🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. باب من أولم بأقل من شاة:
باب: ایک بکری سے کم کا ولیمہ کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5172
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ:" أَوْلَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ".
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے منصور بن صفیہ نے، ان سے ان کی والدہ صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کا ولیمہ دو مد (تقریباً پونے دو سیر) جَو سے کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5172]
حضرت صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کا ولیمہ دو مد جو سے کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5172]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥صفية بنت شيبة القرشيةلها رؤية
👤←👥منصور بن صفية القرشي
Newمنصور بن صفية القرشي ← صفية بنت شيبة القرشية
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← منصور بن صفية القرشي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يوسف الفريابي ← سفيان الثوري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5172
أولم النبي على بعض نسائه بمدين من شعير
بلوغ المرام
897
اولم النبي على بعض نسائه بمدين من شعير
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5172 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5172
حدیث حاشیہ:
یعنی سوا سیر یا دو سیر جو کا آٹا پکایا گیا تھا۔
سچ کہا ہے الدینُ یُسر یعنی دین کا معاملہ بالکل آسان ہے، پس آج ہولناک گرانی کے دور میں علماء کا فریضہ ہے کہ اہل اسلام کے لئے ایسی آسانیوں کی بھی بشارت دیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5172]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5172
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب مجھ سے نکاح کیا تو مجھے حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کے گھر مہں ٹھہرایا۔
میں نے وہاں ایک مٹکے میں کچھ جوَ دیکھے۔
میں نے انھیں نکال کر پیسا، پھر انھیں ہنڈیا میں ڈالا اور ان میں کچھ چربی ڈالی۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ولیمہ تھی۔
(2)
اس سے معلوم ہوا کہ ولیمہ تھوڑے سے کھانے کا بھی ہو سکتا ہے۔
اس کے متعلق کوئی مقدار مقرر نہیں ہے۔
انسان اپنی وسعت کے مطابق اس کا اہتمام کر سکتا ہے۔
(فتح الباري: 298/9)
البتہ جو ولیمے میں زیادہ کھانے کا اہتمام کرے وہ افضل ہے کیونکہ اس طرح نکاح کا اعلان زیادہ ہوتا ہے اور اہل و مال میں برکت کا باعث ہے کیونکہ ولیمے میں آنے والے بکثرت دعائیں کرتے ہیں۔
(عمدة القاري: 127/14)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5172]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 897
ولیمہ کا بیان
سیدہ صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض بیویوں کا ولیمہ دو مد جو سے کیا۔ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 897»
تخریج:
«أخرجه البخاري، النكاح، باب من أولم بأقل من شاة، حديث:5172.»
تشریح:
1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مختلف شادیوں کی صورت میں ضروری نہیں کہ ولیمہ ایک ہی جیسا ہو۔
حسب حال ولیمہ کرنا چاہیے۔
2. آپ نے ولیمہ میں بکری بھی ذبح کی اور ستو اور کھجور بھی ولیمہ میں کھلائے‘ اور حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں صرف دوُ مد جو پر اکتفا کیا۔
راویٔ حدیث:
«حضرت صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا» ‏‏‏‏ صفیہ بنت شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ حَجَبِی۔
بنو عبد الدار میں سے تھیں۔
ایک قول یہ ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور ایک قول کے مطابق ان کی رؤیت ثابت نہیں ہے۔
صحیح اور درست بات یہی ہے کہ حضرت صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا صحابیہ ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تہذیب التہذیب اور تقریب التہذیب دونوں میں اس کی تصریح کی ہے‘ نیز انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کے سماع کی تصریح کی ہے۔
جن اہل علم نے انھیں تابعیہ شمار کیا ہے‘ یہ ان کا سہو ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 897]

Sahih Bukhari Hadith 5172 in Urdu