🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب اتباع الجنائز من الإيمان:
باب: جنازے کے ساتھ جانا ایمان میں داخل ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 47
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَنْجُوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَكَانَ مَعَهُ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا وَيَفْرُغَ مِنْ دَفْنِهَا، فَإِنَّه يَرْجِعُ مِنَ الْأَجْرِ بِقِيرَاطَيْنِ كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيرَاطٍ"، تَابَعَهُ عُثْمَانُ الْمُؤَذِّنُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ہم سے احمد بن عبداللہ بن علی منجونی نے بیان کیا، کہا ہم سے روح نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف نے بیان کیا، انہوں نے حسن بصری اور محمد بن سیرین سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو کوئی ایمان رکھ کر اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے اور نماز اور دفن سے فراغت ہونے تک اس کے ساتھ رہے تو وہ دو قیراط ثواب لے کر لوٹے گا ہر قیراط اتنا بڑا ہو گا جیسے احد کا پہاڑ، اور جو شخص جنازے پر نماز پڑھ کر دفن سے پہلے لوٹ جائے تو وہ ایک قیراط ثواب لے کر لوٹے گا۔ روح کے ساتھ اس حدیث کو عثمان مؤذن نے بھی روایت کیا ہے۔ کہا ہم سے عوف نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن سیرین سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اگلی روایت کی طرح۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 47]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥عوف بن أبي جميلة الأعرابي، أبو سهل
Newعوف بن أبي جميلة الأعرابي ← محمد بن سيرين الأنصاري
صدوق رمي بالقدر والتشيع
👤←👥عثمان بن عمر العبدي، أبو عمرو
Newعثمان بن عمر العبدي ← عوف بن أبي جميلة الأعرابي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أبو هريرة الدوسي
Newأبو هريرة الدوسي ← عثمان بن عمر العبدي
صحابي
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥عوف بن أبي جميلة الأعرابي، أبو سهل
Newعوف بن أبي جميلة الأعرابي ← الحسن البصري
صدوق رمي بالقدر والتشيع
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← عوف بن أبي جميلة الأعرابي
ثقة
👤←👥أحمد بن عبد الله السدوسي، أبو بكر
Newأحمد بن عبد الله السدوسي ← روح بن عبادة القيسي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
47
من اتبع جنازة مسلم إيمانا واحتسابا وكان معه حتى يصلى عليها ويفرغ من دفنها فإنه يرجع من الأجر بقيراطين كل قيراط مثل أحد ومن صلى عليها ثم رجع قبل أن تدفن فإنه يرجع بقيراط
صحيح البخاري
1325
من شهد الجنازة حتى يصلي فله قيراط ومن شهد حتى تدفن كان له قيراطان
صحيح مسلم
2192
من صلى على جنازة ولم يتبعها فله قيراط فإن تبعها فله قيراطان ما القيراطان قال أصغرهما مثل أحد
صحيح مسلم
2193
من صلى على جنازة فله قيراط ومن اتبعها حتى توضع في القبر فقيراطان
صحيح مسلم
2189
من شهد الجنازة حتى يصلى عليها فله قيراط ومن شهدها حتى تدفن فله قيراطان ما القيراطان قال مثل الجبلين العظيمين
سنن النسائى الصغرى
1997
من شهد جنازة حتى يصلى عليها فله قيراط ومن شهد حتى تدفن فله قيراطان ما القيراطان يا رسول الله قال مثل الجبلين العظيمين
سنن النسائى الصغرى
1996
من صلى على جنازة فله قيراط ومن انتظرها حتى توضع في اللحد فله قيراطان القيراطان مثل الجبلين العظيمين
سنن النسائى الصغرى
1999
من تبع جنازة فصلى عليها ثم انصرف فله قيراط من الأجر ومن تبعها فصلى عليها ثم قعد حتى يفرغ من دفنها له قيراطان من الأجر كل واحد منهما أعظم من أحد
سنن النسائى الصغرى
1998
من تبع جنازة رجل مسلم احتسابا فصلى عليها ودفنها فله قيراطان ومن صلى عليها ثم رجع قبل أن تدفن يرجع بقيراط من الأجر
سنن النسائى الصغرى
5035
من اتبع جنازة مسلم إيمانا واحتسابا فصلى عليه ثم انتظر حتى يوضع في قبره كان له قيراطان أحدهما مثل أحد ومن صلى عليه ثم رجع كان له قيراط
سنن ابن ماجه
1539
من صلى على جنازة فله قيراط ومن انتظر حتى يفرغ منها فله قيراطان ما القيراطان قال مثل الجبلين
بلوغ المرام
461
من شهد الجنازة حتى يصلى عليها فله قيراط ومن شهدها حتى تدفن فله قيراطان
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 47 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 47
تشریح:
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے ان ابواب میں ایمان و اسلام کی تفصیلات بتلاتے ہوئے زکوٰۃ کی فرضیت کو قرآن شریف سے ثابت فرمایا اور بتلایا کہ زکوٰۃ دینا بھی ایمان میں داخل ہے، جو لوگ فرائض دین کو ایمان سے الگ قرار دیتے ہیں، ان کا قول درست نہیں۔ حدیث میں جس شخص کا ذکر ہے اس کا نام ضمام بن ثعلبہ تھا۔ نجد لغت میں بلند علاقہ کو کہتے ہیں، جو عرب میں تہامہ سے عراق تک پھیلا ہوا ہے۔ جنازے کے ساتھ جانا بھی ایسا نیک عمل ہے، جو ایمان میں داخل ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 47]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:47
حدیث حاشیہ:

عام طور پر آج کل ایک رسم کے طور پر جنازے میں شرکت کی جاتی ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا عزیز یا دوست ہے۔
بعض اوقات سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے بھی جنازہ پڑھا جاتا ہے، ثواب تک نظر نہیں جاتی۔
شریعت نے احتساب کا لفظ بڑھا کر اس جانب توجہ دلائی ہے کہ اگر اس عمل خیر کے ساتھ یہ نیت کرلیں کہ ہم اپنے مسلمان بھائی کا آخری حق ادا کر رہے ہیں اور مخلصانہ دعاؤں کے ساتھ اسے الوداع کر رہے ہیں تو اس سے اجر وثواب میں بہت اضافہ ہوجاتا ہے۔

اس سے مقصود بھی مرجیہ کی تردید ہے جنھوں نے طاعات کو ایمان سے بالکل الگ کردیا ہے۔
حدیث میں توجنازے میں شرکت کو داخل ایمان بتایا جارہا ہے، پھر اجر میں کمی بیشی کا بھی ذکر ہے کہ اگرصرف نماز میں شرکت ہوگی توایک قیراط دفن میں بھی شریک ہوں گے تو دوقیراط ملیں گے۔

دنیا کے پیمانے کے لحاظ سے ایک قیراط بارہ درہم کا ہوتا ہے، البتہ آخرت میں اجر و ثواب کے لحاظ سے ایک قیراط احد پہاڑ کےبرابر ہے، چنانچہ بخاری کی ایک روایت میں اس کی وضاحت ہے۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1325)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیان کردہ روایت کی جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے تصدیق کی تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرمانے لگے کہ ہم نے تو بہت قیراط ضائع کردیے۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1324)

جنازے کے متعلق تین چیزیں ہیں:
میت کے ساتھ رہنا، نماز میں شرکت کرنا، دفن تک ساتھ رہنا، اگرصرف دفن میں شریک ہوا تو اسے اجر تو ملے گا لیکن اجر موعود(جس کا وعدہ کیا گیا ہے)
سےمحروم ہوگا، یعنی اسے دو قیراط نہیں ملیں گے۔
صرف نماز کی شرکت یا صرف دفن کی شرکت سے ایک قیراط ملتا ہے۔
(فتح الباري: 146/1)
آخر میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کی متابعت بیان کی ہے، یعنی عثمان مؤذن نے روح کی موافقت کی ہے لیکن اس متابعت میں دولحاظ سے فرق ہے:
(الف)
روح کی روایت میں عوف راوی حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اور محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتا ہے۔
جبکہ عثمان مؤذن کی روایت میں صرف محمد بن سیرین سے بیان کرتا ہے۔
(ب)
روح کی روایت باللفظ ہے جبکہ عثمان مؤذن کی روایت بالمعنی ہے،اس لیے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسے (مثله)
کے بجائے (نحوه)
سے تعبیر کیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 47]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 461
مومن کی نماز جنازہ پڑھنے کا بہت بڑا ثواب ہے
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازہ کے ساتھ جائے یہاں تک کہ اس کی نماز پڑھی جائے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن ہونے کے وقت تک حاضر رہے اسے دو قیراط کے برابر اجر ملے گا . . . [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 461]
لغوی تشریح:
«قِيرَاطٰ» قاف کے نیچے کسرہ۔ نصف دانق کو قیراط کہتے ہیں اور دانق سے مرار درہم کا چھٹا حصہ ہے۔ قیراط جلدی سمجھ میں آ جانے والا پیمانہ وزن تھا، اس لیے یہ لفظ بولا گیا ہے۔ اس زمانے میں کام کی اجرت قیراط کی صورت میں دی جاتی تھی۔ چونکہ قیراط وزن کے اعتبار سے تو بالکل معمولی اور حقیر ہے، اس لیے آپ نے تنبہیہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیراط بڑا عظیم ہے اور یہی بتانا مطلوب و مقصود تھا کہ اسے دنیاوی قیراط نہ سمجھنا بلکہ وہ پہاڑوں جتنا عظیم ہے۔
«إيمَاناً وَّاحْتِسَاباً» دونوں مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ معنی یہ ہوئے کہ جنازے میں شرکت کا مقصد صرف طلب اجر و ثواب ہو، کوئی اور غرض نہ ہو۔ دکھلاوا اور اہل میت کے ہاں حاضری لگوانے کی نیت نہ ہو۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دونوں الفاظ حال واقع ہو رہے ہیں، یعنی جنازہ اسی حالت میں پڑھے کہ وہ مومن ہو اور ثواب کے لیے پرامید ہو۔ اس صورت میں «إيِمَانَا وَّاحْتِسَاباً» بمعنی «مُومَناً مُحْتَسِباً» ہوں گے۔

فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث میں جنازے کے ساتھ چلنے اور نماز جنازہ ادا کرنے کے ثواب کو تمثیل کے رنگ میں بیان کیا گیا ہے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ مومن کی نماز جنازہ پڑھنے کا بہت بڑا ثواب ہے۔
➋ اس حدیث میں اہل ایمان کو ترغیب دلائی گئی ہے کہ جنازے میں شرکت کا اہتمام کریں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 461]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1996
نماز جنازہ پڑھنے والوں کے ثواب کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کی نماز جنازہ پڑھی، تو اسے ایک قیراط ملے گا، اور جس نے اسے قبر میں رکھے جانے تک انتظار کیا، تو اسے دو قیراط ملے گا، اور دو قیراط دو بڑے پہاڑوں کے مثل ہیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1996]
1996۔ اردو حاشیہ: دیکھیے، حدیث: 1942۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1996]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1999
نماز جنازہ پڑھنے والوں کے ثواب کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی جنازے کے ساتھ جائے (اور) اس پر نماز جنازہ پڑھے پھر لوٹ آئے، تو اسے ایک قیراط کا ثواب ہے، اور جو (جنازہ میں) شریک ہو، (اور) اس پر نماز جنازہ پڑھے پھر بیٹھا رہے یہاں تک کہ اسے دفنا کر فارغ ہو لیا جائے، تو اس کا اجر دو قیراط ہے، ان میں سے ہر ایک قیراط احد (پہاڑ) سے زیادہ بڑا ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1999]
1999۔ اردو حاشیہ: بیٹھا رہے۔ مراد ٹھہرنا ہے، خواہ بیٹھے یا کھڑا رہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1999]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1539
نماز جنازہ پڑھنے اور دفن تک انتظار کرنے کا ثواب۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز جنازہ پڑھی، اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو دفن سے فراغت تک انتظار کرتا رہا، اسے دو قیراط ثواب ہے لوگوں نے عرض کیا: دو قیراط کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو پہاڑ کے برابر۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1539]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جس طرح مسلمانوں کاجنازہ پڑھنا فرض ہے۔
اسی طرح اسے دفن کرنا بھی ضروری ہے۔
ان دونوں کاموں کےلئے عام مسلمانوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔
لہٰذا جس طرح ثواب کی نیت سے نماز جنازہ میں شرکت کی کوشش کی جاتی ہے۔
اسی طرح قبر کھودنے، میت کودفن کرنے اور قبر کوبرابر کرنے میں بھی زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔

(2)
جس طرح نماز جنازہ میں میت کےلئے دعا کی جاتی ہے۔
اس طرح دفن کرنے کےبعد بھی اس کی ثابت قدمی کےلئے اور سوالوں کے جواب کی توفیق کےلئے دعا کی جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کو دفن کرکے فارغ ہوتے تو قبر کے پاس کھڑے ہوکرفرماتے اپنے بھائی کے حق میں دعائے مغفرت کرو۔
اور اس کے لئے ثابت قدمی کی دعا کرو۔
کیونکہ اس سے اب سوال ہورہا ہے۔ (سنن ابی داؤد، الجنائز، باب الاستغفار عند لقبر للمیت فی وقت الانصراف، حدیث: 3221)

(3)
قیراط قدیم دور کی ایک سکہ اور ایک وزن ہے۔
علامہ ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ نے قیراط کو دینار کا بیسواں یا چوبیسواں حصہ قرار دیا ہے۔
دیکھئے: (النھایة، مادہ قرط)
علامہ وحید الزمان رحمۃ اللہ علیہ نے قیراط کا وزن درہم کا بارہواں حصہ بتلایا ہے جس کا انداز ہ دو رتی بیان فرمایا ہے۔
آجکل گرام کے پانچویں حصے (200ملی گرام)
کو قیراط یا کیرٹ کہتے ہیں۔
حدیث میں اس سے مراد ثواب کی ایک خاص مقدار ہے جو پہاڑ کے برابر ہے۔
ایک روایت میں احد پہاڑ کے برابر کے الفاظ بھی وارد ہیں۔
دیکھئے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 1540)

(4)
شاگرد کو چاہیے کہ اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو استاد سے پوچھ لے اور استاد کو بھی دوبارہ وضاحت کرنے میں تامل نہیں کرنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1539]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1325
1325. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص جنازے میں شریک ہوا یہاں تک کہ نماز جنازہ پڑھا تو اس کے لیے ایک قیراط کا ثواب ہے۔ اور جو کوئی جنازے میں اس کے دفن ہونے تک شریک رہا اسے دوقیراط ثواب ملتا ہے۔ کہا گیا:یہ دوقیراط کیا ہیں؟آپ نے فرمایا: دو بڑے بڑے پہاڑوں کی مانند ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1325]
حدیث حاشیہ:
یعنی دنیا کا قیراط مت سمجھو جو درہم کا بارہواں حصہ ہوتا ہے۔
دوسری روایت میں ہے کہ آخرت کے قیراط احد پہاڑ کے برابر ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1325]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1325
1325. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص جنازے میں شریک ہوا یہاں تک کہ نماز جنازہ پڑھا تو اس کے لیے ایک قیراط کا ثواب ہے۔ اور جو کوئی جنازے میں اس کے دفن ہونے تک شریک رہا اسے دوقیراط ثواب ملتا ہے۔ کہا گیا:یہ دوقیراط کیا ہیں؟آپ نے فرمایا: دو بڑے بڑے پہاڑوں کی مانند ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1325]
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث میں مذکور ثواب کے لیے ضروری ہے کہ انسان نماز جنازہ میں شرکت ایمان اور طلب ثواب کی نیت سے کرے۔
صرف برادری کا احسان اتارنے کے لیے یا اپنا بھرم قائم رکھنے کے لیے شرکت کرتا ہے تو اس کے لیے کوئی ثواب نہیں ہو گا، جیسا کہ حدیث میں ہے:
جو شخص ایما اور حصول ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے میں شرکت کرتا ہے اور دفن کرنے تک شریک رہتا ہے وہ دو قیراط ثواب لے کر واپس ہو گا۔
اور ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہے۔
(صحیح البخاري، الإیمان، حدیث: 47)
سنن نسائی کی روایت میں ہے کہ ایک قیراط جبل اُحد سے بھی بڑا ہے۔
(سنن النسائي، الجنائز، حدیث: 1999)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا قیراط جب میزان میں رکھا جائے گا تو اُحد پہاڑ سے بھی بھاری ہو گا۔
(فتح الباري: 253/2) (2)
اس روایت میں میت کے حقوق ادا کرنے کی ترغیب ہے اور اس کی ادائیگی پر عظیم ترین ثواب بیان کر کے اس طرح کے اعمال حسنہ کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1325]