صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب: {ليس لك من الأمر شيء} :
باب: آیت کی تفسیر ”آپ کو اس امر میں کوئی دخل نہیں کہ یہ ہدایت کیوں نہیں قبول کرتے اللہ جسے چاہے اسے ہدایت ملتی ہے“۔
حدیث نمبر: 4559
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنَ الْفَجْرِ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا"، بَعْدَ مَا يَقُولُ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ"، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ إِلَى قَوْلِهِ: فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128. رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے سالم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھا کر یہ بددعا کی۔ ”اے اللہ! فلاں، فلاں اور فلاں کافر پر لعنت کر۔ یہ بددعا آپ نے «سمع الله لمن حمده» اور «ربنا ولك الحمد» کے بعد کی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «ليس لك من الأمر شىء» ”آپ کو اس میں کوئی دخل نہیں۔“ آخر آیت «فإنهم ظالمون» تک۔ اس روایت کو اسحاق بن راشد نے زہری سے نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4559]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥إسحاق بن راشد الرقي، أبو سليمان إسحاق بن راشد الرقي ← محمد بن شهاب الزهري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر العدوي ← إسحاق بن راشد الرقي | صحابي | |
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥حبان بن موسى المروزي، أبو محمد حبان بن موسى المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4559
| سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4559 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4559
حدیث حاشیہ:
اسحاق بن راشد کی روایت کو طبرانی نے معجم کبیر میں وصل کیا ہے۔
آپ نے چار شخصوں کا نام لے کر بد دعا کی تھی۔
صفوان بن امیہ، سہیل بن عمیر، حارث بن ہشا م اور عمرو بن عاص ؓ اور بعد میں یہ چاروں مسلمان ہو گئے۔
اللہ کو ان کا مستقبل معلوم تھا، اسی لیے اللہ نے ان پر لعنت کرنے سے منع فرمایا۔
اسحاق بن راشد کی روایت کو طبرانی نے معجم کبیر میں وصل کیا ہے۔
آپ نے چار شخصوں کا نام لے کر بد دعا کی تھی۔
صفوان بن امیہ، سہیل بن عمیر، حارث بن ہشا م اور عمرو بن عاص ؓ اور بعد میں یہ چاروں مسلمان ہو گئے۔
اللہ کو ان کا مستقبل معلوم تھا، اسی لیے اللہ نے ان پر لعنت کرنے سے منع فرمایا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4559]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4559
حدیث حاشیہ:
1۔
بعض روایات میں اس آیت کا سبب نزول ان الفاظ میں بیان ہوا ہے کہ غزوہ اُحد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اگلا دانت ٹوٹ گیا اور سرمبارک زخمی ہوگیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے سے خون صاف کرتے اور فرماتے:
"وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کاسرزخمی کردیا اور دانت توڑدیا، حالانکہ وہ انھیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا۔
" تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(صحیح مسلم، الجھاد، حدیث: 4645۔
(1791)
2۔
ایک روایت میں وضاحت ہے کہ آپ نے جن نامور مشرکین کا نام لے کر بددعا کی وہ یہ ہیں:
صفوان بن امیہ، ابوسفیان اور حارث بن ہشام۔
(جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3004)
مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
چند ہی روز گزرے تھے کہ جن مشرکین کے خلاف آپ نے بددعا کی تھی اللہ تعالیٰ نے انھیں آپ کے قدموں میں لا ڈالا اور اسلام کے جانباز سپاہی بنادیا، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان سب کو دین اسلام کی طرف مائل کردیا۔
(مسند أحمد: 104/2)
3۔
حافظ ا بن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ چوتھے شخص حضرت عمرو بن عاص تھے۔
(فتح الباري: 284/8)
ان حضرات کا مستقبل اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ یہ حضرات حلقہ بگوش اسلام ہوں گے، اس لیے یہ آیت نازل فرما کر آپ کو بددعا کرنے سے روک دیاگیا۔
واللہ اعلم۔
1۔
بعض روایات میں اس آیت کا سبب نزول ان الفاظ میں بیان ہوا ہے کہ غزوہ اُحد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اگلا دانت ٹوٹ گیا اور سرمبارک زخمی ہوگیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے سے خون صاف کرتے اور فرماتے:
"وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کاسرزخمی کردیا اور دانت توڑدیا، حالانکہ وہ انھیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا۔
" تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(صحیح مسلم، الجھاد، حدیث: 4645۔
(1791)
2۔
ایک روایت میں وضاحت ہے کہ آپ نے جن نامور مشرکین کا نام لے کر بددعا کی وہ یہ ہیں:
صفوان بن امیہ، ابوسفیان اور حارث بن ہشام۔
(جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3004)
مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
چند ہی روز گزرے تھے کہ جن مشرکین کے خلاف آپ نے بددعا کی تھی اللہ تعالیٰ نے انھیں آپ کے قدموں میں لا ڈالا اور اسلام کے جانباز سپاہی بنادیا، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان سب کو دین اسلام کی طرف مائل کردیا۔
(مسند أحمد: 104/2)
3۔
حافظ ا بن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ چوتھے شخص حضرت عمرو بن عاص تھے۔
(فتح الباري: 284/8)
ان حضرات کا مستقبل اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ یہ حضرات حلقہ بگوش اسلام ہوں گے، اس لیے یہ آیت نازل فرما کر آپ کو بددعا کرنے سے روک دیاگیا۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4559]
إسحاق بن راشد الرقي ← محمد بن شهاب الزهري