🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
69. باب التلبيد:
باب: خطمی (یا گوند وغیرہ) سے بالوں کو جمانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5914
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" مَنْ ضَفَّرَ فَلْيَحْلِقْ، وَلَا تَشَبَّهُوا بِالتَّلْبِيدِ"، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَقُولُ:" لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُلَبِّدًا".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ جو شخص سر کے بالوں کو گوند لے (وہ حج یا عمرے سے فارغ ہو کر سر منڈائے) اور جیسے احرام میں بالوں کو جما لیتے ہیں غیر احرام میں نہ جماؤ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بال جماتے دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5914]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5914
من ضفر فليحلق ولا تشبهوا بالتلبيد رأيت رسول الله ملبدا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5914 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5914
حدیث حاشیہ:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ بیان کر کے اپنے والد کا رد کیا کہ انہوں نے تلبید سے منع کیا حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبید کی، بہر حال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ مطلب نہ تھا بلکہ ان کا مطلب یہ ہے کہ غیر احرام میں احرام والوں کی مشابہت کر کے تلبید نہ کرو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5914]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5914
حدیث حاشیہ:
امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ موقف تھا کہ جو شخص بحالت احرام اپنے سر کے بالوں کو گوندھ کر ان کی مینڈھیاں بنا لیتا ہے تاکہ وہ پراگندہ نہ ہوں اسے چاہیے کہ فراغت کے بعد انہیں چھوٹا کرانے کے بجائے منڈوائے جیسا کہ تلبید کرنے والا اپنے سر کے بالوں کو منڈواتا ہے۔
انہوں نے بالوں کے گوندھنے کو گوند وغیرہ کے ساتھ جمانے سے تشبیہ دی۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا کہ میرے والد گرامی تلبید کے عمل کو بہتر خیال نہیں کرتے، اس لیے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا حوالہ دیا کہ اگر تلبید کا عمل بہتر نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے عمل میں کیوں لاتے۔
(فتح الباري: 442/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5914]