🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ یعنی آپ آڈیو ، ویڈیو بھیجیں ہم ان شاء اللہ ٹیکسٹ/ پی ڈی ایف میں بنا دیں گے۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما أنزل الله داء إلا أنزل له شفاء:
باب: اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5678
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلاَّ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً» .
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواحمد زبیری نے بیان کیا، ان سے عمر بن سعید بن ابی حسین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5678]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5678
ما أنزل الله داء إلا أنزل له شفاء
سنن ابن ماجه
3439
ما أنزل الله داء إلا أنزل له شفاء
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5678 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5678
حدیث حاشیہ:
ہاں بڑھاپا اور موت دو ایسی بیماریاں ہیں جن کی کوئی دوا نہیں اتاری گئی۔
لفظ ''انزل'' میں باریک اشارہ اس طرف ہے کہ بارش جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اس سے بھی بہت بیماریوں کے جراثیم پیدا ہوتے ہیں اور اس کے دفعیہ کے اثرات بھی نازل ہوتے رہتے ہیں سچ فرمایا ﴿وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ﴾ (الأنبیاء: 30)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5678]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5678
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ تم بیماری کا علاج کرو لیکن حرام چیزوں سے دوا نہ کرو۔
(سنن أبي داود، الطب، حدیث: 3874)
دراصل امام بخاری رحمہ اللہ ان صوفیوں کی تردید کرنا چاہتے ہیں جن کا موقف ہے کہ انسان اس وقت درجۂ ولایت پر پہنچتا ہے جب اسے بیماری لاحق ہو تو اس کا علاج نہ کرے بلکہ اس بیماری پر خود کو راضی رکھے، حالانکہ علاج کرنا سنت ہے جیسا کہ مذکور حدیث میں صراحت ہے لیکن اس سلسلے میں حرام چیزیں علاج کے لیے استعمال نہ کی جائیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات مریض دوائی کے استعمال سے صحت یاب نہیں ہوتا اس کی وجہ وہاں بیماری کی صحیح تشخیص اور صحیح تجویز، نیز دوا کا فقدان ہوتا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ہر مرض کی دوا ہے۔
جب کوئی دوا، بیماری کے نشانے پر بیٹھ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریض تندرست ہو جاتا ہے۔
(صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5741 (2204) (1)
البتہ جب موت قریب آ جائے یا بڑھاپا دستک دینے لگے تو اس کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5678]

Sahih Bukhari Hadith 5678 in Urdu