🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب غزوة خيبر:
باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4215
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، وَسَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ , وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ"، نَهَى عَنْ أَكْلِ الثُّومِ , هُوَ عَنْ نَافِعٍ وَحْدَهُ، وَلُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، عَنْ سَالِمٍ.
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ نے ‘ ان سے نافع اور سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن اور پالتو گدھوں کے کھانے سے منع فرمایا تھا۔ لہسن کھانے کی ممانعت کا ذکر صرف نافع سے منقول ہے اور پالتو گدھوں کے کھانے کی ممانعت صرف سالم سے منقول ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4215]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← سالم بن عبد الله العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن إسماعيل الهباري، أبو محمد
Newعبد الله بن إسماعيل الهباري ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
853
من أكل من هذه الشجرة يعني الثوم فلا يقربن مسجدنا
صحيح البخاري
4215
نهى يوم خيبر عن أكل الثوم عن لحوم الحمر الأهلية
صحيح مسلم
1248
من أكل من هذه الشجرة يعني الثوم فلا يأتين المساجد
صحيح مسلم
1249
من أكل من هذه البقلة فلا يقربن مساجدنا حتى يذهب ريحها يعني الثوم
سنن أبي داود
3825
من أكل من هذه الشجرة فلا يقربن المساجد
سنن ابن ماجه
1016
من أكل من هذه الشجرة شيئا فلا يأتين المسجد
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4215 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4215
حدیث حاشیہ:
گھر یلو گدھوں کا گوشت کھانے کی نہی تحریم کے لیے ہے جبکہ لہسن کھانے کی حرمت بطور تنزیہہ ہے، البتہ اسے پکا کر کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
کچا لہسن کھا کر نمازباجماعت اور لوگوں کے مجمع میں نہیں آنا چاہیے۔
چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہر وقت فرشتوں کی آمد ورفت رہتی تھی، اس لیے آپ نے کبھی لہسن استعمال نہیں فرمایا۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4215]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1016
لہسن کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس پودے (پیاز و لہسن) سے کچھ کھائے تو مسجد میں ہرگز نہ آئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1016]
اردو حاشہ:
فائدہ:
مسلمان مرد کو بلاعذر نماز باجماعت سے پیچھے ر ہنا منع ہے اس حدیث کامطلب یہ نہیں کہ بدبودار چیز کا کھانا جماعت سے پیچھے رہ جانے کےلئے ایک معقول عذر ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ نماز کا وقت قریب ہو تو ان چیزوں کے استعمال سے پرہیز کیا جائے۔
اسی طرح خواتین گھر میں نماز پڑھتے وقت احتیاط رکھیں کہ نماز سے پہلے کچا لہسن یا پیاز استعمال نہ کریں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1016]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:853
853. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر فرمایا تھا: جو شخص اس پودے، یعنی لہسن کو کھائے اسے ہماری مسجد میں ہرگز نہیں آنا چاہئے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:853]
حدیث حاشیہ:
(1)
بعض حضرات کے خیال کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر کے لیے جاتے یا واپسی کے وقت لہسن کھانے کے متعلق مذکورہ حکم امتناعی جاری فرمایا۔
انہوں نے یہ سمجھا کہ حدیث میں مسجد سے مراد مسجد نبوی ہے، حالانکہ صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید ؓ سے مروی ایک حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح خیبر کے بعد یہ ہدایت جاری فرمائی تھی، اس بنا پر مسجد سے مراد مسجد نبوی نہیں بلکہ وہ جگہ ہے جو خیبر میں نماز ادا کرنے کے لیے تیار کی گئی تھی یا اس سے مراد جنس ہے کہ ایسا انسان مسلمانوں کی مساجد میں نہ آئے، چنانچہ مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ ابن جریج نے اپنے شیخ عطاء سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ حکم امتناعی مسجد حرام کے ساتھ خاص ہے یا تمام مساجد اس میں شامل ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ حکم تمام مساجد کے لیے ہے۔
(المصنف لعبد الرزاق: 1/445،444) (2)
کسی بھی بدبودار چیز کو مسجد میں لے جانا اور اسے کھانے کے بعد مسجد میں آنا سخت منع ہے کیونکہ لوگوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ ویسے بھی مسجد ایک پاک جگہ ہوتی ہے جہاں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، لہذا کسی صورت میں اس کے تقدس کو مجروح نہیں کرنا چاہیے۔
کچا لہسن، پیاز، مولی، سگریٹ اور بیڑی وغیرہ کا ایک ہی حکم ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ لہسن، پیاز اور مولی وغیرہ کو پکا کر استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ان کی بو دور ہو جاتی ہے لیکن تمباکو نوشی اور بیڑی وغیرہ کسی صورت میں جائز نہیں ہے۔
دیار عرب کے علماء نے اس کی حرمت کا فتویٰ دیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 853]