صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 5441
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ:" تَضَيَّفْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَبْعًا فَكَانَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَخَادِمُهُ يَعْتَقِبُونَ اللَّيْلَ أَثْلَاثًا، يُصَلِّي هَذَا ثُمَّ يُوقِظُ هَذَا، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابهِ تَمْرًا، فَأَصَابَنِي سَبْعُ تَمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن یزید نے بیان کیا، ان سے عباس جریری نے اور ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں سات دن تک مہمان رہا، وہ اور ان کی بیوی اور ان کے خادم نے رات میں (جاگنے کی) باری مقرر کر رکھی تھی۔ رات کے ایک تہائی حصہ میں ایک صاحب نماز پڑھتے رہے پھر وہ دوسرے کو جگا دیتے اور میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں ایک مرتبہ کھجور تقسیم کی اور مجھے بھی سات کھجوریں دیں، ایک ان میں خراب تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5441]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو عثمان النهدي، أبو عثمان أبو عثمان النهدي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥العباس بن فروخ الجريري، أبو محمد العباس بن فروخ الجريري ← أبو عثمان النهدي | ثقة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← العباس بن فروخ الجريري | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة حافظ |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5441 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5441
حدیث حاشیہ:
مگر انہوں نے اسے بھی بخوشی قبول کیا۔
اطاعت شعاری کا یہی تقاضا ہے نہ کہ ان مقلدین جامدین کی طرح جو میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو کے موافق عمل کرتے ہیں إلا ماشاء اللہ۔
حدیث سے بوقت ضرورت راشن تقسیم کرنا بھی ثابت ہوا جو حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث ہذا سے ثابت فرمایا ہے اور آپ کے اجتہاد علمی کی دلیل ہے پھر بھی کتنے معاند عقل کے خود کورے ہیں جو حضرت امام کو مجتہد نہیں مانتے بلکہ مثل اپنے مقلد مشہور کرتے ہیں، نعوذ باللہ۔
مگر انہوں نے اسے بھی بخوشی قبول کیا۔
اطاعت شعاری کا یہی تقاضا ہے نہ کہ ان مقلدین جامدین کی طرح جو میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو کے موافق عمل کرتے ہیں إلا ماشاء اللہ۔
حدیث سے بوقت ضرورت راشن تقسیم کرنا بھی ثابت ہوا جو حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث ہذا سے ثابت فرمایا ہے اور آپ کے اجتہاد علمی کی دلیل ہے پھر بھی کتنے معاند عقل کے خود کورے ہیں جو حضرت امام کو مجتہد نہیں مانتے بلکہ مثل اپنے مقلد مشہور کرتے ہیں، نعوذ باللہ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5441]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5441
حدیث حاشیہ:
(1)
حشفه وہ ردی قسم کی کھجور ہے جو درخت کے اوپر نہیں پکتی بلکہ خشک ہو کر جلدی گر جاتی ہے۔
(2)
اس سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے گزر اوقات کا پتا چلتا ہے کہ وہ کھجوروں پر قناعت کرتے تھے، وہ بھی معمولی اور تعداد میں کم۔
بعض اوقات ان میں ردی قسم کی کھجوریں بھی آ جاتی تھیں۔
(3)
ایک روایت میں پانچ کھجوروں کا ذکر ہے جبکہ دوسری حدیث میں ہے کہ سات کھجوریں ملیں لیکن ان میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ ایک عدد دوسرے کے منافی نہیں ہوتا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ پہلی مرتبہ پانچ کھجوریں ملی ہوں جب ان سے کچھ بچ گئیں تو دو، دو مزید دی گئیں۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دو مختلف اوقات میں دو واقعات ہوں، ایک دفعہ پانچ پانچ دی گئیں اور دوسری دفعہ سات سات حصے میں آئیں۔
(4)
ان احادیث سے سرکاری سطح پر راشن کی تقسیم کا طریق کار بھی ثابت ہوا کہ راشن کی تقسیم کا طریق کار بھی ثابت ہوا کہ راشن اچھا ہو یا ردی، اسے برابر برار سب میں تقسیم کرنا چاہیے۔
لیکن آج کل بد دیانتی اور اقرباء پروری کا دور دورہ ہے، اس لیے صحیح تقسیم نہ ہونے کے باعث اللہ تعالیٰ کی مخلوق بہت پریشان ہے۔
واللہ المستعان
(1)
حشفه وہ ردی قسم کی کھجور ہے جو درخت کے اوپر نہیں پکتی بلکہ خشک ہو کر جلدی گر جاتی ہے۔
(2)
اس سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے گزر اوقات کا پتا چلتا ہے کہ وہ کھجوروں پر قناعت کرتے تھے، وہ بھی معمولی اور تعداد میں کم۔
بعض اوقات ان میں ردی قسم کی کھجوریں بھی آ جاتی تھیں۔
(3)
ایک روایت میں پانچ کھجوروں کا ذکر ہے جبکہ دوسری حدیث میں ہے کہ سات کھجوریں ملیں لیکن ان میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ ایک عدد دوسرے کے منافی نہیں ہوتا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ پہلی مرتبہ پانچ کھجوریں ملی ہوں جب ان سے کچھ بچ گئیں تو دو، دو مزید دی گئیں۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دو مختلف اوقات میں دو واقعات ہوں، ایک دفعہ پانچ پانچ دی گئیں اور دوسری دفعہ سات سات حصے میں آئیں۔
(4)
ان احادیث سے سرکاری سطح پر راشن کی تقسیم کا طریق کار بھی ثابت ہوا کہ راشن کی تقسیم کا طریق کار بھی ثابت ہوا کہ راشن اچھا ہو یا ردی، اسے برابر برار سب میں تقسیم کرنا چاہیے۔
لیکن آج کل بد دیانتی اور اقرباء پروری کا دور دورہ ہے، اس لیے صحیح تقسیم نہ ہونے کے باعث اللہ تعالیٰ کی مخلوق بہت پریشان ہے۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5441]
حدیث نمبر: 5441M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا تَمْرًا، فَأَصَابَنِي مِنْهُ خَمْسٌ أَرْبَعُ تَمَرَاتٍ وَحَشَفَةٌ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْحَشَفَةَ هِيَ أَشَدُّهُنَّ لِضِرْسِي".
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، ان سے عاصم نے، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں کھجور تقسیم کی پانچ مجھے عنایت فرمائیں چار تو اچھی کھجوریں تھیں اور ایک خراب تھی جو میرے دانتوں کے لیے سب سے زیادہ سخت تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5441M]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
أبو عثمان النهدي ← أبو هريرة الدوسي