صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب الوصاة بالجار:
باب: پڑوسی کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: Q6014
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِلَى قَوْلِهِ مُخْتَالا فَخُورًا سورة النساء آية 36
اور اللہ تعالیٰ کا (سورۃ نساء میں) فرمان «واعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا وبالوالدين إحسانا» ”اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔“ ارشاد «مختالا فخورا» تک۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: Q6014]
حدیث نمبر: 6014
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا زَالَ يُوصِينِي جِبْرِيلُ بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن محمد نے خبر دی، انہیں عمرہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں باربار اس طرح وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک نہ کر دیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6014]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”حضرت جبرئیل علیہ السلام بار بار مجھے پڑوسی کے متعلق وصیت کرتے رہے تاآنکہ مجھے خیال گزرا کہ شاید وہ اسے وراثت میں شریک کردیں گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6014]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6014
| ما زال يوصيني جبريل بالجار حتى ظننت أنه سيورثه |
صحيح مسلم |
6687
| ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه ليورثنه |
جامع الترمذي |
1942
| ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه |
سنن أبي داود |
5151
| ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى قلت ليورثنه |
سنن ابن ماجه |
3673
| ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6014 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6014
حدیث حاشیہ:
پڑوسی کا بہت ہی بڑا حق ہے مگر بہت کم لوگ اس مسئلہ پر عمل کرتے ہیں۔
پڑوسی کا بہت ہی بڑا حق ہے مگر بہت کم لوگ اس مسئلہ پر عمل کرتے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6014]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1942
پڑوسی کے حقوق کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جبرائیل علیہ السلام پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ہمیشہ وصیت (تاکید) کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ اسے وراثت میں (بھی) شریک ٹھہرا دیں گے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1942]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جبرائیل علیہ السلام پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ہمیشہ وصیت (تاکید) کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ اسے وراثت میں (بھی) شریک ٹھہرا دیں گے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1942]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎:
اس سے معلوم ہواکہ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور اس کے حقوق کا خیال رکھنے کی اسلام میں کتنی اہمیت اور تاکید ہے۔
وضاحت: 1؎:
اس سے معلوم ہواکہ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور اس کے حقوق کا خیال رکھنے کی اسلام میں کتنی اہمیت اور تاکید ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1942]
Sahih Bukhari Hadith 6014 in Urdu
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق