صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
116. باب النحر فى منحر النبى صلى الله عليه وسلم بمنى:
باب: منیٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں نحر کیا وہاں نحر کرنا۔
حدیث نمبر: 1711
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ،" أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَبْعَثُ بِهَدْيِهِ مِنْ جَمْعٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، حَتَّى يُدْخَلَ بِهِ مَنْحَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ حُجَّاجٍ فِيهِمُ الْحُرُّ وَالْمَمْلُوكُ".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی قربانی کے جانوروں کو مزدلفہ سے آخر رات میں منیٰ بھجوا دیتے، یہ قربانیاں جن میں حاجی لوگ نیز غلام اور آزاد دونوں طرح کے لوگ ہوتے، اس مقام میں لے جاتے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نحر کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1711]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد موسى بن عقبة القرشي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة فقيه إمام في المغازي | |
👤←👥أنس بن عياض الليثي، أبو ضمرة أنس بن عياض الليثي ← موسى بن عقبة القرشي | ثقة | |
👤←👥إبراهيم بن المنذر الحزامي، أبو إسحاق إبراهيم بن المنذر الحزامي ← أنس بن عياض الليثي | صدوق حسن الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5551
| كان عبد الله ينحر في المنحر |
صحيح البخاري |
1711
| يبعث بهديه من جمع من آخر الليل حتى يدخل به منحر النبي مع حجاج فيهم الحر والمملوك |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1711 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1711
حدیث حاشیہ:
اس کا مطلب یہ ہے کہ قربانیاں لے جانے کے لیے کچھ آزاد لوگوں کی تخصیص نہ تھی بلکہ غلام بھی لے جاتے تھے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ قربانیاں لے جانے کے لیے کچھ آزاد لوگوں کی تخصیص نہ تھی بلکہ غلام بھی لے جاتے تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1711]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1711
حدیث حاشیہ:
(1)
منحر وہ جگہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی ذبح کی تھی۔
وہ مقام جمرہ عقبہ کے پاس مسجد خیف کے قریب تھا، تاہم منیٰ میں ہر جگہ قربانی کی جا سکتی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
”میں نے اس جگہ قربانی کی ہے لیکن منیٰ سارا ہی قربان گاہ ہے۔
تمہیں اپنے خیموں میں بھی قربانی کرنے کی اجازت ہے۔
“ (صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2952(1218)
مگر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ جذبۂ اتباع سنت سے سرشار تھے، وہ ڈھونڈ کر انہی مقامات پر نماز پڑھتے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی تھی اور اسی مقام پر قربانی کرتے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی۔
(2)
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں قربانی ذبح کرتے تھے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ مدینہ طیبہ میں قربانی ذبح کرتے تو عیدگاہ کا انتخاب کرتے۔
(فتح الباري: 697/3)
(1)
منحر وہ جگہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی ذبح کی تھی۔
وہ مقام جمرہ عقبہ کے پاس مسجد خیف کے قریب تھا، تاہم منیٰ میں ہر جگہ قربانی کی جا سکتی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
”میں نے اس جگہ قربانی کی ہے لیکن منیٰ سارا ہی قربان گاہ ہے۔
تمہیں اپنے خیموں میں بھی قربانی کرنے کی اجازت ہے۔
“ (صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2952(1218)
مگر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ جذبۂ اتباع سنت سے سرشار تھے، وہ ڈھونڈ کر انہی مقامات پر نماز پڑھتے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی تھی اور اسی مقام پر قربانی کرتے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی۔
(2)
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں قربانی ذبح کرتے تھے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ مدینہ طیبہ میں قربانی ذبح کرتے تو عیدگاہ کا انتخاب کرتے۔
(فتح الباري: 697/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1711]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5551
5551. سیدنا نافع سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ ذبح خانہ میں قربانی ذبح کرتے تھے۔ (راوئ حدیث) عبید اللہ نے کہا: یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذبح کرنے کی جگہ میں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5551]
حدیث حاشیہ:
مزید وضاحت اگلی حدیث میں ہے۔
مزید وضاحت اگلی حدیث میں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5551]
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي