صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ قَوْلِهِ: {ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ}:
باب: آیت کی تفسیر ”جب کہ دو میں سے ایک وہ تھے دونوں غار میں (موجود) تھے جب وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھا کہ فکر نہ کر اللہ پاک ہمارے ساتھ ہے“۔
حدیث نمبر: Q4663
أَيْ نَاصِرُنَا السَّكِينَةُ، فَعِيلَةٌ مِنَ السُّكُونِ.
«معنا» یعنی ہمارا محافظ اور مددگار ہے۔ «سكينة»، «فعيلة» کے وزن پر «سكون» سے نکلا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4663]
حدیث نمبر: 4663
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ، فَرَأَيْتُ آثَارَ الْمُشْرِكِينَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ رَفَعَ قَدَمَهُ رَآنَا، قَالَ:" مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا".
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے حبان بن ہلال باہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: انہوں نے کہا کہ میں غار ثور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ میں نے کافروں کے پاؤں دیکھے (جو ہمارے سر پر کھڑے ہوئے تھے) ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گھبرا گئے اور بولے: یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کسی نے ذرا بھی قدم اٹھائے تو وہ ہم کو دیکھ لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو کیا سمجھتا ہے ان دو آدمیوں کو (کوئی نقصان پہنچا سکے گا) جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4663]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا، وہ کہتے ہیں: ”میں غار میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ میں نے کافروں کے پاؤں دیکھ کر عرض کی: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کسی نے ذرا بھی قدم اٹھائے تو وہ ہمیں دیکھ لے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دو کے متعلق تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4663]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4664
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ:" حِينَ وَقَعَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ ابْنِ الزُّبَيْرِ، قُلْتُ: أَبُوهُ الزُّبَيْرُ، وَأُمُّهُ أَسْمَاءُ، وَخَالَتُهُ عَائِشَةُ، وَجَدُّهُ أَبُو بَكْرٍ، وَجَدَّتُهُ صَفِيَّةُ، فَقُلْتُ: لِسُفْيَانَ إِسْنَادُهُ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا فَشَغَلَهُ إِنْسَانٌ، وَلَمْ يَقُلْ ابْنُ جُرَيْجٍ".
ہم سے عبداللہ بن محمد بن جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب میرا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے اختلاف ہو گیا تھا تو میں نے کہا کہ ان کے والد زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ تھے، ان کی والدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا تھیں، ان کی خالہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ ان کے نانا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور ان کی دادی (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی) صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ (عبداللہ بن محمد نے بیان کیا کہ) میں نے سفیان (ابن عیینہ) سے پوچھا کہ اس روایت کی سند کیا ہے؟ تو انہوں نے کہنا شروع کیا «حدثنا» ہم سے حدیث بیان کی لیکن ابھی اتنا ہی کہنے پائے تھے کہ انہیں ایک دوسرے شخص نے دوسری باتوں میں لگا دیا اور (راوی کا نام) ابن جریج وہ نہ بیان کر سکے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4664]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب میرا حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے اختلاف ہوا تو میں نے کہا تھا: ان کے والد حضرت زبیر رضی اللہ عنہ، ان کی والدہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا، ان کی خالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، ان کے نانا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کی دادی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔“ راویِ حدیث نے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے پوچھا: ”اس حدیث کی سند کیا ہے؟“ تو انہوں نے کہنا شروع کیا: ” «حَدَّثَنَا» ”انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی“”ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ انہیں کسی دوسرے شخص نے مصروف کر دیا اور وہ آگے ”ابن جریج“ کے الفاظ نہ کہہ سکے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4664]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4665
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: وَكَانَ بَيْنَهُمَا شَيْءٌ، فَغَدَوْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: أَتُرِيدُ أَنْ تُقَاتِلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ فَتُحِلَّ حَرَمَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَبَنِي أُمَيَّةَ مُحِلِّينَ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُحِلُّهُ أَبَدًا، قَالَ: قَالَ النَّاسُ: بَايِعْ لِابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقُلْتُ: وَأَيْنَ بِهَذَا الْأَمْرِ عَنْهُ أَمَّا أَبُوهُ فَحَوَارِيُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ الزُّبَيْرَ، وَأَمَّا جَدُّهُ فَصَاحِبُ الْغَارِ يُرِيدُ أَبَا بَكْرٍ، وَأُمُّهُ فَذَاتُ النِّطَاقِ يُرِيدُ أَسْمَاءَ، وَأَمَّا خَالَتُهُ فَأُمُّ الْمُؤْمِنِينَ يُرِيدُ عَائِشَةَ، وَأَمَّا عَمَّتُهُ فَزَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ خَدِيجَةَ، وَأَمَّا عَمَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَدَّتُهُ يُرِيدُ صَفِيَّةَ، ثُمَّ عَفِيفٌ فِي الْإِسْلَامِ قَارِئٌ لِلْقُرْآنِ، وَاللَّهِ إِنْ وَصَلُونِي وَصَلُونِي مِنْ قَرِيبٍ، وَإِنْ رَبُّونِي رَبُّونِي أَكْفَاءٌ كِرَامٌ، فَآثَرَ التُّوَيْتَاتِ وَالْأُسَامَاتِ وَالْحُمَيْدَاتِ، يُرِيدُ أَبْطُنًا مِنْ بَنِي أَسَدٍ، بَنِي تُوَيْتٍ، وَبَنِي أُسَامَةَ، وَبَنِي أَسَدٍ، إِنَّ ابْنَ أَبِي الْعَاصِ بَرَزَ يَمْشِي الْقُدَمِيَّةَ يَعْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ، وَإِنَّهُ لَوَّى ذَنَبَهُ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ".
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ ابن معین نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم کے درمیان بیعت کا جھگڑا پیدا ہو گیا تھا۔ میں صبح کو ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے جنگ کرنا چاہتے ہیں، اس کے باوجود کہ اللہ کے حرم کی بےحرمتی ہو گی؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: معاذاللہ! یہ تو اللہ تعالیٰ نے ابن زبیر اور بنو امیہ ہی کے مقدر میں لکھ دیا ہے کہ وہ حرم کی بےحرمتی کریں۔ اللہ کی قسم! میں کسی صورت میں بھی اس بےحرمتی کے لیے تیار نہیں ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ لوگوں نے مجھ سے کہا تھا کہ ابن زبیر سے بیعت کر لو۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے ان کی خلافت کو تسلیم کرنے میں کیا تامل ہو سکتا ہے، ان کے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری تھے، آپ کی مراد زبیر بن عوام سے تھی۔ ان کے نانا صاحب غار تھے، اشارہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ ان کی والدہ صاحب نطاقین تھیں یعنی اسماء رضی اللہ عنہا۔ ان کی خالہ ام المؤمنین تھیں، مراد عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھی۔ ان کی پھوپھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ تھیں، مراد خدیجہ رضی اللہ عنہا سے تھی۔ ابن عباس کی مراد ان باتوں سے یہ تھی کہ وہ بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ان کی دادی ہیں، اشارہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ اس کے علاوہ وہ خود اسلام میں ہمیشہ صاف کردار اور پاک دامن رہے اور قرآن کے عالم ہیں اور اللہ کی قسم! اگر وہ مجھ سے اچھا برتاؤ کریں تو ان کو کرنا ہی چاہئے وہ میرے بہت قریب کے رشتہ دار ہیں اور اگر وہ مجھ پر حکومت کریں تو خیر حکومت کریں وہ ہمارے برابر کے عزت والے ہیں۔ لیکن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے تو تویت، اسامہ اور حمید کے لوگوں کو ہم پر ترجیح دی ہے۔ ان کی مراد مختلف قبائل یعنی بنو اسد، بنو تویت، بنو اسامہ اور بنو اسد سے تھی۔ ادھر ابن ابی العاص بڑی عمدگی سے چل رہا ہے یعنی عبدالملک بن مروان مسلسل پیش قدمی کر رہا ہے اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس کے سامنے دم دبا لی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4665]
حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے درمیان کسی معاملے میں کچھ اختلاف تھا۔ میں صبح صبح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر ہوا اور عرض کی: ”کیا آپ ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنا چاہتے ہیں، اس طرح آپ اللہ کے حرم کو حلال خیال کریں گے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ” «مَعَاذَ اللّٰہِ» ”اللہ کی پناہ!“ یہ تو اللہ تعالیٰ نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ اور بنو امیہ ہی کے مقدر میں لکھ دیا ہے کہ حرم پاک کی بے حرمتی کریں۔ اللہ کی قسم! میں تو کسی صورت میں اس بے حرمتی کے لیے تیار نہیں ہوں۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے مجھے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے متعلق کہا تھا۔ میں نے ان سے کہا: ”مجھے ان کی خلافت تسلیم کرنے میں کیا تامل ہو سکتا ہے؟ ان کے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری تھے۔ (آپ کی مراد زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے تھی)، ان کے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار تھے۔ (ان کا اشارہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف تھا)، ان کی والدہ، یعنی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا «ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ» ”دو پٹکوں والی“ تھیں۔ ان کی خالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ام المومنین تھیں۔ ان کی پھوپھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ تھیں، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ان کی دادی ہیں، پھر وہ خود بھی اسلام میں ہمیشہ صاف کردار اور پاک دامن رہے اور قرآن مجید کے عالم ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر بنو امیہ میرے ساتھ صلہ رحمی کریں گے تو وہ قرابت اور رشتے داری کی وجہ سے میرے ساتھ صلہ رحمی کریں گے اور اگر وہ مجھ پر حکومت کریں تو حکومت کریں کیونکہ وہ ہمارے ہم پلہ اور عزت والے ہیں لیکن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے تو ابن تویت، بنو اسامہ اور بنو حمید کو ہم پر ترجیح دی ہے۔ (ان کی مراد بنو اسد کے مختلف قبائل، یعنی ابن تویت، بنو اسد اور بنو اسامہ سے تھی)۔ دوسری طرف ابن ابی العاص (یعنی عبدالملک بن مروان) بڑی عمدگی سے پیش قدمی کر رہا ہے اور اس کے برعکس ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے تو دم دبا لی ہے۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4665]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4666
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: دَخَلْنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ،فَقَالَ:" أَلَا تَعْجَبُونَ لِابْنِ الزُّبَيْرِ، قَامَ فِي أَمْرِهِ هَذَا"، فَقُلْتُ: لَأُحَاسِبَنَّ نَفْسِي لَهُ مَا حَاسَبْتُهَا لِأَبِي بَكْرٍ وَلَا لِعُمَرَ، وَلَهُمَا كَانَا أَوْلَى بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْهُ، وَقُلْتُ: ابْنُ عَمَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنُ أَخِي خَدِيجَةَ، وَابْنُ أُخْتِ عَائِشَةَ، فَإِذَا هُوَ يَتَعَلَّى عَنِّي، وَلَا يُرِيدُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَعْرِضُ هَذَا مِنْ نَفْسِي فَيَدَعُهُ، وَمَا أُرَاهُ يُرِيدُ خَيْرًا، وَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ لَأَنْ يَرُبَّنِي بَنُو عَمِّي، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَرُبَّنِي غَيْرُهُمْ".
ہم سے محمد بن عبید بن میمون نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے، ان سے عمر بن سعید نے، انہیں ابن ابی ملیکہ نے خبر دی کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ابن زبیر پر تمہیں حیرت نہیں ہوتی۔ وہ اب خلافت کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں تو میں نے ارادہ کر لیا کہ ان کے لیے محنت مشقت کروں گا کہ ایسی محنت اور مشقت میں نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے لیے بھی نہیں کی۔ حالانکہ وہ دونوں ان سے ہر حیثیت سے بہتر تھے۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کی اولاد میں سے ہیں۔ زبیر رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نواسے، خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھائی کے بیٹے، عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن کے بیٹے۔ لیکن عبداللہ بن زبیر نے کیا کیا وہ مجھ سے غرور کرنے لگے۔ انہوں نے نہیں چاہا کہ میں ان کے خاص مصاحبوں میں رہوں (اپنے دل میں کہا) مجھ کو ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ میں تو ان سے ایسی عاجزی کروں گا اور وہ اس پر بھی مجھ سے راضی نہ ہوں گے۔ خیر اب مجھے امید نہیں کہ وہ میرے ساتھ بھلائی کریں گے جو ہونا تھا وہ ہوا اب بنی امیہ جو میرے چچا زاد بھائی ہیں اگر مجھ پر حکومت کریں تو یہ مجھ کو اوروں کے حکومت کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4666]
حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا: ”ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے معاملے میں تم لوگوں کو حیرت نہیں ہوتی، اب وہ خلافت کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں؟ میں نے دل میں ارادہ کر لیا ہے کہ اب میں ان کے لیے محنت و مشقت کروں گا۔ ایسی محنت تو میں نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے لیے بھی نہیں کی، حالانکہ یہ دونوں حضرات ان سے ہر اعتبار سے بہتر تھے۔ میں نے (لوگوں سے) کہا: وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے بیٹے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نواسے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہیں۔ لیکن انہوں نے کیا کیا ہے کہ وہ مجھ سے بڑا بننے کی کوشش میں ہیں۔ وہ مجھے کسی خاطر میں نہیں لائے۔ میں نے (دل میں) کہا: مجھے ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ میں تو ان سے ایسی عاجزی کروں اور وہ اس پر بھی مجھ سے راضی نہ ہوں۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ میرے معاملے میں اب کسی قسم کی بھلائی اور خیر چاہتے ہیں۔ اب جو ہونا تھا وہ ہو چکا، لہذا بنو امیہ جو میرے چچا زاد بھائی ہیں اگر مجھ پر حکومت کریں تو یہ مجھے دوسروں کی حکومت سے زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4666]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة