🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب من قال لا نكاح إلا بولي:
باب: بغیر ولی کے نکاح صحیح نہیں ہوتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5130
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، فَلا تَعْضُلُوهُنَّ سورة البقرة آية 232، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ: أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ، قَالَ:" زَوَّجْتُ أُخْتًا لِي مِنْ رَجُلٍ، فَطَلَّقَهَا حَتَّى إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا جَاءَ يَخْطُبُهَا، فَقُلْتُ لَهُ: زَوَّجْتُكَ وَفَرَشْتُكَ وَأَكْرَمْتُكَ فَطَلَّقْتَهَا، ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُهَا، لَا وَاللَّهِ لَا تَعُودُ إِلَيْكَ أَبَدًا، وَكَانَ رَجُلًا لَا بَأْسَ بِهِ وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَةَ: فَلا تَعْضُلُوهُنَّ سورة البقرة آية 232، فَقُلْتُ: الْآنَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ".
ہم سے احمد بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد حفص بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے حسن بصری نے آیت «فلا تعضلوهن‏» کی تفسیر میں بیان کیا کہ مجھ سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میں نے اپنی ایک بہن کا نکاح ایک شخص سے کر دیا تھا۔ اس نے اسے طلاق دے دی لیکن جب عدت پوری ہوئی تو وہ شخص (ابوالبداح) میری بہن سے پھر نکاح کا پیغام لے کر آیا۔ میں نے اس سے کہا کہ میں نے تم سے اس کا (اپنی بہن) کا نکاح کیا اسے تمہاری بیوی بنایا اور تمہیں عزت دی لیکن تم نے اسے طلاق دیدی اور اب پھر تم نکاح کا پیغام لے کر آئے ہو۔ ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اب میں تمہیں کبھی اسے نہیں دوں گا۔ وہ شخص ابوالبداح کچھ برا آدمی نہ تھا اور عورت بھی اس کے یہاں واپس جانا چاہتی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فلا تعضلوهن‏» کہ تم عورتوں کو مت روکو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اب میں کر دوں گا۔ بیان کیا کہ پھر انہوں نے اپنی بہن کا نکاح اس شخص سے کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5130]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معقل بن يسار المزني، أبو علي، أبو يسار، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← معقل بن يسار المزني
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥يونس بن عبيد العبدي، أبو عبد الله، أبو عبيد
Newيونس بن عبيد العبدي ← الحسن البصري
ثقة ثبت فاضل ورع
👤←👥إبراهيم بن طهمان الهروي، أبو سعيد
Newإبراهيم بن طهمان الهروي ← يونس بن عبيد العبدي
ثقة
👤←👥حفص بن عبد الله السلمي، أبو سهل، أبو عمرو
Newحفص بن عبد الله السلمي ← إبراهيم بن طهمان الهروي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أحمد بن حفص السلمي، أبو علي
Newأحمد بن حفص السلمي ← حفص بن عبد الله السلمي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5130
زوجت أختا لي من رجل فطلقها ثم تركها حتى إذا انقضت عدتها خطبها فقلت زوجتك وفرشتك وأكرمتك فطلقتها ثم جئت تخطبها فلا والله تعود إليك أبدا قال وكان رجلا لا بأس به وكانت تريد أن ترجع إليه فأنزل الله هذه الآية فقلت الآن أفعل يا رسول الله فزوجتها إياه
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5130 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5130
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے بھی باب کا مطلب ثابت ہوا۔
کیو نکہ معقل نے اپنی بہن کا دوبارہ نکاح ابو البداح سے نہ ہونے دیا حالانکہ بہن چاہتی تھی تو معلوم ہوا کہ نکاح ولی کے اختیار میں ہے۔
بمقتضائے عقل بھی ہے کہ عورت کو کلی طور پر آزاد نہ چھوڑا جائے اسی لئے شادی بیاہ میں بہت سے مصالح کے تحت ولی کا ہونا لازم قرار پایا۔
جو لوگ ولی کا ہونا بطور شرط نہیں مانتے ان کا قول غلط ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5130]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5130
حدیث حاشیہ:
(1)
پوری آیت اس طرح ہے:
اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو تم انھیں اس سے نہ روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کر لیں، بشرطیکہ وہ آپس میں اچھے اور جائز طریقے سے راضی ہو جائیں۔
اس آیت کریمہ میں اگرچہ نکاح کی نسبت عورتوں کی طرف ہے لیکن اس سے سرپرست کا حق ولایت ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم ان کے نکاح میں رکاوٹ نہ بنو۔
اگر ان کا اختیار نہیں ہے تو انھیں رکاوٹ بننے کا کیا حق ہے؟ عقل کا بھی تقاضا ہے کہ عورت کو کلی طور پر آزاد نہ چھوڑا جائے، اس لیے نکاح کے معاملات میں بہت مصالح کے پیش نظر ولی کی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔
جو لوگ ولی کا ہونا بطور شرط تسلیم نہیں کرتے ان کا موقف انتہائی محل نظر ہے۔
(2)
در حقیقت امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصود یہ ہے کہ اعتدال اور عدل و انصاف قائم کیا جائے لیکن ہمارے مجتہدین کرام نے ایک طرف تو بالغہ کو مطلق العنان کر دیا کہ وہ جب چاہے جس سے چاہے اپنا نکاح کرے، اسے کسی سرپرست کی ضرورت نہیں۔
اور دوسری طرف یہ اندھیرنگری کہ اگر کوئی شخص دھوکے سے ایجاب و قبول کے الفاظ عورت سے کہلوائے جنھیں وہ سمجھتی ہو تو وہ بھی قید نکاح میں آ جائے گی اور اسے اس سے گلو خلاصی کا کوئی اختیار نہیں۔
لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اس افراط و تفریق کے درمیان اعتدال کا پہلو اختیار کیا ہے اور اس اعتدال کو احادیث سے ثابت کیا۔
دراصل امام بخاری رحمہ اللہ استنباط مسائل میں لوگوں کی مصلحتوں پر گہری نظر رکھتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ نصوص کا دامن بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑتے، چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ آگے چل کر ایک دوسرا عنوان ان الفاظ سے قائم کرتے ہیں:
(باب:
لا ينكح الأب وغيره البكر و الثيب إلا برضاهما)
باپ یا اس کے علاوہ کوئی دوسرا شخص کسی کنواری یا شوہر دیدہ کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر نہیں کرسکتا۔
ان دونوں ابواب سے مقصود یہ ہے کہ نہ تو عورت مطلق العنان ہے کہ وہ جب چاہے جہاں چاہے اپنی شادی رچا لے اور نہ وہ اس قدر مجبور و مقہور ہی ہے کہ اس کا سرپرست جب چاہے جس سے چاہے اس کا نکاح کردے اور وہ مجبور ہو کر خاموش رہے بلکہ اس کی وضاحت کے لیے انھوں نے ایک مزید عنوان ان الفاظ سے قائم کیا ہے:
(باب إذا زوج الرجل ابنته وهي كارهة فنكاحه مردود)
جب باپ اپنی بیٹی کا نکاح زبردستی کر دے جبکہ بیٹی اسے ناپسند کرتی ہو تو ایسا نکاح مردود ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5130]

Sahih Bukhari Hadith 5130 in Urdu