🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
67. باب المرور فى المسجد:
باب: مسجد میں تیر وغیرہ لے کر گزرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 452
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ مَرَّ فِي شَيْءٍ مِنْ مَسَاجِدِنَا أَوْ أَسْوَاقِنَا بِنَبْلٍ فَلْيَأْخُذْ عَلَى نِصَالِهَا، لَا يَعْقِرْ بِكَفِّهِ مُسْلِمًا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے کہ کہا ہم سے ابوبردہ بن عبداللہ نے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد (ابوموسیٰ اشعری صحابی) سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص ہماری مساجد یا ہمارے بازاروں میں تیر لیے ہوئے چلے تو ان کے پھل تھامے رہے، ایسا نہ ہو کہ اپنے ہاتھوں سے کسی مسلمان کو زخمی کر دے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 452]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥بريد بن عبد الله الأشعري، أبو بردة
Newبريد بن عبد الله الأشعري ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة
👤←👥عبد الواحد بن زياد العبدي، أبو بشر
Newعبد الواحد بن زياد العبدي ← بريد بن عبد الله الأشعري
ثقة
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← عبد الواحد بن زياد العبدي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
452
من مر في شيء من مساجدنا أو أسواقنا بنبل فليأخذ على نصالها لا يعقر بكفه مسلما
صحيح البخاري
7075
إذا مر أحدكم في مسجدنا أو في سوقنا ومعه نبل فليمسك على نصالها أو قال فليقبض بكفه أن يصيب أحدا من المسلمين منها شيء
صحيح مسلم
6665
إذا مر أحدكم في مجلس أو سوق وبيده نبل فليأخذ بنصالها ثم ليأخذ بنصالها ثم ليأخذ بنصالها
صحيح مسلم
6665
إذا مر أحدكم في مسجدنا أو في سوقنا ومعه نبل فليمسك على نصالها بكفه أن يصيب أحدا من المسلمين منها بشيء أو قال ليقبض على نصالها
سنن أبي داود
2587
إذا مر أحدكم في مسجدنا أو في سوقنا ومعه نبل فليمسك على نصالها أو قال فليقبض كفه أو قال فليقبض بكفه أن يصيب أحدا من المسلمين
سنن ابن ماجه
3778
إذا مر أحدكم في مسجدنا أو في سوقنا ومعه نبل فليمسك على نصالها بكفه أن تصيب أحدا من المسلمين بشيء أو فليقبض على نصالها
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 452 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:452
حدیث حاشیہ:
مسلمان کی عزت وحرمت بہرحال مقدم ہے اور مسلمان کے خون کی اللہ کے ہاں بڑی قدروقیمت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو حکم دیاگیا کہ جب وہ مسجد یا بازار آئیں تو برہنہ ہتھیار لے نہ نکلیں۔
ایک روایت میں ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جملے کوتین بار دہرایا کہ وہ اس کے پیکان پکڑ لے۔
(فتح الباري: 708/1)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 452]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2587
تیر لے کر مسجد میں جانے کا بیان۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص ہماری مسجد یا ہمارے بازار سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہو تو اس کی نوک کو پکڑ لے یا فرمایا: مٹھی میں دبائے رہے، یا یوں کہا کہ: اسے اپنی مٹھی سے دبائے رہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں میں سے کسی کو لگ جائے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2587]
فوائد ومسائل:

صدقہ صرف مال کا نہیں ہوتا۔
بلکہ ہر مفید چیز صدقہ کی جا سکتی ہے۔
تیر یا جہاد میں کام آنے والا اسلحہ بھی بطور صدقہ تقسیم کیا جا سکتا ہے۔


تیز دھاردار اور دیگر اسلحہ جات کی نقل وحمل میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔
ایسا نہ ہو کہ غفلت اور غلطی سے کسی مسلمان کو لگ جائے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2587]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7075
7075. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد یا ہمارے بازار سے گزرے اوراس کے پاس تیر ہوں تو ان کی نوک کا خیال رکھے۔ یا فرمایا۔ انہیں اپنے ہاتھ میں تھامے رکھے، ایسا نہ ہو اس سے کسی مسلمان کو نقصان پہنچے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7075]
حدیث حاشیہ:
ان جملہ احادیث سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نا حق خون ریزی کو کتنی بری نظر سے دیکھتے ہیں کہ قدم قدم پر اس بارے میں اتنہائی احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ہدایت فرما رہے ہیں۔
مسلمانوں نے بھی جس طرح بعض احکام کو ملحوظ رکھا ہے‘ کاش ان احادیث کو بھی یاد رکھتے اور باہمی قتل وغارت سے پر ہیز کرتے تو ملی حالات اس قدر خراب نہ ہوتے مگر صد افسوس کہ آج مسلمان ان خانہ جنگیوں کے نتیجہ میں صدہا ٹولیوں میں تقسیم ہو کر اپنی طاقت تار تار کر چکا ہے۔
کاش یہ لفظ کسی بھی دل والے بھائی کے دل میں اتر سکیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7075]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7075
7075. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد یا ہمارے بازار سے گزرے اوراس کے پاس تیر ہوں تو ان کی نوک کا خیال رکھے۔ یا فرمایا۔ انہیں اپنے ہاتھ میں تھامے رکھے، ایسا نہ ہو اس سے کسی مسلمان کو نقصان پہنچے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7075]
حدیث حاشیہ:

جو چیز کسی ناجائز کام تک پہنچائے اس سے بچنا بھی ضروری ہے کیونکہ ممنوع کام کا ارادہ کرنا یا بلاقصد ہو جانا، اس سے پرہیز ضروری ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو تیروں کے پھل پکڑنے کا حکم دیا کیونکہ ہجوم میں اگر تیر کھلے ہوں تو لوگوں کو خراشیں آنے کاخطرہ ہے، اس لیے کھلے بازار یا مجالس میں کھلے تیر لے کر چلنا منع ہے۔
دور حاضر میں اسلحے کا بھی یہی حکم ہے کہ اسے تالا لگا کر رکھے اور اس کی نالی اوپر کی طرف رکھی جائے تاکہ اگر کسی وجہ سے فائر ہو جائے تو اس سے کسی کانقصان نہ ہو۔

ان تمام احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناحق خون ریزی کو کتنی سنگین نظر سے دیکھتے تھے، لیکن جب فتنوں کا دور ہو تو اس میں مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قدم قدم پر انتہائی احتیاط کو ملحوظ خاطررکھنے کی ہدایت فرما رہے ہیں۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ آپس میں قتل وغارت کر کے اپنی طاقت کو پارہ پارہ نہ کریں۔
ایک حدیث سے اس امر کی مزید وضاحت ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس سے گزرے تو لوگ ایک دوسرے سے ننگی تلواروں کا تبادلہ کر رہے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
کیا میں نے تمھیں اس سے منع نہیں کیا؟ جب کوئی دوسرے کو تلوار دینا چاہے تو پہلے اسے میان میں بند کرے پھر وہ اپنے بھائی کو دے۔
(مسند أحمد: 347/3)
ایک روایت میں ہے:
فرشتے اس شخص پر لعنت کرتے ہیں جو ننگے ہتھیار سے دوسرے کی طرف اشارہ کرتا ہے، خواہ وہ اس کا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو۔
(جامع الترمذي، الفتن، حدیث: 2162)
جب ہتھیار سے اشارہ کرنا باعث لعنت ہے تو اس سے دوسرے مسلمان کو نقصان پہنچانا کس قدر سنگین جرم ہوگا۔
بہرحال یہ کام سنجیدگی سے ہو یا مذاق کے طور پر اس کے متعلق احادیث میں بہت سخت وعید بیان ہوئی ہے۔
(فتح الباري: 32/13)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7075]