صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب وقول الله تعالى: {إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون} :
باب: اور اللہ تعالیٰ کے فرمان (سورۃ المائدہ) کی تفسیر ”بلاشبہ شراب، جوا، بت اور پانسے گندے کام ہیں شیطان کے کاموں سے پس تم ان سے پرہیز کرو تاکہ تم فلاح پاؤ“۔
حدیث نمبر: 5576
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُتِيَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَاءَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ، وَلَبَنٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا، ثُمَّ أَخَذَ اللَّبَنَ، فَقَالَ جِبْرِيلُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ، وَلَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ، غَوَتْ أُمَّتُكَ"، تَابَعَهُ مَعْمَرٌ، وَابْنُ الْهَادِ، وعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، وَالزُّبَيْدِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ کو سعید بن مسیب نے خبر دی اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بیت المقدس کے شہر) ایلیاء میں شراب اور دودھ کے دو پیالے پیش کئے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ لے لیا۔ اس پر جبرائیل علیہ السلام نے کہا اس اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے آپ کو دین فطرت کی طرف چلنے کی ہدایت فرمائی۔ اگر آپ نے شراب کا پیالہ لے لیا ہوتا تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو معمر، ابن الہاد، عثمان بن عمر اور زبیدی نے زہری سے نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5576]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی، اس رات ایلیاء میں شراب اور دودھ کے دو پیالے پیش کیے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ لے لیا، تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا: ”اس اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے آپ کو دینِ فطرت کے انتخاب کی ہدایت فرمائی! اگر آپ نے شراب کا پیالہ پکڑا ہوتا تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔“ معمر، ابنِ ہاد، عثمان بن عمر اور زبیدی نے زہری سے روایت کرنے میں شعیب کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5576]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥محمد بن الوليد الزبيدي، أبو الهذيل محمد بن الوليد الزبيدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت | |
👤←👥عثمان بن عمر التيمي عثمان بن عمر التيمي ← محمد بن الوليد الزبيدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥يزيد بن الهاد الليثي، أبو عبد الله يزيد بن الهاد الليثي ← عثمان بن عمر التيمي | ثقة مكثر | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← يزيد بن الهاد الليثي | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥أبو هريرة الدوسي أبو هريرة الدوسي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر شعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ متقن | |
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان الحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4709
| الحمد لله الذي هداك للفطرة لو أخذت الخمر غوت أمتك |
صحيح البخاري |
5603
| أتي رسول الله ليلة أسري به بقدح لبن وقدح خمر |
صحيح البخاري |
5576
| الحمد لله الذي هداك للفطرة ولو أخذت الخمر غوت أمتك |
صحيح مسلم |
5240
| الحمد لله الذي هداك للفطرة لو أخذت الخمر غوت أمتك |
سنن النسائى الصغرى |
5660
| الحمد لله الذي هداك للفطرة لو أخذت الخمر غوت أمتك |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5576 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5576
حدیث حاشیہ:
دودھ انسان کی فطری غذا ہے اور شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے۔
اس کی حرمت کی یہی وجہ ہے کہ اسے پی کر عقل زائل ہو جاتی ہے اوراسے پينے والا جرائم اور برے کام کر بیٹھتا ہے۔
