میں اس کا گواہ ہوں۔
آپؐ نے فرمایا کہ تجھ سے تو گواہی طلب نہیں کی گئی پھر تو گواہی دیتا ہے۔
خزیمہ نے کہا یا رسول اللہ! ہم آسمان سے جو حکم اترتے ہیں ان پر آپؐ کی تصدیق کرتے ہیں یہ کونسی بڑی بات ہے۔
آپؐ نے خزیمہ کی شہادت پر فیصلہ کردیا اور ان کی شہادت دوسرے دو آدمیوں کی شہادت کے برابر رکھی (وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2807]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2807
2807. حضرت زید بن ثابت ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں قرآن مجید کو مصاحف میں لکھ رہاتھا کہ میں نے اس دوران میں سورہ احزاب کی ایک آیت گم پائی جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ تلاش بسیار کے بعد وہ مجھے حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری ؓکے پاس مل گئی، جن کی گواہی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیاتھا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کایہ ارشادہے: ”اہل ایمان میں سے کچھ لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کردکھایا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2807]
حدیث حاشیہ:
حدیث میں مذکورہ آیت کریمہ کے گم ہونے کامطلب یہ نہیں کہ لوگ اسے بھول گئے تھے اور وہ انھیں یاد نہیں رہی تھی بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی کے پاس لکھی ہوئی نہیں تھی۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت زید بن ثابت ؓ کو وہ آیت یا د تھی اسی لیے انھوں نے کہا:
رسول اللہ ؓ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا کرتاتھا، البتہ ان کے پاس لکھی ہوئی نہیں تھی۔
صرف سیدنا خزیمہ انصاری ؓکے پاس لکھی ہوئی پائی گئی تھی۔
سماع آیت قرآنی تو متواتر تھا لیکن اس کی مصحف میں کتابت صرف حضرت خزیمہ انصاری ؓکے پاس تھی۔
اس کے علاوہ یہ آیت حضرت ابی بن کعب اور ہلال بن امیہ ؓ کے پاس سے بھی مل گئی تو اب اسے صحابہ کرام ؓ کی جماعت نقل کرنے والی تھی۔
ا س سے تواتر ثابت ہوا۔
(عمدة القاري: 113/10)
حدیث میں مذکورہ آیت کریمہ کے گم ہونے کامطلب یہ نہیں کہ لوگ اسے بھول گئے تھے اور وہ انھیں یاد نہیں رہی تھی بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی کے پاس لکھی ہوئی نہیں تھی۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت زید بن ثابت ؓ کو وہ آیت یا د تھی اسی لیے انھوں نے کہا:
رسول اللہ ؓ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا کرتاتھا، البتہ ان کے پاس لکھی ہوئی نہیں تھی۔
صرف سیدنا خزیمہ انصاری ؓکے پاس لکھی ہوئی پائی گئی تھی۔
سماع آیت قرآنی تو متواتر تھا لیکن اس کی مصحف میں کتابت صرف حضرت خزیمہ انصاری ؓکے پاس تھی۔
اس کے علاوہ یہ آیت حضرت ابی بن کعب اور ہلال بن امیہ ؓ کے پاس سے بھی مل گئی تو اب اسے صحابہ کرام ؓ کی جماعت نقل کرنے والی تھی۔
ا س سے تواتر ثابت ہوا۔
(عمدة القاري: 113/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2807]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4784
4784. حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب ہم نے قرآن مجید کو مصحف کی صورت میں جمع کیا تو مجھے سورہ احزاب کی ایک آیت نہیں مل رہی تھی، حالانکہ میں وہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارہا سن چکا تھا۔ آخر وہ مجھے حضرت خزیمہ انصاری ؓ کے پاس ملی، جن کی شہادت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مردوں کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا۔ وہ آیت یہ تھی: ﴿مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا۟ مَا عَـٰهَدُوا۟ ٱللَّـهَ عَلَيْهِ﴾ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4784]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خذیمہ بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کو دو گواہوں کے برابر قرار دیا۔
اس کا واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے گھوڑا خریدا اورآپ نے اس سے کہا:
تم میرے ساتھ آؤ تا کہ میں تمہارے گھوڑے کی قیمت ادا کروں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی چلے جبکہ وہ دیہاتی آہستہ آہستہ چلنے لگا۔
اس دوران میں لوگ اس دیہاتی کے پاس آئے اور گھوڑے کا سودا کرنے لگے۔
انھیں علم نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا ہے۔
اس دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:
اگرگھوڑا خریدنا ہے تو خریدلو ورنہ میں اسے فروخت کر دوں گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی آواز سن کر رُک گئے اور فرمایا:
”کیا میں نے اسے تم سے خرید نہیں لیا۔
“ دیہاتی نے کہا:
اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہے۔
میں نے یہ تم کو بیچا ہی نہیں ہے۔
آپ نے فرمایا:
”کیوں نہیں، میں نے تم سے خرید لیا ہے۔
“ دیہاتی نے کہا:
کوئی گواہ لاؤ۔
حضرت خذیمہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے:
میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے فروخت کر دیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خزیمہ کی طرف متوجہ ہوئے اورفرمایا:
”تم کس طرح گواہی دیتے ہو؟انھوں نے عرض کی:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی تصدیق کی بنا پر۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خذیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کےبرابر قرار دیا۔
(سنن أبي داود، القضاء، حدیث: 3607)
لیکن اس واقعے کو عام قرارنہیں دیا جاسکتا کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی۔
واللہ اعلم۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خذیمہ بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کو دو گواہوں کے برابر قرار دیا۔
اس کا واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے گھوڑا خریدا اورآپ نے اس سے کہا:
تم میرے ساتھ آؤ تا کہ میں تمہارے گھوڑے کی قیمت ادا کروں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی چلے جبکہ وہ دیہاتی آہستہ آہستہ چلنے لگا۔
اس دوران میں لوگ اس دیہاتی کے پاس آئے اور گھوڑے کا سودا کرنے لگے۔
انھیں علم نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا ہے۔
اس دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:
اگرگھوڑا خریدنا ہے تو خریدلو ورنہ میں اسے فروخت کر دوں گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی آواز سن کر رُک گئے اور فرمایا:
”کیا میں نے اسے تم سے خرید نہیں لیا۔
“ دیہاتی نے کہا:
اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہے۔
میں نے یہ تم کو بیچا ہی نہیں ہے۔
آپ نے فرمایا:
”کیوں نہیں، میں نے تم سے خرید لیا ہے۔
“ دیہاتی نے کہا:
کوئی گواہ لاؤ۔
حضرت خذیمہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے:
میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے فروخت کر دیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خزیمہ کی طرف متوجہ ہوئے اورفرمایا:
”تم کس طرح گواہی دیتے ہو؟انھوں نے عرض کی:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی تصدیق کی بنا پر۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خذیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کےبرابر قرار دیا۔
(سنن أبي داود، القضاء، حدیث: 3607)
لیکن اس واقعے کو عام قرارنہیں دیا جاسکتا کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4784]
خارجة بن زيد الأنصاري ← زيد بن ثابت الأنصاري