صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب الأضحى والمنحر بالمصلى:
باب: عیدگاہ میں قربانی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5551
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ:" كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَنْحَرُ فِي الْمَنْحَرِ"، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: يَعْنِي مَنْحَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا اور ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قربان گاہ میں نحر کیا کرتے تھے اور عبیداللہ نے بیان کیا کہ مراد وہ جگہ ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5551]
حضرت نافع سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ذبح خانہ میں قربانی ذبح کرتے تھے۔ (راوئ حدیث) عبید اللہ نے کہا: ”یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذبح کرنے کی جگہ میں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5551]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5551
| كان عبد الله ينحر في المنحر |
صحيح البخاري |
1711
| يبعث بهديه من جمع من آخر الليل حتى يدخل به منحر النبي مع حجاج فيهم الحر والمملوك |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5551 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5551
حدیث حاشیہ:
مزید وضاحت اگلی حدیث میں ہے۔
مزید وضاحت اگلی حدیث میں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5551]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1711
1711. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ ہی سے روایت ہے کہ وہ مزدلفہ سے رات کے آخری حصے میں حاجیوں کے ہمراہ جن میں آزاد اور غلام ہوتے، قربانی بھیجتے، پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نحر کرنے کی جگہ لے جایا جاتا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1711]
حدیث حاشیہ:
اس کا مطلب یہ ہے کہ قربانیاں لے جانے کے لیے کچھ آزاد لوگوں کی تخصیص نہ تھی بلکہ غلام بھی لے جاتے تھے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ قربانیاں لے جانے کے لیے کچھ آزاد لوگوں کی تخصیص نہ تھی بلکہ غلام بھی لے جاتے تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1711]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1711
1711. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ ہی سے روایت ہے کہ وہ مزدلفہ سے رات کے آخری حصے میں حاجیوں کے ہمراہ جن میں آزاد اور غلام ہوتے، قربانی بھیجتے، پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نحر کرنے کی جگہ لے جایا جاتا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1711]
حدیث حاشیہ:
(1)
منحر وہ جگہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی ذبح کی تھی۔
وہ مقام جمرہ عقبہ کے پاس مسجد خیف کے قریب تھا، تاہم منیٰ میں ہر جگہ قربانی کی جا سکتی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
”میں نے اس جگہ قربانی کی ہے لیکن منیٰ سارا ہی قربان گاہ ہے۔
تمہیں اپنے خیموں میں بھی قربانی کرنے کی اجازت ہے۔
“ (صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2952(1218)
مگر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ جذبۂ اتباع سنت سے سرشار تھے، وہ ڈھونڈ کر انہی مقامات پر نماز پڑھتے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی تھی اور اسی مقام پر قربانی کرتے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی۔
(2)
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں قربانی ذبح کرتے تھے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ مدینہ طیبہ میں قربانی ذبح کرتے تو عیدگاہ کا انتخاب کرتے۔
(فتح الباري: 697/3)
(1)
منحر وہ جگہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی ذبح کی تھی۔
وہ مقام جمرہ عقبہ کے پاس مسجد خیف کے قریب تھا، تاہم منیٰ میں ہر جگہ قربانی کی جا سکتی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
”میں نے اس جگہ قربانی کی ہے لیکن منیٰ سارا ہی قربان گاہ ہے۔
تمہیں اپنے خیموں میں بھی قربانی کرنے کی اجازت ہے۔
“ (صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2952(1218)
مگر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ جذبۂ اتباع سنت سے سرشار تھے، وہ ڈھونڈ کر انہی مقامات پر نماز پڑھتے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی تھی اور اسی مقام پر قربانی کرتے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی۔
(2)
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں قربانی ذبح کرتے تھے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ مدینہ طیبہ میں قربانی ذبح کرتے تو عیدگاہ کا انتخاب کرتے۔
(فتح الباري: 697/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1711]
Sahih Bukhari Hadith 5551 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي