🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب : نوع آخر
باب: ایک اور طرح کی صلاۃ (درود) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1288
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَكَيْفَ الصَّلَاةُ , قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ , اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" , قَالَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى: وَنَحْنُ نَقُولُ وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدَّثَنَا بِهِ مِنْ كِتَابِهِ وَهَذَا خَطَأٌ.
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہم جان چکے ہیں، صلاۃ (درود) کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا: اس طرح کہو: «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللہم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! محمد اور آل محمد پر تو اسی طرح صلاۃ (درود) بھیج جیسے تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے، یقیناً تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے، اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اسی طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو حمید و مجید یعنی تعریف اور بزرگی کے لائق ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے کہا: اور ہم لوگ «وعلينا معهم» اور ان لوگوں کے ساتھ ہم پر بھی کہتے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ سند ہمارے شیخ قاسم نے ہم سے اپنی کتاب سے بیان کی ہے، اور یہ غلط ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1288]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 10 (3370)، تفسیر الأحزاب 10 (4797)، الدعوات 32 (6357)، صحیح مسلم/الصلاة 17 (406)، سنن ابی داود/الصلاة 183 (976، 977، 978)، سنن الترمذی/الصلاة 234 (483)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 25 (904)، (تحفة الأشراف: 11113)، مسند احمد 4/241، 243، 244، سنن الدارمی/الصلاة 85 (1381) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس کی وجہ اگلی روایت میں امام نسائی خود بیان کر رہے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥كعب بن عجرة الأنصاري، أبو محمد، أبو إسحاق، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري، أبو عيسى
Newعبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← كعب بن عجرة الأنصاري
ثقة
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة حافظ
👤←👥زائدة بن قدامة الثقفي، أبو الصلت
Newزائدة بن قدامة الثقفي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة ثبت
👤←👥الحسين بن علي الجعفي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newالحسين بن علي الجعفي ← زائدة بن قدامة الثقفي
ثقة متقن
👤←👥القاسم بن دينار القرشي، أبو محمد
Newالقاسم بن دينار القرشي ← الحسين بن علي الجعفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4797
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد
صحيح البخاري
3370
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد
صحيح البخاري
6357
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد
صحيح مسلم
908
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد
جامع الترمذي
483
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد
سنن أبي داود
976
اللهم صل على محمد وآل محمد كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وآل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد
سنن النسائى الصغرى
1290
اللهم صل على محمد وآل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وآل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد
سنن النسائى الصغرى
1288
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد
سنن النسائى الصغرى
1289
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وآل إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وآل إبراهيم إنك حميد مجيد
سنن ابن ماجه
904
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد
المعجم الصغير للطبراني
207
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد
المعجم الصغير للطبراني
203
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد
مسندالحميدي
728
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1288 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1288
1288۔ اردو حاشیہ:
➊ اس غلطی کی وضاحت آئندہ روایت میں آرہی ہے کہ سلیمان کے استاد عمرو بن مرہ نہیں بلکہ حکم ہیں جیسا کہ حدیث: 1289 کی سند سے صاف معلوم ہو رہا ہے۔ لطیفہ یہ ہے کہ یہ روایت بھی قاسم بن زکریا ہی سے ہے۔ گویا انہوں نے ایک دفعہ سلیمان کے استاد کا نام عمرو بن مرہ بتایا، ایک دفعہ حکم۔ لیکن پہلی سند غلط ہے دوسری صحیح ہے کیونکہ اس کی تائید دوسرے راوی بھی کرتے ہیں، مثلاً: (دیکھیے حدیث: 1290 کی سند) واللہ أعلم۔
➋ یہ آخری الفاظ انہوں نے بطور دعا مزید کہے جن کا اصل حدیث سے کوئی تعلق نہیں، یعنی یہ درود کا حصہ نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1288]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 976
تشہد کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) پڑھنے کا بیان۔
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے یا لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درود و سلام بھیجا کریں، آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے لیکن ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «اللهم صل على محمد وآل محمد كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وآل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» یعنی اے اللہ! محمد اور آل محمد پر درود بھیج ۱؎ جس طرح تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے اور محمد اور آل محمد پر اپنی برکت ۲؎ نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہے، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگ ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 976]
976۔ اردو حاشیہ:
➊ قرآن مجید میں ہے: «إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا» [الاحزاب۔ 56]
بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر رحمت نازل کرتا ہے اور فرشتے آپ کے لئے دعا کرتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر درود بھیجو اور سلام کہو، سلام کہنا۔
لغت عربی میں «صلاة» کا معنی ہے دعائے رحمت و مغفرت اور حسن ثناء۔ اس کی نسبت جب اللہ کی طرف ہوتی ہے، تو اس کا ترجمہ ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندے پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے، اس کے درجات بلند کرتا ہے اور ملکوت میں اس کی ثناء فرماتا ہے۔ اور جب اس کی نسبت ملائکہ یا مومنین کی طرف ہوتی ہے، تو اس کا مفہوم ان امور کی طلب اور دعا ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے صلاۃ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعت ذکر و شان، اظہار دعوت، ابقاء شریعت، تکثیر اجر و ثواب اور بعثت مقام محمود سبھی شامل ہیں۔ اور ان سب مفاہیم کو ہماری اردو زبان میں فارسی لفظ درود سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس مسئلے کی شرح و بسط کے لئے علامہ خفاجی رحمہ اللہ کی نسیم الریاض شرح شفا قاضی عیاض اور امام ابن القیم کی جلاء الافہام دیکھنی چاہیے۔ اس کا اردو ترجمہ جو قاضی سلمان منصور پوری نے کیا تھا۔ اسے دارالسلام نے الصلواۃ والسلام علیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان سے نہایت دیدہ زیب انداز میں شائع کیا۔
«فاما السلام فقد عرفنا» سلام کہنا تو ہم نے جان لیا ہے یعنی جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم فرمایا ہے، ملاقات کے موقع پر «السلام عليك يا رسول الله» کہنا اور نماز میں «السلام عليك ايها النبي ورحمة الله و بركاته» پڑھنا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 976]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 483
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا طریقہ۔
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا، اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہم نے جان لیا ہے ۱؎ لیکن آپ پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا طریقہ کیا ہے؟۔ آپ نے فرمایا: کہو: «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد» ۲؎ اے اللہ! محمد اور آل محمد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی ہے، یقیناً تو حمید (تعریف کے قابل) اور مجید (بزرگی والا) ہے، اور محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/أبواب الوتر​/حدیث: 483]
اردو حاشہ:
1؎:
اس سے مراد وہ سلام ہے جو ((التحیات)) میں پڑھا جاتا ہے۔

2؎:
مؤلف نے درود ابراہیمی کے سلسلے میں مروی صرف ایک روایت کا ذکر کیا ہے،
اس باب میں کئی ایک روایات میں متعدد الفاظ وارد ہوئے ہیں،
عام طور پر جو درود ابراہیمی پڑھا جاتا ہے وہ صحیح طرق سے مروی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 483]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3370
3370. حضرت عبد الرحمٰن بن ابو لیلیٰ سے روایت ہے، انھوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میری حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے فرمایا: کیا میں تمھیں ایک تحفہ نہ دوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، مجھے وہ تحفہ ضرور عنایت کریں۔ انھوں نےبیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاتھا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ پر اور آپ کے اہل بیت پر کس طرح درود بھیجا کریں؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو خود ہی ہمیں سکھا دیاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں کہا کرو۔ اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل پر رحمت نازل فر ما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد پر رحمت نازل فرمائی تھی۔ بلا شبہ تو خوبیوں والا، عظمت والا ہے۔ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج اولاد پر برکت نازل فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد پر برکت نازل فرمائی تھی بلاشبہ تو خوبیوں والا عظمت والا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3370]
حدیث حاشیہ:
تَشرِیح:
اہل بیت یعنی حضرت علی ؓ و حضرت فاطمہ ؓ اور حسنین ؓ مراد ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3370]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4797
4797. حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے روایت ہے کہ عرض کی گئی: اللہ کے رسول! آپ پر سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو گیا لیکن آپ پر "صلاۃ" کا کیا طریقہ ہے؟ آپ نے فرمایا: یوں پڑھا کرو: اے اللہ! تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی رحمتیں نازل فرما اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر بھی، جس طرح تو نے حضرت ابراہیم ؑ کی آل پر رحمتیں نازل کی ہیں۔ بےشک تو قابل تعریف ہے، بزرگ ہے۔ اے اللہ! تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر برکتیں نازل فرما اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد پر بھی، جس طرح تو نے حضرت ابراہیم ؑ کی آل پر نازل فرمائی ہے۔ بےشک تو قابل تعریف ہے، بزرگ ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4797]
حدیث حاشیہ:
ترجمہ:
اے اللہ ہمارے محبوب رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی رحمتیں نازل فرما اور آپ کی اولاد پر بھی جس طرح تو نے حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد پر رحمتیں نازل کی ہیں بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے۔
اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر برکتیں نازل فرما اور آپ کی اولاد پر بھی جیسی برکتیں تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد پر نازل کی ہیں بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4797]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3370
3370. حضرت عبد الرحمٰن بن ابو لیلیٰ سے روایت ہے، انھوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میری حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے فرمایا: کیا میں تمھیں ایک تحفہ نہ دوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، مجھے وہ تحفہ ضرور عنایت کریں۔ انھوں نےبیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاتھا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ پر اور آپ کے اہل بیت پر کس طرح درود بھیجا کریں؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو خود ہی ہمیں سکھا دیاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں کہا کرو۔ اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل پر رحمت نازل فر ما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد پر رحمت نازل فرمائی تھی۔ بلا شبہ تو خوبیوں والا، عظمت والا ہے۔ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج اولاد پر برکت نازل فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد پر برکت نازل فرمائی تھی بلاشبہ تو خوبیوں والا عظمت والا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3370]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام پڑھنے کا خود اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ اے ایمان والو! تم اپنے نبی پردرود و سلام بھیجا کرو۔
(الأحزاب: 56/33)

ہمارے ہاں بعض حضرات اس حکم کی تعمیل میں ایک خود ساختہ درود وسلام پڑھتے ہیں۔
یعنی الصلاة والسلام علیك یا رسول اللہ کہتے ہیں۔
اس سے فاسد اور شرکیہ عقیدے کا اظہار ہوتا ہے لہٰذا یہ پڑھنا درست نہیں بلکہ مسنون درود وسلام پڑھنا چاہیے۔
مذکورہ درود سلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا آپ کے صحابہ کرام ؓ سے ثابت نہیں ہے حدیث میں ذکر کردہ درود کی تعلیم خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے اور سلام پڑھنا ہمیں تشہد میں سکھایا گیا ہے۔
اور وہ یہ ہے۔
(السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ)

اس حدیث میں آپ سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر مال زکاۃ حرام ہے۔
درود سے مراد یہ ہے کہ آپ کی آل و اولاد خیرو برکت کے ساتھ دنیا میں ہمیشہ باقی رہے گی۔

اس درود میں ابراہیم اور آل ابراہیم کا ذکر ہے اس لیے امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3370]