🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
74. باب من أجاب إلى كراع:
باب: جس نے بکری کے کھر کی دعوت کی تو اسے بھی قبول کرنا چاہئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5178
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے بکری کے کھر کی دعوت دی جائے تو میں اسے بھی قبول کروں گا اور اگر مجھے وہ کھر بھی ہدیہ میں دیئے جائیں تو میں اسے قبول کروں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5178]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم
Newسلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← سلمان مولى عزة
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن ميمون المروزي، أبو حمزة
Newمحمد بن ميمون المروزي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥عبد الله بن عثمان العتكي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عثمان العتكي ← محمد بن ميمون المروزي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2568
لو دعيت إلى كراع لأجبت ولو أهدي إلي ذراع لقبلت
صحيح البخاري
5178
لو دعيت إلى كراع لأجبت ولو أهدي إلي كراع لقبلت
صحيح مسلم
3520
إذا دعي أحدكم فليجب إن كان صائما فليصل إن كان مفطرا فليطعم
جامع الترمذي
780
إذا دعي أحدكم إلى طعام فليجب إن كان صائما فليصل
سنن أبي داود
2460
إذا دعي أحدكم فليجب إن كان مفطرا فليطعم إن كان صائما فليصل
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5178 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5178
حدیث حاشیہ:
کیسا ہی کم حصہ ہو میں لے لوں گا کسی مسلمان کی دل شکنی نہ کروں گا۔
یہی وہ اخلاق حسنہ تھے جس کی بنا پر اللہ نے آپ کو ﴿وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾ (القلم: 4)
سے نوازا۔
غریبوں کی دعوت میں نہ جانا، غریبوں سے نفرت کرنا، یہ فرعونیت ہے ایسے متکبر لوگ خدا کے نزدیک مچھر سے بھی زیادہ ذلیل ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5178]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5178
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصود یہ ہے کہ دعوت ولیمہ میں اگر صرف سری پائے ہی کا اہتمام ہو تو بھی اسے ضرور قبول کرنا چاہیے۔
اسے ٹھکرانے سے اجتناب کرنا ہوگا۔
(2)
اس حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال تواضع اور حسن خلق کا پتا چلتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت قبول کرنے کی رغبت اس لیے دلائی ہے کہ یہ محبت و الفت میں اضافے کا باعث ہے، نیز دعوت کا اہتمام کرنے والے کے لیے خوشی و مسرت کا ذریعہ ہے، نیز آپس میں مل بیٹھنے کا بہترین موقع ہے۔
(فتح الباري: 306/9)
بہرحال کسی وقت بھی اپنے بھائی کی دل شکنی نہیں کرنی چاہیے اگرچہ وہ معمولی چیز کی دعوت دے۔
غریبوں کی دعوت میں نہ جانا اور ان سے نفرت کرنا یہ فرعونیت ہے۔
ایسے متکبر لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں کیڑے مکوڑوں سے بھی زیادہ ذلیل ہیں۔
والله المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5178]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2460
روزہ دار کو ولیمہ کھانے کی دعوت دی جائے تو کیا کرے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنا چاہیئے، اگر روزے سے نہ ہو تو کھا لے، اور اگر روزے سے ہو تو اس کے حق میں دعا کر دے۔‏‏‏‏ ہشام کہتے ہیں: «صلاۃ» سے مراد دعا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2460]
فوائد ومسائل:
مسلمانوں کو موقع بموقع آپس میں دعوتوں کا اہتمام کرتے رہنا چاہیے، اس سے آپس کے تعلقات مضبوط ہوتے اور محبتیں بڑھتی ہیں۔
روزے دار بھی دعوت میں شریک ہو اور ان کے لیے دعا کرے۔
اگر روزہ نفلی ہو تو توڑنا جائز ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2460]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 780
روزہ دار دعوت قبول کرے اس کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت ملے تو اسے قبول کرے، اور اگر وہ روزہ سے ہو تو چاہیئے کہ دعا کرے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 780]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی صاحب طعام کے لیے برکت کی دعا کرے،
کیو نکہ طبرانی کی روایت میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے واردہے جس میں ((وَإِنْ كَانَ صَائِمََا فَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ)) کے الفاظ آئے ہیں،
باب کی حدیث میں ((فَلْیُصَلِّ)) کے بعد يعني الدعاء کے جو الفاظ آئے ہیں یہ ((فَلْیُصَلِّ)) کی تفسیر ہے جو خود امام ترمذی نے کی ہے یا کسی اور راوی نے،
مطلب یہ ہے کہ یہاں نماز پڑھنا مراد نہیں بلکہ اس سے مراد دعا ہے،
بعض لوگوں نے اسے ظاہر پر محمول کیا ہے،
اس صورت میں اس حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرے اس کے گھر جائے اور گھر کے کسی کونے میں جا کر دو رکعت نماز پڑھے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر میں پڑھی تھی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 780]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3520
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو جب دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے، پھر اگر روزہ دار ہو تو دعا کر دے اور اگر روزہ نہ ہو تو کھا لے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3520]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اگر دعوت قبول کرنے میں کوئی شرعی رکاوٹ یا عذر نہ ہو تو اسے روزہ کی حالت میں بھی قبول کرلینا چاہیے،
اگر صاحب دعوت اصرار کرے اور روزہ نفلی ہو تو اس کو توڑا بھی جا سکتا ہے،
اگر وہ اصرار نہ کرے تو پھر روزہ کی حالت میں اس کے لیے خیرو برکت اور رحمت و مغفرت کی دعا کردے یا اس کے گھر میں خیروبرکت کے لیے نماز پڑھ لے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3520]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2568
2568. حضرت ابوہریرۃ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اگر مجھے دستی یا پائے کے گوشت کی دعوت دی جائے تو میں ضرور جاؤں گا۔ اور اگر مجھے دستی کا گوشت یاکھر ہدیہ بھیجا جائے تو میں ضرور قبول کروں گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2568]
حدیث حاشیہ:
تحفہ کتنا بھی تھوڑا ہو قابل قدر ہے اور دعوت میں کچھ بھی پیش کیا جائے، دعوت بہر حال قابل قبول ہے۔
ان عملوں سے باہمی محبت پیدا ہوتی ہے جو اسلام کا اصلی منشاء ہے۔
اس سے گوشت کا بطور ہبہ و تحفہ و ہدیہ پیش کرنا ثابت ہوا۔
حضرت امام ؒ کے نزدیک لفظ ہبہ ان سب پر بولا جاسکتا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2568]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2568
2568. حضرت ابوہریرۃ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اگر مجھے دستی یا پائے کے گوشت کی دعوت دی جائے تو میں ضرور جاؤں گا۔ اور اگر مجھے دستی کا گوشت یاکھر ہدیہ بھیجا جائے تو میں ضرور قبول کروں گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2568]
حدیث حاشیہ:
(1)
بکری کے بازو کا گوشت بہترین ہوتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بہت پسند کرتے تھے۔
پسندیدگی کی وجہ یہ تھی کہ یہ آلائش اور غلاظت سے الگ رہتا ہے جبکہ بکری کے پایوں کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ دعوت اور ہدیہ میں اچھی چیز ہو یا حقیر چیز جو کچھ بھی پیش کیا جائے اسے خوش دلی سے قبول کرنا چاہیے، چہرے پر کسی قسم کی ناگواری نہ ہو، ایسا کرنے سے تعلقات خوشگوار رہتے ہیں اور افرادِ معاشرہ میں محبت کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قلیل سے قلیل ہدیہ قبول کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2568]