🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب قول الله تعالى: {يريدون أن يبدلوا كلام الله} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الفتح) ارشاد ”یہ گنوار چاہتے ہیں کہ اللہ کا کلام بدل دیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7502
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهُ قَامَتِ الرَّحِمُ، فَقَالَ: مَهْ، قَالَتْ: هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ مِنَ الْقَطِيعَةِ، فَقَالَ: أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ؟، قَالَتْ: بَلَى يَا رَبِّ، قَالَ: فَذَلِكِ لَكِ، ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ سورة محمد آية 22.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن ابی مزرد نے بیان کیا اور ان سے سعید بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ٹھہر جا۔ اس نے کہا کہ یہ قطع رحم (ناطہٰ توڑنا) سے تیری پناہ مانگنے کا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں کہ میں ناطہٰ کو جوڑنے والے سے اپنے رحم کا ناطہٰ جوڑوں اور ناطہٰ کو کاٹنے والوں سے جدا ہو جاؤں۔ اس نے کہا کہ ضرور، میرے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہی تیرا مقام ہے۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (سورۃ محمد کی) یہ آیت پڑھی «فهل عسيتم إن توليتم أن تفسدوا في الأرض وتقطعوا أرحامكم‏» ممکن ہے کہ اگر تم حاکم بن جاؤ تو زمین میں فساد کرو اور قطع رحم کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7502]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، جب وہ اس سے فارغ ہوا تو رحم کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «مَهْ» ٹھہر جا۔ اس نے عرض کیا: اے اللہ! یہ قطع رحمی سے تیری پناہ مانگنے کا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ جو تجھے ملائے گا میں اسے ملاؤں گا اور جو تجھے توڑے گا میں اسے توڑوں گا؟ رحم نے عرض کیا: اے میرے رب! کیوں نہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بس یہ تیرے لیے ہے۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ﴾ [سورة محمد: 22] پھر یقیناً تم سے توقع ہے کہ اگر تم حاکم بن جاؤ تو تم زمین میں فساد کرو اور اپنے رشتے ناتے توڑ ڈالو۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7502]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن يسار، أبو الحباب
Newسعيد بن يسار ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥معاوية بن أبي مزرد المدني
Newمعاوية بن أبي مزرد المدني ← سعيد بن يسار
صدوق حسن الحديث
👤←👥سليمان بن بلال القرشي، أبو محمد، أبو أيوب
Newسليمان بن بلال القرشي ← معاوية بن أبي مزرد المدني
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي أويس الأصبحي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي أويس الأصبحي ← سليمان بن بلال القرشي
صدوق يخطئ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4830
خلق الله الخلق فلما فرغ منه قامت الرحم فأخذت بحقو الرحمن فقال له مه قالت هذا مقام العائذ بك من القطيعة ألا ترضين أن أصل من وصلك أقطع من قطعك قالت بلى يا رب قال فذاك
صحيح البخاري
5988
الرحم شجنة من الرحمن من وصلك وصلته من قطعك قطعته
صحيح البخاري
7502
خلق الله الخلق فلما فرغ منه قامت الرحم فقال مه قالت هذا مقام العائذ بك من القطيعة ألا ترضين أن أصل من وصلك أقطع من قطعك قالت بلى يا رب قال فذلك لك
صحيح البخاري
5987
الله خلق الخلق حتى إذا فرغ من خلقه قالت الرحم هذا مقام العائذ بك من القطيعة أما ترضين أن أصل من وصلك أقطع من قطعك
صحيح مسلم
6518
الله خلق الخلق حتى إذا فرغ منهم قامت الرحم فقالت هذا مقام العائذ من القطيعة أصل من وصلك أقطع من قطعك
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7502 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7502
حدیث حاشیہ:
اللہ تعالیٰ کا ایک واضح کلام نقل ہوا یہ باب سے مطابقت ہے۔
دوسری روایت میں ہے کہ اللہ نے ناطہ سے فصیح بلیغ زبان میں یہ گفتگو کی۔
ترجمہ باب سے اس سے نکلا کہ اللہ تعالی نے ناطہ سے کلام فرمایا۔
آیت میں یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ اکثر لوگ دنیاوی اقتدار ودولت ملنے پر فساد وقطع رحمی ضرور کرتےہیں۔
إلا ماشاء اللہ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7502]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7502
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےتائید کے طور پر یہ آیت کریمہ خود تلاوت فرمائی تاکہ صلہ رحمی کی اہمیت اُجاگر ہو۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4831)

اس حدیث کے مطابق اللہ سبحانہ وتعالیٰ خود رحم سے ہم کلام ہو اور اس سے خطاب کیا، اس کلام کو ظاہر پر محمول کرتے ہوئے مبنی برحقیقت تسلیم کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ کے خطابات اس کی نازل کی ہوئی کتابوں میں محصور نہیں ہیں۔
اس کے خطابات ایسی صفات ہیں جو اس کی مشیت سے متعلق ہیں۔
مخلوق کے ساتھ کسی بھی انداز سے ان کی مشابہت نہیں ہے۔
آیت کریمہ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اکثر لوگ دنیاوی اقتدار اور مال ودولت ملنے پر اپنے رشتے داروں سے فساد اور قطع رحمی کا ارتکاب کرتے ہیں۔
العیاذ باللہ۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7502]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6518
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بے شک نے مخلوق کوپیدا کیا،حتیٰ کہ جب وہ ان کے پیدا کرنے سے فارغ ہواتورحم(رشتہ داری) نے کھڑے ہوکرکہا،یہ اس کا مقام ہے،جو قطع رحمی سے پناہ چاہتا ہے،اللہ نےفرمایا،ہاں،کیا تو اس پر راضی نہیں ہے کہ میں اس سے (تعلق ورابطہ) جوڑوں،جوتجھے جوڑے اور اس سے(تعلق وربط) کاٹ لوں جو تجھے توڑے؟حق قرابت نے کہا،کیوں نہیں،اللہ نے فرمایا،یہ تجھے حاصل ہے،پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،اگرتم چاہوتو یہ آیت پڑھ لو،"کہیں ایسے تو نہیں ہے،اگر تمہیں اقتدار ملے تو تم... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6518]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کی باہمی قرابت اور رشتہ داری کو اللہ تعالیٰ کے ہاں خصوصی اہمیت حاصل ہے،
بلکہ بخاری شریف کی روایت میں ہے،
رحم،
رحمٰان سے مشتق ہے اور اللہ کی صفت رحمت ہی اس کا سرچشمہ و منبع ہے۔
اس لیے جو صلہ رحمی کرتے ہوئے رشتہ داروں اور قرابت کے حقوق ادا کرے گا اور ان سے حسن سلوک سے پیش آئے گا،
اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سے وابستہ کر لے گا اور اپنا بنا لے گا اور جو قطع رحمی کا رویہ اختیار کرے گا،
اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سے کاٹ دے گا اور اس کو دور اور بے تعلق کر دے گا اور ایسا انسان اللہ کے لطف و کرم اور اس کے احسان و اکرام سے محروم ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6518]

Sahih Bukhari Hadith 7502 in Urdu