🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. باب مرض النبى صلى الله عليه وسلم ووفاته:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4454
قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُكَلِّمُ النَّاسَ، فَقَالَ: اجْلِسْ يَا عُمَرُ، فَأَبَى عُمَرُ أَنْ يَجْلِسَ، فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ وَتَرَكُوا عُمَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:" أَمَّا بَعْدُ، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللَّهَ، فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، قَالَ اللَّهُ: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ إِلَى قَوْلِهِ: الشَّاكِرِينَ سورة آل عمران آية 144، وَقَالَ: وَاللَّهِ لَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى تَلَاهَا أَبُو بَكْرٍ فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ، فَمَا أَسْمَعُ بَشَرًا مِنَ النَّاسِ إِلَّا يَتْلُوهَا، فَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ تَلَاهَا فَعَقِرْتُ حَتَّى مَا تُقِلُّنِي رِجْلَايَ وَحَتَّى أَهْوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ حِينَ سَمِعْتُهُ تَلَاهَا، عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ".
زہری نے بیان کیا اور ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے کچھ کہہ رہے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر! بیٹھ جاؤ، لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کیا۔ اتنے میں لوگ عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے اور آپ نے خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا: امابعد! تم میں جو بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کی وفات ہو چکی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو (اس کا معبود) اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور اس کو کبھی موت نہیں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے «وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل‏» کہ محمد صرف رسول ہیں، ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں۔ ارشاد «الشاكرين‏» تک۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: اللہ کی قسم! ایسا محسوس ہوا کہ جیسے پہلے سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے اور جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تلاوت کی تو سب نے ان سے یہ آیت سیکھی۔ اب یہ حال تھا کہ جو بھی سنتا تھا وہی اس کی تلاوت کرنے لگ جاتا تھا۔ (زہری نے بیان کیا کہ) پھر مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اس وقت ہوش آیا، جب میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس آیت کی تلاوت کرتے سنا، جس وقت میں نے انہیں تلاوت کرتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ہے تو میں سکتے میں آ گیا اور ایسا محسوس ہوا کہ میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں اٹھا پائیں گے اور میں زمین پر گر جاؤں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4454]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے کچھ کہہ رہے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عمر! بیٹھ جاؤ، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ اس دوران میں لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے۔ آپ نے خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا: تم میں سے جو بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی ہے اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے، اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ﴾ [سورة آل عمران: 144] محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) صرف رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی کئی رسول گزر چکے ہیں۔۔۔ اور اللہ شکر ادا کرنے والوں کو اچھی جزا دے گا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا محسوس ہوا جیسے پہلے لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے اور جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تلاوت کی تو اب سب لوگ اس آیت کو ان سے لے رہے ہیں۔ اب تو یہ حال تھا کہ میں جس شخص کو بھی سنتا وہی اس کی تلاوت کر رہا ہوتا۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے اس وقت ہوش آیا جب میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس آیت کی تلاوت کرتے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ہے۔ میں تو سکتے میں آ گیا اور مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میری دونوں ٹانگیں لڑکھڑانے لگی ہیں اور میں زمین پر گر جاؤں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4454]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥أبو بكر الصديق، أبو بكر
Newأبو بكر الصديق ← سعيد بن المسيب القرشي
صحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← أبو بكر الصديق
صحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4454
من كان منكم يعبد محمدا فإن محمدا قد مات ومن كان منكم يعبد الله فإن الله حي لا يموت قال الله وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل إلى قوله الشاكرين
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4454 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4454
حدیث حاشیہ:
ایسے نازک وقت میں امت کو سنبھالنا یہ حضرت ابوبکر ؓ ہی کا مقام تھا۔
اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے ہی ان کو اپناخلیفہ بنا کر امام نماز بنا دیا تھا جو ان کی خلافت حقہ کی روشن دلیل ہے۔
حضرت ابو بکر ؓ نے یہ کہہ کر کہ خدا آپ پر دوموت طاری نہیں کرے گا۔
ان صحابہ ؓ کا رد کیا جو یہ سمجھتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پھر زندہ ہوںگے اور منافقوں کے ہاتھ پاؤں کاٹیں گے کیونکہ اگر ایسا ہوتو پھر وفات ہوگی گویا دوبارموت ہوجائے گی۔
بعضوں نے کہا دوبار موت نہ ہونے سے یہ مطلب ہے کہ پھر قبر میں آپ کوموت نہ ہوگی بلکہ آپ زندہ رہیں گے۔
امام احمد کی روایت میں یوں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی، میں نے آپ کو ایک کپڑے سے ڈھانک دیا۔
اس کے بعد عمر ؓ اور مغیرہ ؓ آئے۔
دونوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی۔
میں نے اجازت دے دی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نعش کو دیکھ کر کہا ہائے آپ بیہوش ہوگئے ہیں۔
مغیر ہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ انتقال فرماچکے ہیں۔
اس پر حضرت عمر ؓ مغیرہ ؓ کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک مرنے والے نہیں ہیں جب تک سارے منافقین کا قلع قمع نہ کر دیں۔
ایک روایت میں یوں ہے، حضرت عمر ؓ یوں کہہ رہے تھے کہ خبردا! جو کوئی کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مرگئے ہیں، میں تلوار سے اس کاسر اڑا دوں گا۔
حضرت عمر ؓ کو واقعی یہ یقین تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مرے نہیں ہیں یا ان کا یہ فرمانا بڑی مصلحت اور سیاست پر مبنی ہوگا۔
انہوں نے یہ چاہا کہ پہلے خلافت کا انتظام ہو جائے بعد میں آپ کی وفات کو ظاہر کیا جائے، ایسا نہ ہو کہ آپ کی وفات کا حال سن کر دین میں کوئی خرابی پیدا ہوجائے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4454]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4454
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات حسرت آیات پر اہل مدینہ کو بڑی پریشانی لاحق ہوئی حتی کہ حضرت عمر ؓ جیسے کوہ استقامت اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے۔
اپنی تلوار سونت کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا کہا، میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔
حافظ ابن حجر ؒ نے مسند احمدکے حوالے سے لکھا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو حضرت عائشہ ؓ نے آپ کو ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا۔
اس کے بعد حضرت عمر ؓ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ آئے اور دونوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔
حضرت عائشہ ؓ نے انھیں اجازت دی حضرت عمر ؓ نے آپ کو دیکھ کر کہا:
ہائے! آپ بے ہوش ہوگئے ہیں۔
حضرت مغیرہ ؓ نے کہا:
آپ انتقال فرماچکے ہیں۔
اس پر حضرت عمر ؓ نے انھیں ڈانٹتے ہوئے کہا:
تم غلط کہتے ہو اور کسی فتنے کا شکار ہو چکے ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک فوت ہونے والے نہیں جب تک تمام منافقین کا خاتمہ نہ کردیں۔
اس کے بعد حضرت ابو بکر ؓ تشریف لائے تو انھوں نے پردہ اٹھا کر آپ کو دیکھا اور اناللہ وانا الیه راجعون۔
پڑھا اور فرمایا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں۔
(مسند أحمد: 219/6)

حضرت ابو بکر ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے اسم گرامی "محمد" کا لفظ استعمال کیا کیونکہ اس سے مقصود ذات کریمہ تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہنے سے وصف رسالت کی طرف نگاہ ہوتی حالانکہ اس وقت وصف رسالت ملحوظ نہیں تھا کیونکہ اس کا تعلق مرسل یعنی ذات باری تعالیٰ سے تھا جو منقطع نہیں ہواتھا، اگر آپ کی رسالت منقطع ہوتی تو پھر ذات گرامی کا ذکر کرنا مناسب نہ تھا، اس لیے وصف رسالت کے بجائے اسم گرامی ذکر کیا گیا۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4454]

Sahih Bukhari Hadith 4454 in Urdu