🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب قوله: {والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التى حرم الله إلا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك يلق أثاما} العقوبة:
باب: آیت کی تفسیر ”اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جس (انسان) کی جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے وہ قتل نہیں کرتے، مگر ہاں حق پر اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی ایسا کرے گا اسے سزا بھگتنی ہی پڑے گی“ «أثاما» کے معنی عقوبت و سزا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4762
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ:" أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، هَلْ لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68، فَقَالَ سَعِيدٌ: قَرَأْتُهَا عَلَىابْنِ عَبَّاسٍ كَمَا قَرَأْتَهَا عَلَيَّ، فَقَالَ: هَذِهِ مَكِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ الَّتِي فِي سُورَةِ النِّسَاءِ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے قاسم بن ابی بزہ نے خبر دی، انہوں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو کیا اس کی اس گناہ سے توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ (ابن ابی بزہ نے بیان کیا کہ) میں نے اس پر یہ آیت پڑھی «ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق‏» کہ اور جس جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہ کرتے، مگر ہاں حق کے ساتھ۔ سعید بن جبیر نے کہا کہ میں نے بھی یہ آیت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے پڑھی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ مکی آیت اور مدنی آیت جو اس سلسلہ میں سورۃ نساء میں ہے اس سے اس کا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4762]
حضرت قاسم بن ابو بزہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ اور میں نے ان کے سامنے یہ آیت بھی پڑھی: ﴿وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ [سورة الفرقان: 68] وہ کسی کو ناحق قتل نہیں کرتے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی یہ آیت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے اسی طرح پڑھی تھی جیسے تو نے میرے سامنے اسے پڑھا ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ آیت مکی ہے، اس کو سورہ نساء کی مدنی آیت نے منسوخ کر دیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4762]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥القاسم بن أبي بزة، أبو عاصم، أبو عبد الله
Newالقاسم بن أبي بزة ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← القاسم بن أبي بزة
ثقة
👤←👥هشام بن يوسف الأبناوي، أبو عبد الرحمن
Newهشام بن يوسف الأبناوي ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن موسى التميمي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن موسى التميمي ← هشام بن يوسف الأبناوي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4762 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4762
حدیث حاشیہ:

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا موقف تھا کہ قاتل کے لیے کوئی توبہ نہیں۔
سورہ فرقان کی جس آیت میں قاتل کے لیے توبہ کا ذکر ہے وہ مکی سورت ہے جسے سورہ نساء کی مندرجہ ذیل مدنی آیت نے منسوخ کردیا ہے:
اور جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرڈالے تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔
اس پر اللہ تعالیٰ کاغضب ہے۔
اس پر اللہ نے لعنت کی ہے اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کررکھا ہے۔
(النساء: 93/4)

بہرحال حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا موقف جمہور اہل علم کے خلاف ہے۔
ممکن ہے کہ انھوں نے بہت سدباب کے طور پر یہ مسلک اختیار کیا ہو یااستحلال (جو قتل کرنا حلال سمجھتا ہو)
پرمحمول کرکے فرمایا ہوورنہ توبہ سے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
اس کی تفصیل ہم نے حدیث: 4590 کے فوائد میں بیان کی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4762]

Sahih Bukhari Hadith 4762 in Urdu