صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّمَادُحِ:
باب: تعریف میں مبالغہ کرنا منع، مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 6060
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُثْنِي عَلَى رَجُلٍ وَيُطْرِيهِ فِي الْمِدْحَةِ، فَقَالَ:" أَهْلَكْتُمْ أَوْ قَطَعْتُمْ ظَهْرَ الرَّجُلِ".
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ایک شخص دوسرے شخص کی تعریف کر رہا ہے اور تعریف میں بہت مبالغہ سے کام لے رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسے ہلاک کر دیا یا (یہ فرمایا کہ) تم نے اس شخص کی کمر کو توڑ دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6060]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا کہ وہ دوسرے کی تعریف کر رہا تھا اور تعریف کرتے وقت خوب مبالغہ آمیزی کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے ہلاک کر دیا۔“ یا فرمایا: ”تم نے اس کی کمر توڑ دی ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6060]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6061
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ رَجُلٌ خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ" يَقُولُهُ مِرَارًا" إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ كَذَا وَكَذَا، إِنْ كَانَ يُرَى أَنَّهُ كَذَلِكَ وَحَسِيبُهُ اللَّهُ وَلَا يُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا"، قَالَ وُهَيْبٌ: عَنْ خَالِدٍ وَيْلَكَ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے، ان سے ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک شخص کا ذکر آیا تو ایک دوسرے شخص نے ان کی مبالغہ سے تعریف کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ کئی بار فرمایا، اگر تمہارے لیے کسی کی تعریف کرنی ضروری ہو تو یہ کہنا چاہیئے کہ میں اس کے متعلق ایسا خیال کرتا ہوں، باقی علم اللہ کو ہے وہ ایسا ہے۔ اگر اس کو یہ معلوم ہو کہ وہ ایسا ہی ہے اور یوں نہ کہے کہ وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہی ہے۔ اور وہیب نے اسی سند کے ساتھ خالد سے یوں روایت کی ارے تیری خرابی تو نے اس کی گردن کاٹ ڈالی یعنی لفظ «ويحك» کے بجائے لفظ «ويلك» بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6061]
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک آدمی کا ذکر آیا تو ایک دوسرے شخص نے اس کی خوب تعریف کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس! تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ ڈالی ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ کئی بار دہرایا۔ ”اگر کوئی اپنے ساتھی کی تعریف کرنا ہی چاہتا ہو تو یوں کہے: میں اس کے متعلق ایسا خیال کرتا ہوں (اور یہ بھی اس صورت میں) اگر وہ جانتا ہے کہ دوسرا شخص واقعی ایسا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا محاسبہ کرنے والا ہے، اللہ تعالیٰ کے سامنے میں اس کی صفائی نہیں دیتا (کیونکہ وہ تو سب کو خوب جانتا ہے)“ وہیب نے خالد سے «وَيْحَكَ» کی بجائے «وَيْلَكَ» کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6061]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة