صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب قوله: {ويؤثرون على أنفسهم} الآية:
باب: آیت کی تفسیر ”اور اپنے سے مقدم رکھتے ہیں“ آخرت آیت تک۔
حدیث نمبر: Q4889
الْخَصَاصَةُ الْفَاقَةُ الْمُفْلِحُونَ الْفَائِزُونَ بِالْخُلُودِ وَالْفَلَاحُ الْبَقَاءُ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ عَجِّلْ، وَقَالَ الْحَسَنُ: حَاجَةً حَسَدًا.
«الخصاصة» کے معنی فاقہ کے ہیں۔ «المفلحون» ہمیشہ کامیاب رہنے والے۔ «الفلاح» باقی رہنا۔ «حي على الفلاح» بقا کی طرف جلد آؤ یعنی اس کام کی طرف جس سے حیات ابدی حاصل ہو اور امام حسن بصری نے کہا «لا يجيدون في صدورهم»، «حاجة» میں «حاجت» سے «حسد» مراد ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4889]
حدیث نمبر: 4889
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَنِي الْجَهْدُ، فَأَرْسَلَ إِلَى نِسَائِهِ، فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُنَّ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا رَجُلٌ يُضَيِّفُهُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ"، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: ضَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدَّخِرِيهِ شَيْئًا، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عِنْدِي إِلَّا قُوتُ الصِّبْيَةِ، قَالَ: فَإِذَا أَرَادَ الصِّبْيَةُ الْعَشَاءَ فَنَوِّمِيهِمْ وَتَعَالَيْ، فَأَطْفِئِي السِّرَاجَ، وَنَطْوِي بُطُونَنَا اللَّيْلَةَ، فَفَعَلَتْ، ثُمَّ غَدَا الرَّجُلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَقَدْ عَجِبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ ضَحِكَ مِنْ فُلَانٍ وَفُلَانَةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ سورة الحشر آية 9".
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن غزوان نے بیان کیا، ان سے ابوحازم اشجعی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب خود (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فاقہ سے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ازواج مطہرات کے پاس بھیجا (کہ وہ آپ کی دعوت کریں) لیکن ان کے پاس کوئی چیز کھانے کی نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا کوئی شخص ایسا نہیں جو آج رات اس مہمان کی میزبانی کرے؟ اللہ اس پر رحم کرے گا۔ اس پر ایک انصاری صحابی (ابوطلحہ) کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آج میرے مہمان ہیں پھر وہ انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہیں، کوئی چیز ان سے بچا کے نہ رکھنا۔ بیوی نے کہا اللہ کی قسم میرے پاس اس وقت بچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔ انصاری صحابی نے کہا اگر بچے کھانا مانگیں تو انہیں سلا دو اور آؤ یہ چراغ بھی بجھا دو، آج رات ہم بھوکے ہی رہ لیں گے۔ بیوی نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ انصاری صحابی صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں (انصاری صحابی) اور ان کی بیوی (کے عمل) کو پسند فرمایا۔ یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ) اللہ تعالیٰ مسکرایا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة» یعنی اور اپنے سے مقدم رکھتے ہیں اگرچہ خود فاقہ میں ہی ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4889]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: ”اللہ کے رسول! میں فاقہ زدہ ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ازواجِ مطہرات کے پاس بھیج دیا لیکن ان کے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ تھی۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی شخص ایسا ہے جو آج رات اس مہمان کی میزبانی کرے، اللہ اس پر رحم کرے گا؟“ یہ سن کر ایک انصاری صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کی: ”اللہ کے رسول! یہ آج میرے مہمان ہیں۔“ پھر وہ انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا: ”یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہیں، ان سے کوئی چیز بچا اور چھپا کر نہ رکھنا۔“ وہ کہنے لگی: ”میرے پاس تو صرف بچوں کی خوراک پڑی ہے۔“ انصاری صحابی نے کہا: ”جب بچے کھانا مانگنے لگیں تو انہیں (بہلا پھسلا کر) سلا دینا اور چراغ بھی گل کر دینا، آج رات ہم بھوکے ہی رہ لیں گے۔“ بیوی نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ شخص صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں مرد اور فلاں عورت پر اللہ بہت خوش ہوا ہے“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ فلاں فلاں پر مسکرایا ہے۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ [سورة الحشر: 9] ۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4889]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4889
| ألا رجل يضيفه هذه الليلة يرحمه الله فقام رجل من |
صحيح مسلم |
5359
| عجب الله من صنيعكما بضيفكما الليلة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4889 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4889
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں تعجب اور ضحک دو صفتوں کا اللہ کے لئے ذکر ہے جو بر حق ہے ان کی کیفیت میں بحث کرنا بدعت ہے اور ظاہر پر ایمان لانا واجب ہے۔
صفات الہیہ کو بغیر تاویل کے تسلیم کرنا ضروری ہے۔
سلف صالحین کا یہی طریقہ ہے۔
ایمان کے سلامتی اسی میں ہے کہ صرف مسلک سلف کا اتباع کیا جائے اور بس۔
اس حدیث میں تعجب اور ضحک دو صفتوں کا اللہ کے لئے ذکر ہے جو بر حق ہے ان کی کیفیت میں بحث کرنا بدعت ہے اور ظاہر پر ایمان لانا واجب ہے۔
صفات الہیہ کو بغیر تاویل کے تسلیم کرنا ضروری ہے۔
سلف صالحین کا یہی طریقہ ہے۔
ایمان کے سلامتی اسی میں ہے کہ صرف مسلک سلف کا اتباع کیا جائے اور بس۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4889]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4889
حدیث حاشیہ:
انصار کی مہاجرین کے بارے میں ایثار اور ہمدردی لازوال، باکمال اور بے مثال تھی۔
اس کے متعلق درج ذیل خوبصورت واقعہ بھی درج کیا جاتا ہے:
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ طیبہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان بھائی چارا کرا دیا۔
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت دولت مند تھے۔
انھوں نے حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا:
انصار کو معلوم ہے کہ میں ان سے سب سے زیادہ مال دار ہوں، اب میں اپنا آدھا مال اپنے اور آپ کے درمیان بانٹ دینا چاہتا ہوں اور میری دو بیویاں ہیں، ان میں سے جو آپ کو پسند ہو میں اسے طلاق دے دوں گا۔
اس کی عدت گزر جانے کے بعد آپ اس سے نکاح کرلیں۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3781)
کیا اس قسم کا ایثار دنیا کی تاریخ میں ملتاہے؟!
انصار کی مہاجرین کے بارے میں ایثار اور ہمدردی لازوال، باکمال اور بے مثال تھی۔
اس کے متعلق درج ذیل خوبصورت واقعہ بھی درج کیا جاتا ہے:
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ طیبہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان بھائی چارا کرا دیا۔
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت دولت مند تھے۔
انھوں نے حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا:
انصار کو معلوم ہے کہ میں ان سے سب سے زیادہ مال دار ہوں، اب میں اپنا آدھا مال اپنے اور آپ کے درمیان بانٹ دینا چاہتا ہوں اور میری دو بیویاں ہیں، ان میں سے جو آپ کو پسند ہو میں اسے طلاق دے دوں گا۔
اس کی عدت گزر جانے کے بعد آپ اس سے نکاح کرلیں۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3781)
کیا اس قسم کا ایثار دنیا کی تاریخ میں ملتاہے؟!
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4889]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5359
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا: میں بھوکا ہوں تو آپ نے اپنی کسی بیوی کے پاس پیغام بھیجا، اس نے کہا: اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، میرے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں، پھر آپ نے دوسری کی طرف پیغام بھیجا تو اس نے بھی یہ بات کہی، حتی کہ ان سب نے یہی جواب دیا، نہیں، اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، میرے پاس صرف پانی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5359]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ضرورت مند اور محتاج کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی سے پیش آنا چاہیے،
اگر انسان خود یہ کام نہ کر سکتا ہو تو پھر دوسروں کو اس کی ترغیب دے،
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنے گھروں سے اس کو کھانا مہیا کرنے کی کوشش فرمائی،
یہ نہ ہو سکا تو پھر دوسروں کو ترغیب دی،
پھر حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ جو ایک مالدار صحابی تھے،
وہ اس کو ساتھ لے گئے،
لیکن اتفاقا اس رات ان کے گھر میں مہمان کے لیے وافر کھانا نہ تھا،
اس لیے انہوں نے ایک تدبیر کے ذریعہ اسے کھانا کھلایا اور اسے یہ محسوس نہ ہونے دیا کہ ان کے پاس کھانا کم ہے،
اس سے سب سیر نہیں ہو سکتے،
تاکہ وہ کھانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ضرورت مند اور محتاج کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی سے پیش آنا چاہیے،
اگر انسان خود یہ کام نہ کر سکتا ہو تو پھر دوسروں کو اس کی ترغیب دے،
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنے گھروں سے اس کو کھانا مہیا کرنے کی کوشش فرمائی،
یہ نہ ہو سکا تو پھر دوسروں کو ترغیب دی،
پھر حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ جو ایک مالدار صحابی تھے،
وہ اس کو ساتھ لے گئے،
لیکن اتفاقا اس رات ان کے گھر میں مہمان کے لیے وافر کھانا نہ تھا،
اس لیے انہوں نے ایک تدبیر کے ذریعہ اسے کھانا کھلایا اور اسے یہ محسوس نہ ہونے دیا کہ ان کے پاس کھانا کم ہے،
اس سے سب سیر نہیں ہو سکتے،
تاکہ وہ کھانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5359]
Sahih Bukhari Hadith 4889 in Urdu
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي