🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب لحوم الحمر الإنسية:
باب: پالتو گدھوں کا گوشت کھانا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5529
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ:" يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ حُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ يَقُولُ ذَاكَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ عِنْدَنَا بِالْبَصْرَةِ، وَلَكِنْ أَبَى ذَاكَ الْبَحْرُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَقَرَأَ: قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا سورة الأنعام آية 145.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ نے ہمیں بصرہ میں یہی بتایا تھا لیکن علم کے سمندر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے انکار کیا اور (استدلال میں) اس آیت کی تلاوت کی «قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما‏» ۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5529]
حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن زید رضی اللہ عنہ سے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں سے منع کر دیا ہے؟ حضرت جابر بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ نے ہمیں بصرہ میں یہی بتایا تھا لیکن علم کے سمندر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے انکار کیا اور یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا﴾ [سورة الأنعام: 145] جو کچھ میری طرف وحی کی گئی ہے اس میں، میں حرام نہیں پاتا ہوں۔۔۔۔۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5529]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥الحكم بن عمرو الغفاري
Newالحكم بن عمرو الغفاري ← عبد الله بن العباس القرشي
صحابي
👤←👥جابر بن زيد الأزدي، أبو الشعثاء
Newجابر بن زيد الأزدي ← الحكم بن عمرو الغفاري
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن زيد الأزدي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5529
حمر الأهلية
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5529 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5529
حدیث حاشیہ:
اس آیت میں حرام ماکولات کا ذکر ہے جس میں مذکورہ گدھے کا ذکر نہیں ہے۔
شاید ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ان احادیث کا علم نہ ہوا ہو ورنہ وہ کبھی ایسا نہ کہتے یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے اس خیال سے بعد میں رجوع کر لیا ہو، واللہ أعلم بالصواب۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5529]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5529
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ مذکورہ آیت کریمہ میں حرام چیزوں کا ذکر حصر کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
ان چیزوں کے علاوہ ہر چیز حلال ہے، ان میں گدھے بھی شامل ہیں، لہذا یہ حرام نہیں ہیں۔
گدھوں کے متعلق ان کا موقف شاید اس وجہ سے ہو کہ انہیں وضاحت کے ساتھ احادیث نہ پہنچی ہوں، چنانچہ ایک روایت میں ہے، انہوں نے کہا:
مجھے معلوم نہیں کہ خیبر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا کہ کہیں لوگ سواریوں سے محروم نہ ہو جائیں یا انہیں حرام قرار دیا تھا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4227) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ آیت کریمہ سے اس وقت استدلال کیا جا سکتا ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضاحت کے ساتھ گدھوں کی حرمت منقول نہ ہو، اس لیے متعدد احادیث کے پیش نظر گھریلو گدھوں کا گوشت حرام ہے۔
(فتح الباري: 811/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5529]

Sahih Bukhari Hadith 5529 in Urdu