علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب قوله: {إن الله وملائكته يصلون على النبى يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه وسلموا تسليما} :
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھتیجے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی آپ پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو“۔
حدیث نمبر: Q4797
قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ: صَلَاةُ اللَّهِ ثَنَاؤُهُ عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَلَائِكَةِ وَصَلَاةُ الْمَلَائِكَةِ الدُّعَاءُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يُصَلُّونَ: يُبَرِّكُونَ، لَنُغْرِيَنَّكَ: لَنُسَلِّطَنَّكَ.
ابو العالیہ نے کہا لفظ «صلاة» کی نسبت اگر اللہ کی طرف ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ نبی کی فرشتوں کے سامنے ثناء و تعریف کرتا ہے اور اگر ملائکہ کی طرف ہو تو دعا رحمت اس سے مراد لی جاتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ (آیت میں) «يصلون» بمعنی برکت کی دعا کرنے کے ہے۔ «لنغرينك» ای «لنسلطنك» ۔ یعنی ہم تجھ کو ضرور ان پر مسلط کر دیں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4797]
حدیث نمبر: 4797
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَّا السَّلَامُ عَلَيْكَ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟ قَالَ:" قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
مجھ سے سعید بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ پر سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے، لیکن آپ پر «صلاة» کا کیا طریقہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں پڑھا کرو «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد، كما صليت على آل إبراهيم، إنك حميد مجيد، اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد، كما باركت على آل إبراهيم، إنك حميد مجيد".» ۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4797]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4797
| اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد |
صحيح البخاري |
3370
| اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد |
صحيح البخاري |
6357
| اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد |
صحيح مسلم |
908
| اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد |
جامع الترمذي |
483
| اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد |
سنن أبي داود |
976
| اللهم صل على محمد وآل محمد كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وآل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد |
سنن النسائى الصغرى |
1290
| اللهم صل على محمد وآل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وآل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد |
سنن النسائى الصغرى |
1288
| اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد |
سنن النسائى الصغرى |
1289
| اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وآل إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وآل إبراهيم إنك حميد مجيد |
سنن ابن ماجه |
904
| اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد |
المعجم الصغير للطبراني |
207
| اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد |
المعجم الصغير للطبراني |
203
| اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد |
مسندالحميدي |
728
|
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4797 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4797
حدیث حاشیہ:
ترجمہ:
اے اللہ ہمارے محبوب رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی رحمتیں نازل فرما اور آپ کی اولاد پر بھی جس طرح تو نے حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد پر رحمتیں نازل کی ہیں بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے۔
اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر برکتیں نازل فرما اور آپ کی اولاد پر بھی جیسی برکتیں تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد پر نازل کی ہیں بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے۔
ترجمہ:
اے اللہ ہمارے محبوب رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی رحمتیں نازل فرما اور آپ کی اولاد پر بھی جس طرح تو نے حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد پر رحمتیں نازل کی ہیں بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے۔
اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر برکتیں نازل فرما اور آپ کی اولاد پر بھی جیسی برکتیں تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد پر نازل کی ہیں بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4797]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 976
تشہد کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) پڑھنے کا بیان۔
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے یا لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درود و سلام بھیجا کریں، آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے لیکن ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «اللهم صل على محمد وآل محمد كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وآل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» یعنی ”اے اللہ! محمد اور آل محمد پر درود بھیج ۱؎ جس طرح تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے اور محمد اور آل محمد پر اپنی برکت ۲؎ نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہے، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگ ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 976]
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے یا لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درود و سلام بھیجا کریں، آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے لیکن ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «اللهم صل على محمد وآل محمد كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وآل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» یعنی ”اے اللہ! محمد اور آل محمد پر درود بھیج ۱؎ جس طرح تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے اور محمد اور آل محمد پر اپنی برکت ۲؎ نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہے، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگ ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 976]
976۔ اردو حاشیہ:
➊ قرآن مجید میں ہے: «إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا» [الاحزاب۔ 56]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر رحمت نازل کرتا ہے اور فرشتے آپ کے لئے دعا کرتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر درود بھیجو اور سلام کہو، سلام کہنا۔“
لغت عربی میں «صلاة» کا معنی ہے دعائے رحمت و مغفرت اور حسن ثناء۔ اس کی نسبت جب اللہ کی طرف ہوتی ہے، تو اس کا ترجمہ ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندے پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے، اس کے درجات بلند کرتا ہے اور ملکوت میں اس کی ثناء فرماتا ہے۔ اور جب اس کی نسبت ملائکہ یا مومنین کی طرف ہوتی ہے، تو اس کا مفہوم ان امور کی طلب اور دعا ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے صلاۃ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعت ذکر و شان، اظہار دعوت، ابقاء شریعت، تکثیر اجر و ثواب اور بعثت مقام محمود سبھی شامل ہیں۔ اور ان سب مفاہیم کو ہماری اردو زبان میں فارسی لفظ ”درود“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس مسئلے کی شرح و بسط کے لئے علامہ خفاجی رحمہ اللہ کی نسیم الریاض شرح شفا قاضی عیاض اور امام ابن القیم کی جلاء الافہام دیکھنی چاہیے۔ اس کا اردو ترجمہ جو قاضی سلمان منصور پوری نے کیا تھا۔ اسے دارالسلام نے ”الصلواۃ والسلام علیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “ کے عنوان سے نہایت دیدہ زیب انداز میں شائع کیا۔
➊ «فاما السلام فقد عرفنا» ”سلام کہنا تو ہم نے جان لیا ہے“ یعنی جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم فرمایا ہے، ملاقات کے موقع پر «السلام عليك يا رسول الله» کہنا اور نماز میں «السلام عليك ايها النبي ورحمة الله و بركاته» پڑھنا۔
➊ قرآن مجید میں ہے: «إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا» [الاحزاب۔ 56]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر رحمت نازل کرتا ہے اور فرشتے آپ کے لئے دعا کرتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر درود بھیجو اور سلام کہو، سلام کہنا۔“
لغت عربی میں «صلاة» کا معنی ہے دعائے رحمت و مغفرت اور حسن ثناء۔ اس کی نسبت جب اللہ کی طرف ہوتی ہے، تو اس کا ترجمہ ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندے پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے، اس کے درجات بلند کرتا ہے اور ملکوت میں اس کی ثناء فرماتا ہے۔ اور جب اس کی نسبت ملائکہ یا مومنین کی طرف ہوتی ہے، تو اس کا مفہوم ان امور کی طلب اور دعا ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے صلاۃ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعت ذکر و شان، اظہار دعوت، ابقاء شریعت، تکثیر اجر و ثواب اور بعثت مقام محمود سبھی شامل ہیں۔ اور ان سب مفاہیم کو ہماری اردو زبان میں فارسی لفظ ”درود“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس مسئلے کی شرح و بسط کے لئے علامہ خفاجی رحمہ اللہ کی نسیم الریاض شرح شفا قاضی عیاض اور امام ابن القیم کی جلاء الافہام دیکھنی چاہیے۔ اس کا اردو ترجمہ جو قاضی سلمان منصور پوری نے کیا تھا۔ اسے دارالسلام نے ”الصلواۃ والسلام علیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “ کے عنوان سے نہایت دیدہ زیب انداز میں شائع کیا۔
➊ «فاما السلام فقد عرفنا» ”سلام کہنا تو ہم نے جان لیا ہے“ یعنی جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم فرمایا ہے، ملاقات کے موقع پر «السلام عليك يا رسول الله» کہنا اور نماز میں «السلام عليك ايها النبي ورحمة الله و بركاته» پڑھنا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 976]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1288
ایک اور طرح کی صلاۃ (درود) کا بیان۔
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہم جان چکے ہیں، صلاۃ (درود) کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا: اس طرح کہو: «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللہم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! محمد اور آل محمد پر تو اسی طرح صلاۃ (درود) بھیج جیسے تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے، یقیناً تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے، اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اسی طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو حمید و مجید یعنی تعریف اور بزرگی کے لائق ہے۔“ ابن ابی لیلیٰ نے کہا: اور ہم لوگ «وعلينا معهم» ”اور ان لوگوں کے ساتھ ہم پر بھی“ کہتے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ سند ہمارے شیخ قاسم نے ہم سے اپنی کتاب سے بیان کی ہے، اور یہ غلط ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1288]
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہم جان چکے ہیں، صلاۃ (درود) کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا: اس طرح کہو: «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللہم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! محمد اور آل محمد پر تو اسی طرح صلاۃ (درود) بھیج جیسے تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے، یقیناً تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے، اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اسی طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو حمید و مجید یعنی تعریف اور بزرگی کے لائق ہے۔“ ابن ابی لیلیٰ نے کہا: اور ہم لوگ «وعلينا معهم» ”اور ان لوگوں کے ساتھ ہم پر بھی“ کہتے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ سند ہمارے شیخ قاسم نے ہم سے اپنی کتاب سے بیان کی ہے، اور یہ غلط ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1288]
1288۔ اردو حاشیہ:
➊ اس غلطی کی وضاحت آئندہ روایت میں آرہی ہے کہ سلیمان کے استاد عمرو بن مرہ نہیں بلکہ حکم ہیں جیسا کہ حدیث: 1289 کی سند سے صاف معلوم ہو رہا ہے۔ لطیفہ یہ ہے کہ یہ روایت بھی قاسم بن زکریا ہی سے ہے۔ گویا انہوں نے ایک دفعہ سلیمان کے استاد کا نام عمرو بن مرہ بتایا، ایک دفعہ حکم۔ لیکن پہلی سند غلط ہے دوسری صحیح ہے کیونکہ اس کی تائید دوسرے راوی بھی کرتے ہیں، مثلاً: (دیکھیے حدیث: 1290 کی سند) واللہ أعلم۔
➋ یہ آخری الفاظ انہوں نے بطور دعا مزید کہے جن کا اصل حدیث سے کوئی تعلق نہیں، یعنی یہ درود کا حصہ نہیں۔
➊ اس غلطی کی وضاحت آئندہ روایت میں آرہی ہے کہ سلیمان کے استاد عمرو بن مرہ نہیں بلکہ حکم ہیں جیسا کہ حدیث: 1289 کی سند سے صاف معلوم ہو رہا ہے۔ لطیفہ یہ ہے کہ یہ روایت بھی قاسم بن زکریا ہی سے ہے۔ گویا انہوں نے ایک دفعہ سلیمان کے استاد کا نام عمرو بن مرہ بتایا، ایک دفعہ حکم۔ لیکن پہلی سند غلط ہے دوسری صحیح ہے کیونکہ اس کی تائید دوسرے راوی بھی کرتے ہیں، مثلاً: (دیکھیے حدیث: 1290 کی سند) واللہ أعلم۔
➋ یہ آخری الفاظ انہوں نے بطور دعا مزید کہے جن کا اصل حدیث سے کوئی تعلق نہیں، یعنی یہ درود کا حصہ نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1288]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 483
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا طریقہ۔
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا، اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہم نے جان لیا ہے ۱؎ لیکن آپ پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا طریقہ کیا ہے؟۔ آپ نے فرمایا: ”کہو: «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد» ۲؎ ”اے اللہ! محمد اور آل محمد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی ہے، یقیناً تو حمید (تعریف کے قابل) اور مجید (بزرگی والا) ہے، اور محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/أبواب الوتر/حدیث: 483]
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا، اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہم نے جان لیا ہے ۱؎ لیکن آپ پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا طریقہ کیا ہے؟۔ آپ نے فرمایا: ”کہو: «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد» ۲؎ ”اے اللہ! محمد اور آل محمد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی ہے، یقیناً تو حمید (تعریف کے قابل) اور مجید (بزرگی والا) ہے، اور محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/أبواب الوتر/حدیث: 483]
اردو حاشہ:
1؎:
اس سے مراد وہ سلام ہے جو ((التحیات)) میں پڑھا جاتا ہے۔
2؎:
مؤلف نے درود ابراہیمی کے سلسلے میں مروی صرف ایک روایت کا ذکر کیا ہے،
اس باب میں کئی ایک روایات میں متعدد الفاظ وارد ہوئے ہیں،
عام طور پر جو درود ابراہیمی پڑھا جاتا ہے وہ صحیح طرق سے مروی ہے۔
1؎:
اس سے مراد وہ سلام ہے جو ((التحیات)) میں پڑھا جاتا ہے۔
2؎:
مؤلف نے درود ابراہیمی کے سلسلے میں مروی صرف ایک روایت کا ذکر کیا ہے،
اس باب میں کئی ایک روایات میں متعدد الفاظ وارد ہوئے ہیں،
عام طور پر جو درود ابراہیمی پڑھا جاتا ہے وہ صحیح طرق سے مروی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 483]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3370
3370. حضرت عبد الرحمٰن بن ابو لیلیٰ سے روایت ہے، انھوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میری حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے فرمایا: کیا میں تمھیں ایک تحفہ نہ دوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، مجھے وہ تحفہ ضرور عنایت کریں۔ انھوں نےبیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاتھا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ پر اور آپ کے اہل بیت پر کس طرح درود بھیجا کریں؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو خود ہی ہمیں سکھا دیاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں کہا کرو۔ اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل پر رحمت نازل فر ما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد پر رحمت نازل فرمائی تھی۔ بلا شبہ تو خوبیوں والا، عظمت والا ہے۔ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج اولاد پر برکت نازل فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد پر برکت نازل فرمائی تھی بلاشبہ تو خوبیوں والا عظمت والا ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3370]
حدیث حاشیہ:
تَشرِیح:
اہل بیت یعنی حضرت علی ؓ و حضرت فاطمہ ؓ اور حسنین ؓ مراد ہیں۔
تَشرِیح:
اہل بیت یعنی حضرت علی ؓ و حضرت فاطمہ ؓ اور حسنین ؓ مراد ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3370]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3370
3370. حضرت عبد الرحمٰن بن ابو لیلیٰ سے روایت ہے، انھوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میری حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے فرمایا: کیا میں تمھیں ایک تحفہ نہ دوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، مجھے وہ تحفہ ضرور عنایت کریں۔ انھوں نےبیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاتھا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ پر اور آپ کے اہل بیت پر کس طرح درود بھیجا کریں؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو خود ہی ہمیں سکھا دیاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں کہا کرو۔ اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل پر رحمت نازل فر ما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد پر رحمت نازل فرمائی تھی۔ بلا شبہ تو خوبیوں والا، عظمت والا ہے۔ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج اولاد پر برکت نازل فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد پر برکت نازل فرمائی تھی بلاشبہ تو خوبیوں والا عظمت والا ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3370]
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام پڑھنے کا خود اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ ”اے ایمان والو! تم اپنے نبی پردرود و سلام بھیجا کرو۔
“ (الأحزاب: 56/33)
2۔
ہمارے ہاں بعض حضرات اس حکم کی تعمیل میں ایک خود ساختہ درود وسلام پڑھتے ہیں۔
یعنی الصلاة والسلام علیك یا رسول اللہ کہتے ہیں۔
اس سے فاسد اور شرکیہ عقیدے کا اظہار ہوتا ہے لہٰذا یہ پڑھنا درست نہیں بلکہ مسنون درود وسلام پڑھنا چاہیے۔
مذکورہ درود سلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا آپ کے صحابہ کرام ؓ سے ثابت نہیں ہے حدیث میں ذکر کردہ درود کی تعلیم خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے اور سلام پڑھنا ہمیں تشہد میں سکھایا گیا ہے۔
اور وہ یہ ہے۔
(السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ)
3۔
اس حدیث میں آپ سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر مال زکاۃ حرام ہے۔
درود سے مراد یہ ہے کہ آپ کی آل و اولاد خیرو برکت کے ساتھ دنیا میں ہمیشہ باقی رہے گی۔
4۔
اس درود میں ابراہیم اور آل ابراہیم کا ذکر ہے اس لیے امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام پڑھنے کا خود اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ ”اے ایمان والو! تم اپنے نبی پردرود و سلام بھیجا کرو۔
“ (الأحزاب: 56/33)
2۔
ہمارے ہاں بعض حضرات اس حکم کی تعمیل میں ایک خود ساختہ درود وسلام پڑھتے ہیں۔
یعنی الصلاة والسلام علیك یا رسول اللہ کہتے ہیں۔
اس سے فاسد اور شرکیہ عقیدے کا اظہار ہوتا ہے لہٰذا یہ پڑھنا درست نہیں بلکہ مسنون درود وسلام پڑھنا چاہیے۔
مذکورہ درود سلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا آپ کے صحابہ کرام ؓ سے ثابت نہیں ہے حدیث میں ذکر کردہ درود کی تعلیم خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے اور سلام پڑھنا ہمیں تشہد میں سکھایا گیا ہے۔
اور وہ یہ ہے۔
(السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ)
3۔
اس حدیث میں آپ سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر مال زکاۃ حرام ہے۔
درود سے مراد یہ ہے کہ آپ کی آل و اولاد خیرو برکت کے ساتھ دنیا میں ہمیشہ باقی رہے گی۔
4۔
اس درود میں ابراہیم اور آل ابراہیم کا ذکر ہے اس لیے امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3370]
Sahih Bukhari Hadith 4797 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← كعب بن عجرة الأنصاري