اسی لیے اسے قلیل یا کثیر ہر طرح حرام کر دیا گیا۔
دودھ انسان کی فطری غذا ہے اور شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے۔
اس کی حرمت کی یہی وجہ ہے کہ اسے پی کر عقل زائل ہو جاتی ہے اوراسے پينے والا جرائم اور برے کام کر بیٹھتا ہے۔
اسی لیے اسے قلیل یا کثیر ہر طرح حرام کر دیا گیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5576]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5576
حدیث حاشیہ:
(1)
شراب اگرچہ نجس اور حرام ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب پیش کی گئی تو اس وقت حرام نہ تھی بلکہ اس کی تحریم کا واقعہ مدینہ طیبہ کا ہے اور معراج کا واقعہ مکہ مکرمہ میں پیش آیا۔
(2)
شراب کا انتخاب کرنے میں امت گمراہ ہو جاتی، یعنی وہ شراب نوشی میں بدمست رہتے۔
بعض اہل علم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی اگرچہ وہ جنت کی پاک شراب تھی۔
ممکن ہے کہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے بھی حضرت جبرائیل علیہ السلام کو اس سے طبعی نفرت ہو۔
واللہ أعلم
(1)
شراب اگرچہ نجس اور حرام ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب پیش کی گئی تو اس وقت حرام نہ تھی بلکہ اس کی تحریم کا واقعہ مدینہ طیبہ کا ہے اور معراج کا واقعہ مکہ مکرمہ میں پیش آیا۔
(2)
شراب کا انتخاب کرنے میں امت گمراہ ہو جاتی، یعنی وہ شراب نوشی میں بدمست رہتے۔
بعض اہل علم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی اگرچہ وہ جنت کی پاک شراب تھی۔
ممکن ہے کہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے بھی حضرت جبرائیل علیہ السلام کو اس سے طبعی نفرت ہو۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5576]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5660
شراب کی حیثیت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ «اسراء» (معراج) کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شراب اور دودھ کے دو پیالے لائے گئے، آپ نے انہیں دیکھا تو دودھ لے لیا، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اللہ کا شکر ہے جس نے آپ کو فطری چیز کی ہدایت دی، اگر آپ شراب لے لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5660]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ «اسراء» (معراج) کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شراب اور دودھ کے دو پیالے لائے گئے، آپ نے انہیں دیکھا تو دودھ لے لیا، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اللہ کا شکر ہے جس نے آپ کو فطری چیز کی ہدایت دی، اگر آپ شراب لے لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5660]
اردو حاشہ:
(1) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شراب بہت بری اور گندی چیز ہے کیونکہ یہ گمراہی کا بہت بڑا سبب ہے تو جو چیز دین سے دور کرنے والی اور گمراہی کا سبب ہو اس کے گندا ہونے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے۔
(2) ”جس رات“ یہ مکی زندگی کے آخری دور کی بات ہے۔ گویا معراج کے وقت ہی آپ کو اشارہ فرما دیا گیا کہ شراب حرام ہوگی اگرچہ حرمت کا حکم اپنے مقررہ وقت پر اتر ا، یعنی 3 ہجری میں۔
(3) ”دودھ پکڑ لیا“ گویا آپ پہلے سے شراب جیسی قبیح چیز سے نفرت فرماتے تھے اور کوئی عاقل اورسنجیدہ شخص عقل کو مغلوب کرنے والی چیز کو بخوبی پسند نہیں کر سکتا۔ بعض روایا ت میں ہے کہ آپ نے اس وقت حضرت جبریل علیہ السلام سے بھی آنکھوں آنکھوں میں مشورہ فرمایا۔ انھوں نے بھی دودھ ہی کی طرف اشارہ کیا۔
(4) ”اللہ کا شکر ہے“ کیو نکہ شراب قبول کرنے کی صورت میں شراب حلال رہتی اور حرمت کا حکم نہ آتا۔ گویا یہ پیشکش اور آپ کی قبولیت دراصل اظہار تھا اس بات کا کہ اسلام دین فطرت ہے اور اس میں کوئی حکم خلاف فطرت نہیں آ سکتا۔جو شخص اصل فطرت انسانیہ پر قائم ہے، وہ مسلمان ہے۔ دین اسلام، فطرت انسانیہ ہی کی تفصیل ہے۔
(5) ”فطری چیز“ کیونکہ دودھ انسان کی بہترین خوراک ہے۔ ابتدا میں بچے کو سوائے دودھ کے کوئی خوراک مفید ہی نہیں اور بعد میں دودھ واحد مشروب ہے جو کھانے اور پینے دونوں کی جگہ کفایت کر سکتا ہے اور بہت سی بیماریوں سے بچاؤ کرتا ہے۔
(6) ”گمراہ ہو جاتی“ اور یہ کو ئی بعید بات نہیں۔ شراب پینے والی سب قومیں گمراہ ہوئیں اور رہی ہیں۔ مغلوب العقل شخص کیسے صحیح فیصلہ کر سکتا ہے؟ ایسے لوگوں سے حکومتیں چھن جاتی ہے اور وہ در بدر کی ٹھوکر یں کھاتے پھرتے ہیں۔ اگر پوری قوم ہی شرابی ہو تو نتائج اس سےبھی زیادہ ہولناک ہوتے ہیں اور قوم من حیث المجموع گمراہ وتباہ ہو جاتی ہے۔
(1) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شراب بہت بری اور گندی چیز ہے کیونکہ یہ گمراہی کا بہت بڑا سبب ہے تو جو چیز دین سے دور کرنے والی اور گمراہی کا سبب ہو اس کے گندا ہونے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے۔
(2) ”جس رات“ یہ مکی زندگی کے آخری دور کی بات ہے۔ گویا معراج کے وقت ہی آپ کو اشارہ فرما دیا گیا کہ شراب حرام ہوگی اگرچہ حرمت کا حکم اپنے مقررہ وقت پر اتر ا، یعنی 3 ہجری میں۔
(3) ”دودھ پکڑ لیا“ گویا آپ پہلے سے شراب جیسی قبیح چیز سے نفرت فرماتے تھے اور کوئی عاقل اورسنجیدہ شخص عقل کو مغلوب کرنے والی چیز کو بخوبی پسند نہیں کر سکتا۔ بعض روایا ت میں ہے کہ آپ نے اس وقت حضرت جبریل علیہ السلام سے بھی آنکھوں آنکھوں میں مشورہ فرمایا۔ انھوں نے بھی دودھ ہی کی طرف اشارہ کیا۔
(4) ”اللہ کا شکر ہے“ کیو نکہ شراب قبول کرنے کی صورت میں شراب حلال رہتی اور حرمت کا حکم نہ آتا۔ گویا یہ پیشکش اور آپ کی قبولیت دراصل اظہار تھا اس بات کا کہ اسلام دین فطرت ہے اور اس میں کوئی حکم خلاف فطرت نہیں آ سکتا۔جو شخص اصل فطرت انسانیہ پر قائم ہے، وہ مسلمان ہے۔ دین اسلام، فطرت انسانیہ ہی کی تفصیل ہے۔
(5) ”فطری چیز“ کیونکہ دودھ انسان کی بہترین خوراک ہے۔ ابتدا میں بچے کو سوائے دودھ کے کوئی خوراک مفید ہی نہیں اور بعد میں دودھ واحد مشروب ہے جو کھانے اور پینے دونوں کی جگہ کفایت کر سکتا ہے اور بہت سی بیماریوں سے بچاؤ کرتا ہے۔
(6) ”گمراہ ہو جاتی“ اور یہ کو ئی بعید بات نہیں۔ شراب پینے والی سب قومیں گمراہ ہوئیں اور رہی ہیں۔ مغلوب العقل شخص کیسے صحیح فیصلہ کر سکتا ہے؟ ایسے لوگوں سے حکومتیں چھن جاتی ہے اور وہ در بدر کی ٹھوکر یں کھاتے پھرتے ہیں۔ اگر پوری قوم ہی شرابی ہو تو نتائج اس سےبھی زیادہ ہولناک ہوتے ہیں اور قوم من حیث المجموع گمراہ وتباہ ہو جاتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5660]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5603
5603. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ شب معراج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ کا پیالہ اور شراب کا پیالہ پیش کیا گیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5603]
حدیث حاشیہ:
آپ نے دودھ کو اختیار فرمایا یہ آپ کے دین فطرت پر ہونے کی دلیل تھی۔
آپ نے دودھ کو اختیار فرمایا یہ آپ کے دین فطرت پر ہونے کی دلیل تھی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5603]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4709
4709. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: معراج کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس میں دو پیالے پیش کیے گئے: ایک میں شراب تھی اور دوسرے میں دودھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو دیکھا پھر دودھ کا پیالہ اٹھا لیا۔ حضرت جبرئیل ؑ نے کہا: تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے آپ کو فطرت کی طرف رہنمائی فرمائی۔ اگر آپ شراب کا پیالہ اٹھا لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4709]
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت انس ؓ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میرے پاس تین پیالے لائے گئے ایک میں دودھ دوسرے میں شہداور تیسرے میں شراب تھی۔
میں نے دودھ والا پیالہ لیا اور اسے نوش کر لیا۔
مجھے کہا گیا کہ تونے اور تیری امت نے فطرت کا انتخاب کیا ہے۔
“ (صحیح البخاري، الأشربة، حدیث: 5610)
حقیقت یہ ہے کہ واقعہ معراج کے وقت آپ کو تین پیالے پیش کیے گئے تھے لیکن ہر روای نے اپنی معلومات کے مطابق اس واقعے کو بیان کیا ہے پھر یہ مشروبات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مرتبہ پیش کیے گئے۔
ایک مرتبہ تو معراج سے پہلے بیت المقدس میں دوسری مرتبہ سدرہ المنتہیٰ کے پاس جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3887)
2۔
حدیث میں شراب کے بجائے دودھ کو اختیار کی وجہ تو بیان کی گئی ہے کہ اس سے گمراہی کا سدباب مقصود تھا لیکن شہد کے مقابلے میں دودھ کا انتخاب کیوں ہوا اس کی غالباً وجہ یہ تھی کہ دودھ شہد کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے اور اس سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور گوشت بھی پیدا ہوتا ہے۔
حافظ ابن حجرؒ نے یہ بھی لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی تھی جیسا کہ بعض روایات میں آتا ہے اور پیاس بجھانے کے لیے تو شہد کے بجائے دودھ ہی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
واللہ اعلم۔
(فتح الباری: 10/93)
1۔
حضرت انس ؓ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میرے پاس تین پیالے لائے گئے ایک میں دودھ دوسرے میں شہداور تیسرے میں شراب تھی۔
میں نے دودھ والا پیالہ لیا اور اسے نوش کر لیا۔
مجھے کہا گیا کہ تونے اور تیری امت نے فطرت کا انتخاب کیا ہے۔
“ (صحیح البخاري، الأشربة، حدیث: 5610)
حقیقت یہ ہے کہ واقعہ معراج کے وقت آپ کو تین پیالے پیش کیے گئے تھے لیکن ہر روای نے اپنی معلومات کے مطابق اس واقعے کو بیان کیا ہے پھر یہ مشروبات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مرتبہ پیش کیے گئے۔
ایک مرتبہ تو معراج سے پہلے بیت المقدس میں دوسری مرتبہ سدرہ المنتہیٰ کے پاس جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3887)
2۔
حدیث میں شراب کے بجائے دودھ کو اختیار کی وجہ تو بیان کی گئی ہے کہ اس سے گمراہی کا سدباب مقصود تھا لیکن شہد کے مقابلے میں دودھ کا انتخاب کیوں ہوا اس کی غالباً وجہ یہ تھی کہ دودھ شہد کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے اور اس سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور گوشت بھی پیدا ہوتا ہے۔
حافظ ابن حجرؒ نے یہ بھی لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی تھی جیسا کہ بعض روایات میں آتا ہے اور پیاس بجھانے کے لیے تو شہد کے بجائے دودھ ہی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
واللہ اعلم۔
(فتح الباری: 10/93)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4709]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5603
5603. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ شب معراج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ کا پیالہ اور شراب کا پیالہ پیش کیا گیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5603]
حدیث حاشیہ:
(1)
دودھ اور شراب کے دو پیالے پیش کرنے کے بعد آپ کو اختیار دیا گیا تھا کہ آپ ان میں سے جو چاہیں اپنے لیے پسند کر لیں تو آپ نے دودھ کا پیالہ پسند کیا۔
حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ سے کہا:
اگر آپ شراب کا پیالہ پسند کرتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
(2)
دودھ کا پیالہ منتخب کرنے سے مراد دین فطرت کو اختیار کرنا تھا۔
واللہ أعلم
(1)
دودھ اور شراب کے دو پیالے پیش کرنے کے بعد آپ کو اختیار دیا گیا تھا کہ آپ ان میں سے جو چاہیں اپنے لیے پسند کر لیں تو آپ نے دودھ کا پیالہ پسند کیا۔
حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ سے کہا:
اگر آپ شراب کا پیالہ پسند کرتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
(2)
دودھ کا پیالہ منتخب کرنے سے مراد دین فطرت کو اختیار کرنا تھا۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5603]
Sahih Bukhari Hadith 5576 in Urdu
محمد بن الوليد الزبيدي ← محمد بن شهاب الزهري