صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب قوله: {ثاني اثنين إذ هما فى الغار} :
باب: آیت کی تفسیر ”جب کہ دو میں سے ایک وہ تھے دونوں غار میں (موجود) تھے جب وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھا کہ فکر نہ کر اللہ پاک ہمارے ساتھ ہے“۔
حدیث نمبر: Q4663
أَيْ نَاصِرُنَا السَّكِينَةُ، فَعِيلَةٌ مِنَ السُّكُونِ.
«معنا» یعنی ہمارا محافظ اور مددگار ہے۔ «سكينة»، «فعيلة» کے وزن پر «سكون» سے نکلا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4663]
حدیث نمبر: 4663
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ، فَرَأَيْتُ آثَارَ الْمُشْرِكِينَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ رَفَعَ قَدَمَهُ رَآنَا، قَالَ:" مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا".
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے حبان بن ہلال باہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: انہوں نے کہا کہ میں غار ثور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ میں نے کافروں کے پاؤں دیکھے (جو ہمارے سر پر کھڑے ہوئے تھے) ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گھبرا گئے اور بولے: یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کسی نے ذرا بھی قدم اٹھائے تو وہ ہم کو دیکھ لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو کیا سمجھتا ہے ان دو آدمیوں کو (کوئی نقصان پہنچا سکے گا) جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4663]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3922
| اثنان الله ثالثهما |
صحيح البخاري |
4663
| ما ظنك باثنين الله ثالثهما |
صحيح البخاري |
3653
| ما ظنك يا أبا بكر باثنين الله ثالثهما |
صحيح مسلم |
6169
| ما ظنك باثنين الله ثالثهما |
جامع الترمذي |
3096
| ما ظنك باثنين الله ثالثهما |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4663 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4663
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو تسلی دی کہ گھبرانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے اور وہ ہمیں بے یارومددگار نہیں چھوڑے گا۔
ایک روایت میں صراحت ہے کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنے قدموں کے نیچے دیکھ لیا تو ہم اسے نظر آجائیں گے۔
(صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیه وسلم، حدیث: 3653)
ایک دوسری روایت میں مزید وضاحت ہے، حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے کہا:
میں غار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔
میں نے اوپر سر اٹھا کر دیکھا توقوم کے پاؤں مجھے نظر آئے۔
میں نے عرض کی:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ان میں سے کسی نے اپنی نگاہوں کو نیچے کیا تو ہم اسے نظر آجائیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تسلی دی کہ اے ابوبکر ؓ! تم خاموش رہو، ہم دو ہیں اور تیسرا ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ ہے۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3922)
2۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر ؓ کو تسلی دی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت ہمارے شامل حال ہے۔
1۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو تسلی دی کہ گھبرانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے اور وہ ہمیں بے یارومددگار نہیں چھوڑے گا۔
ایک روایت میں صراحت ہے کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنے قدموں کے نیچے دیکھ لیا تو ہم اسے نظر آجائیں گے۔
(صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیه وسلم، حدیث: 3653)
ایک دوسری روایت میں مزید وضاحت ہے، حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے کہا:
میں غار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔
میں نے اوپر سر اٹھا کر دیکھا توقوم کے پاؤں مجھے نظر آئے۔
میں نے عرض کی:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ان میں سے کسی نے اپنی نگاہوں کو نیچے کیا تو ہم اسے نظر آجائیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تسلی دی کہ اے ابوبکر ؓ! تم خاموش رہو، ہم دو ہیں اور تیسرا ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ ہے۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3922)
2۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر ؓ کو تسلی دی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت ہمارے شامل حال ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4663]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3096
سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
ابوبکر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جب غار میں تھے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر ان (کافروں) میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف نظر ڈالے تو ہمیں اپنے قدموں کے نیچے (غار میں) دیکھ لے گا۔ آپ نے فرمایا: ”ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال و گمان ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ ہو“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3096]
ابوبکر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جب غار میں تھے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر ان (کافروں) میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف نظر ڈالے تو ہمیں اپنے قدموں کے نیچے (غار میں) دیکھ لے گا۔ آپ نے فرمایا: ”ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال و گمان ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ ہو“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3096]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎:
اللہ تعالیٰ کے قول ﴿إِنَّ اللهَ مَعَنَا﴾ (التوبة: 40) کی طرف اشارہ ہے۔
وضاحت: 1؎:
اللہ تعالیٰ کے قول ﴿إِنَّ اللهَ مَعَنَا﴾ (التوبة: 40) کی طرف اشارہ ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3096]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6169
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا،کہا:جس وقت ہم غار میں تھے،میں نے اپنے سرو ں کی جانب(غار کے اوپر) مشرکین کے قدم دیکھے،میں نے عرض کی:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ان میں سے کسی نے اپنے پیروں کی طرف نظر کی تووہ نیچے ہمیں دیکھ لے گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ابو بکر!تمھارا ان دو کے بارے میں کیا گیا گمان ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے؟" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6169]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ،
مدینہ کی طرف ہجرت کرتے وقت جبل ثور کی ایک غار میں چھپے تھے،
جس میں انسان پیٹ کے بل ہی داخل ہو سکتا ہے،
اس لیے اس سے باہر قدموں پر ہی نظر پڑ سکتی ہے،
" لو " جن نحویوں کے نزدیک استقبال کے لیے آتا ہے،
ان کے نزدیک حضرت ابوبکر نے یہ بات اس وقت کہی،
جبکہ مشرکین غار پر کھڑے تھے اور صحیح بات یہی ہے،
لیکن اکثر نحوی چونکہ لو کو ماضی کے معنی میں استعمال کرتے ہیں،
ان کے نزدیک ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات ان کے جانے کے بعد شکرگزاری کے تحت کہی تھی،
لیکن یہ بات سیاق و سباق کے خلاف ہے اور الله ثالثها کا معنی یہ ہے،
اللہ تعالیٰ ان کا حامی اور ناصر ہے،
وگرنہ اپنے علم و قدرت کے لحاظ سے ہر دو افراد کے ساتھ تیسرا اللہ ہوتا ہے۔
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ،
مدینہ کی طرف ہجرت کرتے وقت جبل ثور کی ایک غار میں چھپے تھے،
جس میں انسان پیٹ کے بل ہی داخل ہو سکتا ہے،
اس لیے اس سے باہر قدموں پر ہی نظر پڑ سکتی ہے،
" لو " جن نحویوں کے نزدیک استقبال کے لیے آتا ہے،
ان کے نزدیک حضرت ابوبکر نے یہ بات اس وقت کہی،
جبکہ مشرکین غار پر کھڑے تھے اور صحیح بات یہی ہے،
لیکن اکثر نحوی چونکہ لو کو ماضی کے معنی میں استعمال کرتے ہیں،
ان کے نزدیک ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات ان کے جانے کے بعد شکرگزاری کے تحت کہی تھی،
لیکن یہ بات سیاق و سباق کے خلاف ہے اور الله ثالثها کا معنی یہ ہے،
اللہ تعالیٰ ان کا حامی اور ناصر ہے،
وگرنہ اپنے علم و قدرت کے لحاظ سے ہر دو افراد کے ساتھ تیسرا اللہ ہوتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6169]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3922
3922. حضرت ابوبکر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں غار ثور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ میں نے اوپر سر اٹھا کر دیکھا تو مجھے قوم قریش کے قدم نظر آئے۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی! اگر ان میں سے کسی نے نیچے جھک کر دیکھ لیا تو وہ ہمیں ضرور دیکھ لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر! خاموش رہو۔ ہم ایسے دو ہیں کہ جن کا تیسرا اللہ تعالٰی ہے (اس لیے ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا)۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3922]
حدیث حاشیہ:
جب اللہ کسی کے ساتھ ہو تو اس کو کیا غم ہے ساری دنیا اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
اللہ کے ساتھ ہونے سے اس کی نصرت حفاظت مراد ہے جب کہ وہ اپنی ذات والا صفات سے عرش پر مستوی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا تھا دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ کس طرح حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوا اور سارے کفار عرب مل کر بھی اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر غالب نہ آسکے سچ ہے:
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
جب اللہ کسی کے ساتھ ہو تو اس کو کیا غم ہے ساری دنیا اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
اللہ کے ساتھ ہونے سے اس کی نصرت حفاظت مراد ہے جب کہ وہ اپنی ذات والا صفات سے عرش پر مستوی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا تھا دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ کس طرح حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوا اور سارے کفار عرب مل کر بھی اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر غالب نہ آسکے سچ ہے:
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3922]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3653
3653. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ حضرت ابوبکر ؓ سے بیان کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا جبکہ میں غارثور میں تھا: اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کے نیچے دیکھ لے تو ہم اسے ضرور نظر آجائیں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اے ابوبکر ؓ!ان دو کے متعلق تیرا کیا گمان ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہے؟“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3653]
حدیث حاشیہ:
1۔
واقعہ ہجرت حیات نبوی کا ایک اہم واقعہ ہے جس کی تفاصیل آئندہ بیان ہوں گی،چنانچہ یہ عنوان مہاجرین کے فضائل سے متعلق ہے،اس لیے اس واقعہ کو یہاں بیان کیا گیا ہے۔
اس میں بہت سے معجزات کا ظہور ہوا۔
2۔
قبل ازیں اس حدیث میں تھاکہ جب عازب ؓ اپنی رقم کھری کرنے گئے تو راستے میں حضرت ابوبکرصدیق ؓ سے حدیث ہجرت سنانے کی درخواست کی جبکہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں ہی اس کا مطالبہ کیاتھا لیکن حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا:
چلو تمھیں راستے میں حدیث سناؤں گا۔
لیکن حافظ ا بن حجر ؒ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عازب نے اولاً شرط لگائی جسے ابوبکر ؓ نے مان لیا پھر راستے میں ان کے مطالبے پر اس شرط کو پوراکردیا۔
(فتح الباري: 13/7)
3۔
حضرت انس سے مروی حدیث میں حضرت ابوبکر ؓ نے مان لیا پھر راستے میں ان کے مطالبے پر اس شرط کوپورا کردیا۔
)
فتح الباری 13/7۔
(3۔
حضرت انس سے مروی حدیث میں حضرت ابوبکر کی واضح فضیلت بیان ہوئی ہے،ایک روایت میں ہے:
مشرکین میں سے ایک شخص ننگا ہوکر غارکے دروازے پر پیشاب کرنے لگا توحضرت ابوبکرنے کہا:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے ہمیں دیکھ لیا ہے۔
آپ نے حضرت ابوبکر ؓ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
”اگر اس نے ہمیں دیکھا ہوتا تو اپنی شرمگاہ ننگی نہ کرتا۔
“(فتح الباري: 18/7)
4۔
حضرت عائشہ ؓ سے مروی حدیث ہجرت میں ہے:
عامربن فہیرہ شام کے وقت اونٹنیاں لے کر ان کے پاس آیا۔
اسی مناسبت سے امام بخاری ؒ نے ایک آیت کے تفسیر ی معنی ذکر کیے ہیں:
”جب تم شام اور صبح کو چراتے ہو تو اس میں تمہارے لیے حسن وجمال ہے۔
“ (النمل: 6/27)
1۔
واقعہ ہجرت حیات نبوی کا ایک اہم واقعہ ہے جس کی تفاصیل آئندہ بیان ہوں گی،چنانچہ یہ عنوان مہاجرین کے فضائل سے متعلق ہے،اس لیے اس واقعہ کو یہاں بیان کیا گیا ہے۔
اس میں بہت سے معجزات کا ظہور ہوا۔
2۔
قبل ازیں اس حدیث میں تھاکہ جب عازب ؓ اپنی رقم کھری کرنے گئے تو راستے میں حضرت ابوبکرصدیق ؓ سے حدیث ہجرت سنانے کی درخواست کی جبکہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں ہی اس کا مطالبہ کیاتھا لیکن حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا:
چلو تمھیں راستے میں حدیث سناؤں گا۔
لیکن حافظ ا بن حجر ؒ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عازب نے اولاً شرط لگائی جسے ابوبکر ؓ نے مان لیا پھر راستے میں ان کے مطالبے پر اس شرط کو پوراکردیا۔
(فتح الباري: 13/7)
3۔
حضرت انس سے مروی حدیث میں حضرت ابوبکر ؓ نے مان لیا پھر راستے میں ان کے مطالبے پر اس شرط کوپورا کردیا۔
)
فتح الباری 13/7۔
(3۔
حضرت انس سے مروی حدیث میں حضرت ابوبکر کی واضح فضیلت بیان ہوئی ہے،ایک روایت میں ہے:
مشرکین میں سے ایک شخص ننگا ہوکر غارکے دروازے پر پیشاب کرنے لگا توحضرت ابوبکرنے کہا:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے ہمیں دیکھ لیا ہے۔
آپ نے حضرت ابوبکر ؓ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
”اگر اس نے ہمیں دیکھا ہوتا تو اپنی شرمگاہ ننگی نہ کرتا۔
“(فتح الباري: 18/7)
4۔
حضرت عائشہ ؓ سے مروی حدیث ہجرت میں ہے:
عامربن فہیرہ شام کے وقت اونٹنیاں لے کر ان کے پاس آیا۔
اسی مناسبت سے امام بخاری ؒ نے ایک آیت کے تفسیر ی معنی ذکر کیے ہیں:
”جب تم شام اور صبح کو چراتے ہو تو اس میں تمہارے لیے حسن وجمال ہے۔
“ (النمل: 6/27)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3653]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3922
3922. حضرت ابوبکر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں غار ثور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ میں نے اوپر سر اٹھا کر دیکھا تو مجھے قوم قریش کے قدم نظر آئے۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی! اگر ان میں سے کسی نے نیچے جھک کر دیکھ لیا تو وہ ہمیں ضرور دیکھ لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر! خاموش رہو۔ ہم ایسے دو ہیں کہ جن کا تیسرا اللہ تعالٰی ہے (اس لیے ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا)۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3922]
حدیث حاشیہ:
1۔
اللہ کے ساتھ سے مراد اس کی نصرت وتائید اور حفاظت ہے جبکہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے عرش پر مستوری ہے2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا:
وہ حرف بحرف پورا ہوا سارے کفار عرب مل کر بھی سلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر غالب نہ آسکے۔
3۔
ایک روایت میں ہے کہ کفار قریش میں سے ایک آدمی ننگا ہو کر پیشاب کرنے لگا تو ابو بکر ؓ نے کہا:
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے ہمیں دیکھ لیا ہے۔
آپ نے فرمایا:
”تم فکر نہ کرو اس نے ہمیں دیکھا ہوتا تو اس طرح ننگا ہو کر پیشاب نہ کرتا۔
“ (فتح الباري: 16/7)
اس حدیث کے فوائد حدیث 3653۔
میں ملاحظہ فرمائیں۔
1۔
اللہ کے ساتھ سے مراد اس کی نصرت وتائید اور حفاظت ہے جبکہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے عرش پر مستوری ہے2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا:
وہ حرف بحرف پورا ہوا سارے کفار عرب مل کر بھی سلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر غالب نہ آسکے۔
3۔
ایک روایت میں ہے کہ کفار قریش میں سے ایک آدمی ننگا ہو کر پیشاب کرنے لگا تو ابو بکر ؓ نے کہا:
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے ہمیں دیکھ لیا ہے۔
آپ نے فرمایا:
”تم فکر نہ کرو اس نے ہمیں دیکھا ہوتا تو اس طرح ننگا ہو کر پیشاب نہ کرتا۔
“ (فتح الباري: 16/7)
اس حدیث کے فوائد حدیث 3653۔
میں ملاحظہ فرمائیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3922]
أنس بن مالك الأنصاري ← أبو بكر الصديق