🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب ليبزق عن يساره أو تحت قدمه اليسرى:
باب: بائیں طرف یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 414
حَدَّثَنَا عَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِحَصَاةٍ، ثُمَّ" نَهَى أَنْ يَبْزُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ أَوْ عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى"، وَعَنْ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ حُمَيْدًا، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ نَحْوَهُ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے امام زہری نے حمید بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابو سعید خدری سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ کی دیوار پر بلغم دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کنکری سے کھرچ ڈالا۔ پھر فرمایا کہ کوئی شخص سامنے یا دائیں طرف نہ تھوکے، البتہ بائیں طرف یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لینا چاہیے۔ دوسری روایت میں زہری سے یوں ہے کہ انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے ابو سعید خدری کے واسطہ سے اسی طرح یہ حدیث سنی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 414]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥حميد بن عبد الرحمن الزهري، أبو عثمان، أبو إبراهيم، أبو عبد الرحمن
Newحميد بن عبد الرحمن الزهري ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥حميد بن عبد الرحمن الزهري، أبو عثمان، أبو إبراهيم، أبو عبد الرحمن
Newحميد بن عبد الرحمن الزهري ← حميد بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد
Newأبو سعيد الخدري ← حميد بن عبد الرحمن الزهري
صحابي
👤←👥حميد بن عبد الرحمن الزهري، أبو عثمان، أبو إبراهيم، أبو عبد الرحمن
Newحميد بن عبد الرحمن الزهري ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← حميد بن عبد الرحمن الزهري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
414
يبزق الرجل بين يديه أو عن يمينه لكن عن يساره أو تحت قدمه اليسرى
سنن أبي داود
480
أيسر أحدكم أن يبصق في وجهه إن أحدكم إذا استقبل القبلة فإنما يستقبل ربه والملك عن يمينه لا يتفل عن يمينه ولا في قبلته وليبصق عن يساره أو تحت قدمه فإن عجل به أمر فليقل هكذا ووصف لنا ابن عجلان ذلك أن يتفل في ثوبه ثم يرد بعضه على بعض
سنن النسائى الصغرى
726
يبصق عن يساره أو تحت قدمه اليسرى
مسندالحميدي
745
مسندالحميدي
746
أيحب أحدكم أن يبزق في وجهه
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 414 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:414
حدیث حاشیہ:

عنوان میں بصاق (تھوک)
اور اس روایت میں بلغم کے ذکر سے امام بخاری ؒ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تھوک بلغم اور ناک کی رطوبت وغیرہ تمام ہی ناگوار اور قابل نفرت چیزیں ہیں، ان ناپسندیدہ چیزوں کا مسجد کے بارے میں ایک ہی حکم ہے۔
(فتح الباري: 661/1)

اس روایت میں بائیں طرف تھوکنے کے الفاظ سے امام بخاری ؒ نے ایک اختلاف کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
قاضی عیاض ؒ کے نزدیک مسجد میں تھوکنا جائز ہے، لیکن اس کا دفن نہ کرنا گناہ ہے، جبکہ امام نووی ؒ کہتے ہیں کہ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس گناہ کی تلافی اس کا دفن کردینا ہے۔
امام بخاری ؒ کے قائم کردہ عنوان سے قاضی عیاض کے موقف کے راجح ہونے کی طرف اشارہ ہے۔
واللہ أعلم۔

روایت آخر میں ایک سند نقل کر کے امام بخاری ؒ نے یہ بھی وضاحت کردی ہے کہ روایت اگرچہ بصیغہ عن بیان ہوئی ہے، لیکن امام زہری ؒ کا سماع اپنے شیخ حمید بن عبدالرحمٰن سے ثابت ہے، لہٰذا اس میں تدلیس کا کوئی شبہ نہیں ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 414]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 726
نماز میں سامنے یا داہنی طرف تھوکنا منع ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی قبلہ (والی دیوار پر) بلغم دیکھا تو اسے کنکری سے کھرچ دیا، اور لوگوں کو اپنے سامنے اور دائیں طرف تھوکنے سے روکا، اور فرمایا: (جنہیں ضرورت ہو) وہ اپنے بائیں تھوکے یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 726]
726 ۔ اردو حاشیہ: دائیں طرف تھوکنا اس لیے منع ہے کہ دائیں طرف فرشتۂ رحمت ہوتا ہے اور بائیں طرف تھوکنا اس وقت جائز ہو گا جب کوئی دوسرا اس جانب نہ ہو کیونکہ یہ اس کی داہنی جانب ہو گی۔ یا قدم کے نیچے تھوک لے۔ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان فرامین کو ان مساجد پر محمول کیا جائے گا جہاں زمین کچی ہو کہ تھوکنے کے بعد اسے دفن کرنا بھی آسان ہو، نیز اس سے کسی کو اذیت بھی نہ پہنچے، یعنی ان خاص حالات کو بھی مدنظر رکھا جائے جن میں اس قسم کے احکام صادر ہوئے۔ آج کل تقریباً تمام یا اکثر مساجد پکی ہی بنی ہوتی ہیں بلکہ فرش پر سنگ مرمر لگا ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ کچھ ایسی بھی ہیں جہاں چٹائیاں یا سرے سے پوری مسجد میں عمدہ اور نفیس قالین بچھپے ہوتے ہیں۔ وہاں تھوکنا یقیناًً نامناسب بلکہ تمام اہل مسجد کے لیے انتہائی اذیت کا باعث ہو گا۔ ممکن ہے آئندہ پیش آنے والے حالات کے پیش نظر ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے وغیرہ میں تھوک کر مسلنے کی ہدایت فرمائی ہو۔ آج کل اسی صورت کو اپنانا چاہیے تاکہ ضرورت بھی پوری ہو جائے اور مسجد بھی صاف رہے۔ (مزید دیکھیے، حدیث: 724)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 726]