🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب قضاء الصلوات الأولى فالأولى:
باب: اگر کئی نمازیں قضاء ہو جائیں تو ان کو ترتیب کے ساتھ پڑھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 598
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ، قَالَ:" جَعَلَ عُمَرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ يَسُبُّ كُفَّارَهُمْ، وَقَالَ: مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى غَرَبَتْ، قَالَ: فَنَزَلْنَا بُطْحَانَ فَصَلَّى بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے حدیث بیان کی، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے جو ابی کثیر کے بیٹے ہیں حدیث بیان کی ابوسلمہ سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر (ایک دن) کفار کو برا بھلا کہنے لگے۔ فرمایا کہ سورج غروب ہو گیا، لیکن میں (لڑائی کی وجہ سے) نماز عصر نہ پڑھ سکا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم وادی بطحان کی طرف گئے۔ اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز) غروب شمس کے بعد پڑھی اس کے بعد مغرب پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 598]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے دن کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں غروب آفتاب تک بمشکل نماز عصر پڑھ سکا ہوں۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر ہم لوگ وادی بطحان میں گئے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آفتاب غروب ہو جانے کے بعد نماز (عصر) پڑھی، اس کے بعد نماز مغرب ادا فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 598]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة إمام مكثر
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 598 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 598
تشریح:
حدیث اور باب میں مطابقت ظاہر ہے کہ آپ نے پہلے عصر کی نماز ادا کی پھر مغرب کی۔ ثابت ہوا کہ فوت شدہ نمازوں میں ترتیب کا خیال ضروری ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 598]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:598
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ کا رجحان یہ معلوم ہوتا ہے کہ حاضر نمازوں کی طرح فوت شدہ نمازوں کو بھی ترتیب کے مطابق ادا کیا جائے، جیسا کہ مذکورہ حدیث سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔
اس روایت میں صرف نماز عصر کا بیان ہے جبکہ دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہر، عصر اور مغرب تین نمازیں فوت ہوئی تھیں، جنھیں عشاء کے وقت حسب ترتیب ادا کیا گیا، آخر میں نماز عشاء باجماعت ادا فرمائی۔
اگرچہ بعض فقہاء کا موقف ہے کہ پہلے، وقت کی نماز ادا کی جائے، اس کے بعد سابقہ فوت شدہ نمازیں ادا کی جائیں، تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ مبارکہ یہ ہے کہ پہلے فوت شدہ نمازیں حسب ترتیب پڑھی جائیں، پھر حاضر نماز کو ادا کیا جائے۔
اگرچہ آپ کا مجرد فعل وجوب پر دلالت نہیں کرتا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر عمل کرنے میں ہی خیرو برکت ہے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ جنگ خندق کے روز مشرکین مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر مشغول کیا کہ آپ کی چار نمازیں رہ گئیں۔
آپ نے فرصت کے وقت حضرت بلال ؓ کو حکم دیا، انھوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی۔
پھر انھوں نے اقامت کہی تو آپ نے نماز عصر پڑھائی، پھر انھوں نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب کی نماز پڑھائی، پھر انھوں نے اقامت کہی تو آپ نے نماز عشاء پڑھائی۔
(مسند أحمد: 375/1) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فوت شدہ نمازوں کی قضا اور وقت کی نماز کے درمیان ترتیب ضروری ہے۔
اس کے علاوہ نماز کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 631)
اس امر نبوی کے تحت نماز کے سلسلے میں جتنے بھی افعال و اعمال آئیں گے، ہمارے نزدیک ان سب کا ادا کرنا ضروری ہے۔
والله أعلم.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 598]

Sahih Bukhari Hadith 598 in Urdu