یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب ذبيحة المرأة والأمة:
باب: (مسلمان) عورت اور لونڈی کا ذبیحہ بھی جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5504
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ:" أَنَّ امْرَأَةً ذَبَحَتْ شَاةً بِحَجَرٍ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَ بِأَكْلِهَا"، وَقَالَ اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُخْبِرُ عَبْدَ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبٍ بِهَذَا.
ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں عبیداللہ نے، انہیں نافع نے، انہیں کعب بن مالک کے ایک بیٹے نے اور انہیں ان کے باپ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک عورت نے بکری پتھر سے ذبح کر لی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کا حکم فرمایا۔ اور لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، انہوں نے قبیلہ انصار کے ایک شخص کو سنا کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خبر دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ کعب رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی تھی پھر اسی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5504]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے بکری پتھر سے ذبح کر لی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس کے کھانے کا حکم فرمایا۔“ ایک دوسری روایت ہے کہ حضرت نافع رضی اللہ عنہ نے ایک انصاری شخص سے سنا، اس نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتایا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ ”حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی تھی۔“ پھر مذکورہ حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5504]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5501
| جارية لهم كانت ترعى غنما بسلع فأبصرت بشاة من غنمها موتا فكسرت حجرا فذبحتها فقال لأهله لا تأكلوا حتى آتي النبي فأسأله أو حتى أرسل إليه من يسأله فأتى النبي أو بعث إليه فأمر النبي بأكلها |
صحيح البخاري |
2304
| كسرت حجرا فذبحتها به فقال لهم لا تأكلوا حتى أسأل النبي أو أرسل إلى النبي من يسأله وأنه سأل النبي عن ذاك أو أرسل فأمره بأكلها |
صحيح البخاري |
5504
| امرأة ذبحت شاة بحجر فسئل النبي عن ذلك فأمر بأكلها |
سنن ابن ماجه |
3182
| ذبحت شاة بحجر فذكر ذلك لرسول الله فلم ير به بأسا |
بلوغ المرام |
1154
| امراة ذبحت شاة بحجر فسئل النبي صلى الله عليه وآله وسلم عن ذلك فامر باكلها |
Sahih Bukhari Hadith 5504 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← اسم مبهم