صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب من وصل وصله الله:
باب: جو شخص ناطہٰ جوڑے گا اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاپ رکھے گا۔
حدیث نمبر: 5987
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّي سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ قَالَتْ: الرَّحِمُ هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ مِنَ الْقَطِيعَةِ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ؟، قَالَتْ: بَلَى يَا رَبِّ، قَالَ فَهُوَ لَكِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ سورة محمد آية 22".
مجھ سے بشر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معاویہ بن ابی مزرد نے خبر دی، کہا کہ میں نے اپنے چچا سعید بن یسار سے سنا، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی اور جب اس سے فراغت ہوئی تو رحم نے عرض کیا کہ یہ اس شخص کی جگہ ہے جو قطع رحمی سے تیری پناہ مانگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہاں کیا تم اس پر راضی نہیں کہ میں اس سے جوڑوں گا جو تم سے اپنے آپ کو جوڑے اور اس سے توڑ لوں گا جو تم سے اپنے آپ کو توڑ لے؟ رحم نے کہا کیوں نہیں، اے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پس یہ تجھ کو دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو «فهل عسيتم إن توليتم أن تفسدوا في الأرض وتقطعوا أرحامكم» یعنی ”کچھ عجیب نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم ملک میں فساد برپا کرو اور رشتے ناطے توڑ ڈالو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 5987]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا فرمائی۔ جب ان کو پیدا کرنے سے فارغ ہوا تو رحم (رشتہ داری) نے عرض کی: «هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ مِنَ الْقَطِيعَةِ» ”یہ قطع رحمی سے تیری پناہ لینے کا مقام ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «نَعَمْ» ”ہاں ایسا ہی ہے۔ کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ میں اس سے تعلقات قائم کروں گا جو تیرے ساتھ تعلق قائم کرے گا اور میں اس سے اپنے تعلقات ختم کر لوں گا جو تیرے ساتھ تعلق ختم کرے گا؟“ رحم نے کہا: «بَلَى يَا رَبِّ» ”کیوں نہیں اے میرے رب۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”یہ (اعزاز) میں نے تجھے دیا۔““ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے بعد) فرمایا: ”اگر تمہارا دل چاہے تو یہ آیت پڑھ لو: ﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ﴾ [سورة محمد: 22] ”قریب ہے اگر تمہیں اختیار ملے تو زمین میں فساد کرو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو۔“” [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 5987]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن يسار، أبو الحباب سعيد بن يسار ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥معاوية بن أبي مزرد المدني معاوية بن أبي مزرد المدني ← سعيد بن يسار | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← معاوية بن أبي مزرد المدني | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥بشر بن محمد السختياني، أبو محمد بشر بن محمد السختياني ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | صدوق رمي بالإرجاء |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4830
| خلق الله الخلق فلما فرغ منه قامت الرحم فأخذت بحقو الرحمن فقال له مه قالت هذا مقام العائذ بك من القطيعة ألا ترضين أن أصل من وصلك أقطع من قطعك قالت بلى يا رب قال فذاك |
صحيح البخاري |
5988
| الرحم شجنة من الرحمن من وصلك وصلته من قطعك قطعته |
صحيح البخاري |
7502
| خلق الله الخلق فلما فرغ منه قامت الرحم فقال مه قالت هذا مقام العائذ بك من القطيعة ألا ترضين أن أصل من وصلك أقطع من قطعك قالت بلى يا رب قال فذلك لك |
صحيح البخاري |
5987
| الله خلق الخلق حتى إذا فرغ من خلقه قالت الرحم هذا مقام العائذ بك من القطيعة أما ترضين أن أصل من وصلك أقطع من قطعك |
صحيح مسلم |
6518
| الله خلق الخلق حتى إذا فرغ منهم قامت الرحم فقالت هذا مقام العائذ من القطيعة أصل من وصلك أقطع من قطعك |
Sahih Bukhari Hadith 5987 in Urdu
سعيد بن يسار ← أبو هريرة الدوسي