یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب غزوة خيبر:
باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4206
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ , فَقُلْتُ: يَا أَبَا مُسْلِمٍ، مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ؟ فَقَالَ: هَذِهِ ضَرْبَةٌ أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ النَّاسُ: أُصِيبَ سَلَمَةُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ، فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ".
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی پنڈلی میں ایک زخم کا نشان دیکھ کر ان سے پوچھا: اے ابومسلم! یہ زخم کا نشان کیسا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ غزوہ خیبر میں مجھے یہ زخم لگا تھا ‘ لوگ کہنے لگے کہ سلمہ زخمی ہو گیا۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اس پر دم کیا ‘ اس کی برکت سے آج تک مجھے اس زخم سے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4206]
حضرت یزید بن ابوعبید سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی پنڈلی پر ایک زخم کا نشان دیکھا تو ان سے پوچھا: ”ابومسلم! یہ زخم کیسا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”یہ تلوار کا زخم ہے جو مجھے خیبر کے دن لگا تھا، لوگوں نے کہا کہ سلمہ مارے گئے۔ تب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اس پر تین مرتبہ دم کیا، میں نے اس وقت سے اب تک اس زخم کی کوئی تکلیف محسوس نہیں کی۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4206]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4206
| نفث فيه ثلاث نفثات فما اشتكيتها حتى الساعة |
سنن أبي داود |
3894
| نفث في ثلاث نفثات فما اشتكيتها حتى الساعة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4206 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4206
حدیث حاشیہ:
1۔
صحیح بخاری کی یہ چودھویں حدیث ہے۔
امام بخاری ؒ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف تین واسطے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ سلمہ بن اکوع ؓ نے بہت طویل عمر پائی تھی۔
2۔
اس حدیث میں امام بخاری ؒ کے استاذ مکی بن ابراہیم تبع تابعی ہیں اورمکی ان کا نام ہے، مکہ کی طرف نسبت نہیں۔
3۔
(نَفَث)
، (نَفَخ)
اور (تَفَل)
میں فرق یہ ہے کہ (نَفَخ)
کے معنی پھونک ہیں جس میں تھوک نہ ہو جبکہ (تَفَل)
میں تھوک ہوتا ہے اور(نَفَث)
، (نَفَخ)
اور (تَفَل)
کے درمیان ہوتا ہے یعنی اس میں پھونک کے ساتھ معمولی سا تھوک پایا جاتا ہے۔
1۔
صحیح بخاری کی یہ چودھویں حدیث ہے۔
امام بخاری ؒ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف تین واسطے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ سلمہ بن اکوع ؓ نے بہت طویل عمر پائی تھی۔
2۔
اس حدیث میں امام بخاری ؒ کے استاذ مکی بن ابراہیم تبع تابعی ہیں اورمکی ان کا نام ہے، مکہ کی طرف نسبت نہیں۔
3۔
(نَفَث)
، (نَفَخ)
اور (تَفَل)
میں فرق یہ ہے کہ (نَفَخ)
کے معنی پھونک ہیں جس میں تھوک نہ ہو جبکہ (تَفَل)
میں تھوک ہوتا ہے اور(نَفَث)
، (نَفَخ)
اور (تَفَل)
کے درمیان ہوتا ہے یعنی اس میں پھونک کے ساتھ معمولی سا تھوک پایا جاتا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4206]
Sahih Bukhari Hadith 4206 in Urdu
يزيد بن أبي عبيد الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي