🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب غزوة خيبر:
باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4209
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ، وَكَانَ رَمِدًا، فَقَالَ: أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَحِقَ بِهِ، فَلَمَّا بِتْنَا اللَّيْلَةَ الَّتِي فُتِحَتْ قَالَ:" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا، أَوْ لَيَأْخُذَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ يُفْتَحُ عَلَيْهِ"، فَنَحْنُ نَرْجُوهَا، فَقِيلَ: هَذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ , فَفُتِحَ عَلَيْهِ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ جا سکے تھے کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جا چکے) تو انہوں نے کہا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ سے پیچھے رہوں (ایسا نہیں ہو سکتا)؟ چنانچہ وہ بھی آ گئے۔ جس دن خیبر فتح ہونا تھا ‘ جب اس کی رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل میں (اسلامی) عَلم اس شخص کو دوں گا یا فرمایا کہ عَلم وہ شخص لے گا جسے اللہ اور اس کا رسول عزیز رکھتے ہیں اور جس کے ہاتھ پر فتح حاصل ہو گی۔ ہم سب ہی اس سعادت کے امیدوار تھے لیکن کہا گیا کہ یہ ہیں علی رضی اللہ عنہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کو جھنڈا دیا اور انہیں کے ہاتھ پر خیبر فتح ہوا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4209]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سلمة بن الأكوع الأسلمي، أبو مسلم، أبو إياس، أبو عامرصحابي
👤←👥يزيد بن أبي عبيد الأسلمي، أبو خالد
Newيزيد بن أبي عبيد الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي
ثقة
👤←👥حاتم بن إسماعيل الحارثي، أبو إسماعيل
Newحاتم بن إسماعيل الحارثي ← يزيد بن أبي عبيد الأسلمي
ثقة
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← حاتم بن إسماعيل الحارثي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4209 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4209
حدیث حاشیہ:

خیبر کی آبادی دوحصوں پرمشتمل تھی۔
ایک حصے میں حسب ذیل پانچ قلعے تھے۔

حصن ناعم۔

حصن صعب بن معاد۔

حصن زبیر۔

حصن ابی۔

حصن نزار۔
دوسرے حصے میں حسب ذیل تین قلعے تھے۔

حصن قموص۔

حصن وطیح۔

حصن سلالم۔
ان آٹھ قلعوں کے علاوہ مزید قلعے اور گڑھیاں بھی تھیں مگر وہ چھوٹی تھیں اورقوت وحفاظت کے اعتبار سے ان قلعوں کے ہم پلہ نہ تھیں، جہاں تک جنگ کا تعلق ہے۔
وہ صرف پہلے حصے میں ہوئی، دوسرے حصے کے تینوں قلعے لڑنے والوں کی کثرت کے باوجود جنگ کےبغیر ہی مسلمانوں کے حوالے کردیے گئے۔

حضرت بریدہ اسلمی ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ ہم نے خیبر کا محاصرہ کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر ؓ کو جھنڈا دیا، وہ گئے لیکن فتح کیے بغیر واپس آگئے۔
اگلے دن حضرت عمر ؓ نے جھنڈا لیا لیکن وہ بھی اسے فتح نہ کرسکے۔
بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو جھنڈا دیا تو ان کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے خیبر فتح کیا۔
(مسند أحمد: 354/5)

سب سے پہلے مرحب نامی شہ زور اور جاں باز یہودی کا قلعہ تھا جسے ایک ہزار مردوں کےبرابر سمجھاجاتا تھا۔
یہ قلعہ محل وقوع کے اعتبار سے یہود کی پہلی دفاعی لائن کی حیثیت رکھتا تھا۔
حضرت علی ؓ نے اس کے سرپرایسی تلوار ماری کہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔
اس کے بعد فتوحات کاسلسلہ شروع ہوگیا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4209]