🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب دفن النخامة فى المسجد:
باب: مسجد میں بلغم کو مٹی کے اندر چھپا دینا ضروری ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 416
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ، فَإِنَّمَا يُنَاجِي اللَّهَ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ فَيَدْفِنُهَا".
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبدالرزاق نے معمر بن راشد سے، انہوں نے ہمام بن منبہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو تو سامنے نہ تھوکے کیونکہ وہ جب تک اپنی نماز کی جگہ میں ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے سرگوشی کرتا رہتا ہے اور دائیں طرف بھی نہ تھوکے کیونکہ اس طرف فرشتہ ہوتا ہے، ہاں بائیں طرف یا قدم کے نیچے تھوک لے اور اسے مٹی میں چھپا دے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 416]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥همام بن منبه اليماني، أبو عقبة
Newهمام بن منبه اليماني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← همام بن منبه اليماني
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥إسحاق بن إبراهيم البخاري، أبو إبراهيم
Newإسحاق بن إبراهيم البخاري ← عبد الرزاق بن همام الحميري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
416
إذا قام أحدكم إلى الصلاة فلا يبصق أمامه فإنما يناجي الله ما دام في مصلاه ولا عن يمينه فإن عن يمينه ملكا ليبصق عن يساره أو تحت قدمه فيدفنها
صحيح مسلم
1228
ما بال أحدكم يقوم مستقبل ربه يتنخع أمامه أيحب أحدكم أن يستقبل فيتنخع في وجهه إذا تنخع أحدكم فليتنخع عن يساره تحت قدمه فإن لم يجد فليقل هكذا ووصف القاسم فتفل في ثوبه ثم مسح بعضه على بعض
سنن أبي داود
477
من دخل هذا المسجد فبزق فيه أو تنخم فليحفر فليدفنه فإن لم يفعل فليبزق في ثوبه ثم ليخرج به
سنن النسائى الصغرى
310
إذا صلى أحدكم فلا يبزق بين يديه ولا عن يمينه لكن عن يساره أو تحت قدمه وإلا فبزق النبي هكذا في ثوبه ودلكه
سنن ابن ماجه
761
إذا تنخم أحدكم فلا يتنخمن قبل وجهه ولا عن يمينه ليبزق عن شماله أو تحت قدمه اليسرى
سنن ابن ماجه
1022
ما بال أحدكم يقوم مستقبله يعني ربه يتنخع أمامه أيحب أحدكم أن يستقبل فيتنخع في وجهه إذا بزق أحدكم فليبزقن عن شماله أو ليقل هكذا في ثوبه
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 416 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:416
حدیث حاشیہ:

سابقہ احادیث میں تھوکنے کی ممانعت کے کئی اسباب بیان ہوئے ہیں۔
ان میں سبب اعظم اللہ تعالیٰ اور نمازی کے درمیان مواجہت کا احترام ہے۔
باقی تمام اسباب اس کے تحت آتے ہیں، اسباب حسب ذیل ہیں۔
نمازی کی اللہ تعالیٰ سے مناجات۔
اللہ تعالیٰ کا بحالت نماز قبلے اور نمازی کے درمیان ہونا۔
احترام قبلہ۔
دیوار قبلہ کی تلویث۔
اللہ اور اس کے رسول کی ایذا رسانی
نمازیوں کا احترام۔
دائیں جانب متعین فرشتے کا احترام۔
تمام علمائے امت کا اس پر اتفاق ہے کہ اجازت صرف اضطرار اور مجبوری کی حالت میں ہے۔

امام بخاری ؒ نے عنوان میں مسجد کی قید ذکر کی ہے، جبکہ حدیث میں مسجد کا ذکر نہیں ہے؟آپ کا استدلال نماز کے لیے کھڑا ہونے کے لفظ سے ہے، لیکن ان الفاظ سے عموم سمجھا جاتا ہے، یعنی مسجد میں نماز کے لیے کھڑا ہویا مسجد کے علاوہ باہر کسی دوسرے مقام پر، ہر وقت یہ پابندی ضروری ہے۔
پھر آپ نے قبل ازیں کفارے کا ذکر کیا تھا اور اس مقام پر صرف دفن کر دینے پر اکتفا کیا ہے؟اس کی وجہ یہ ہے کہ امام بخاری ؒ دو حالتوں کو بیان کرنا چاہتے ہیں۔
ایک یہ کہ انسان دانستہ طور پر مسجد میں بلا وجہ تھوکنے کی حرکت کرتا ہے تو یہ گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا ہے۔
دوسری حالت یہ ہے کہ انسان مجبوراً ایسی حرکت کرتا ہے تو اس کی تلافی اس باب میں بیان کی ہے کہ اسے دفن کر دیا جائے یا کسی چیز سے اسے دور کردیا جائے۔
(فتح الباري: 663/1)

اس حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ بحالت نماز تھوکنے کی ممانعت ہے، جبکہ ایذائے مسلم کا تقاضا ہے کہ یہ ممانعت مطلق طور پر ہے، خواہ نماز پڑھ رہا ہو یا نماز کے علاوہ مسجد میں موجود ہو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تھوکنے سے ممانعت کے کئی ایک مراتب ہیں، یعنی مسجد میں مطلق طور پرتھوکنا سنگین جرم ہے، لیکن دیوار قبلہ پر تھوکنا اس سے زیادہ سنگین ہے، پھر بحالت نماز قبلے کی طرف تھوکنا انتہائی بے ادبی اور گھناؤنا جرم ہے۔
(فتح الباري: 664/1)

دفن کر دینے کا مفہوم یہ نہیں کہ اس پر معمولی سی مٹی ڈال کر اسے چھپا دیا جائے, کیونکہ ایسا کرنے سے اگر کوئی وہاں بیٹھتا ہے تو مزید گندگی پھیلنے کا اندیشہ ہے, بلکہ دفن کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ زمین کھود کر تھوک کو اس کے اندر دبا دیا جائے, پھر زمین کو ہموار کردیا جائے۔
یہ اس صورت میں ہےجب زمین کچی ہو۔
اگر پختہ زمین پر تھوکنے کی نوبت آجائے تو دفن کرنے کے بجائے اسے اٹھا کر باہر پھینک دیا جائے اور مسجد کے فرش کو صاف کر کے وہاں خوشبو وغیرہ لگا دی جائے تاکہ کسی قسم کی ناگواری نہ ہو۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 416]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 310
کپڑے میں تھوک لگ جانے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے یا اپنے دائیں طرف نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں طرف تھوکے، یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک لے نہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے میں اس طرح تھوکا ہے اور اسے مل دیا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 310]
310۔ اردو حاشیہ:
➊ سامنے تھوکنا تو عام حالات میں بھی قبیح ہے۔ نماز میں تو انسان اپنے مالک حقیقی سے ہم کلام ہوتا ہے۔ یوں سمجھے کہ اللہ تعالیٰ سامنے ہے، لہٰذا سامنے تھوکنا تو سخت گستاخی اور بدتہذیبی ہے۔
➋ دائیں طرف تھوکنے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ دائیں طرف فرشتۂ رحمت ہوتا ہے۔
➌ بائیں طرف اس وقت تھوک سکتا ہے جب وہاں کوئی موجود نہ ہو ورنہ وہ اس کی دائیں جانب ہو گی۔ پاؤں کے نیچے بھی تب تھوک سکتا ہے جب مٹی یا ریت پر کھڑا ہو۔ اگر فرش ہے یا صف وغیرہ بچھی ہے تو نیچے تھوکنا بھی منع ہے۔ اس وقت صرف آخری طریقہ قابل عمل ہگا، یعنی کپڑے میں تھوکنے کا، جس کی طرف ورنہ کہہ کر اشارہ کیا گیا ہے۔
➍ ورنہ کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل بیان کر کے اشارہ کیا گیا ہے کہ ورنہ ایسے کرے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کیا تھا۔ آج کل کپڑے کے بجائے ٹشو پیپر کا استعمال بہت مناسب بدل ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 310]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث761
مسجد میں تھوکنے اور ناک جھاڑنے کی کراہت کا بیان۔
ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار پر رینٹ دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لے کر اسے کھرچ ڈالا، پھر فرمایا: جب کوئی شخص تھوکنا چاہے تو اپنے سامنے اور اپنے دائیں ہرگز نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں جانب یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 761]
اردو حاشہ:
(1)
مسجد کو صاف ستھرا رکھنا ضروری ہے۔

(2)
ایسی حرکات سے پرہیز کرنا چاہیے جو مسجد کی صفائی کے منافی ہوں۔

(3)
اگر مسجد کی زمین کچی ہو اور اس پر چٹائی وغیرہ بچھی ہوئی نہ ہو تو پاؤں کے نیچا تھوکنا جائز ہے کیونکہ پاؤں سے رگڑے جانے پر وہ زمین میں جذب ہو جائے گا۔

(4)
بائیں طرف تھوکنا اس وقت جائز ہے جب اس طرف کوئی دوسرا نمازی نہ ہو ورنہ اپنے پاؤں کے نیچے تھوکے۔

(5)
پختہ فرش پر اور چٹائی اور قالین پر تھوکنا جائز نہیں کیونکہ یہ صفائی کے منافی ہے، البتہ رومال وغیرہ میں تھوک سکتا ہے۔
اگر نماز میں مشغول نہ ہو تو وضو کی جگہ جا کر اس قسم کی ضرورت پوری کرنی چاہیے۔

(6)
سفر وغیرہ میں آج کل بھی یہ صورت پیش آ سکتی ہے کہ کوئی انسان کھلی جگہ میں نماز پڑھ لے جب کہ کوئی مسجد قریب نہ ہو۔
اس صورت میں اگر زمین پر کوئی کپڑا نہیں بچھایا گیا تو زیر مطالعہ حدیث کے مطابق عمل کرنا جائز ہے۔

(7)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے ہاتھ سے دیوار صاف کردینا اعلی اخلاق اور تواضع کی بہترین مثال ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلطی کا ارتکاب کرنے والے کا تعین کرنا یا اس سے مخاطب ہونا مناسب نہیں سمجھا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خود صفائی کردینے سے دیکھنے والوں کو اور خود غلطی کرنے والے کو یقیناً زبردست تنبیہ ہوگئی۔

(8)
چونکہ دیوار کچی تھی اس لیے صفائی کے لیے کنکری سے کھرچ دیا گیا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 761]

Sahih Bukhari Hadith 416 in Urdu