صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
68. باب التبسم والضحك:
باب: مسکرانا اور ہنسنا۔
حدیث نمبر: 6091
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا احْتَلَمَتْ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ" فَضَحِكَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: أَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَبِمَ شَبَهُ الْوَلَدِ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں ان کے والد نے خبر دی، انہیں زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے، انہیں ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ حق سے نہیں شرماتا، کیا عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جب عورت پانی دیکھے (تو اس پر غسل واجب ہے) اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہنسیں اور عرض کیا، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر بچہ کی صورت ماں سے کیوں ملتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6091]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمة | صحابية | |
👤←👥زينب بنت أم سلمة المخزومية زينب بنت أم سلمة المخزومية ← أم سلمة زوج النبي | صحابية صغيرة | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← زينب بنت أم سلمة المخزومية | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6091
| بم شبه الولد |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6091 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6091
حدیث حاشیہ:
عورت کے ہاں بھی منی پیدا ہوتی ہے پھر احتلام کیوں نا ممکن ہے۔
اس حدیث کی مناسبت باب سے یوں ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو ہنسی آ گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع نہیں فرمایا ایسے مواقع پر ہنسی آ جانا یہ فطری عادت ہے جو مذموم نہیں ہے۔
عورت کے ہاں بھی منی پیدا ہوتی ہے پھر احتلام کیوں نا ممکن ہے۔
اس حدیث کی مناسبت باب سے یوں ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو ہنسی آ گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع نہیں فرمایا ایسے مواقع پر ہنسی آ جانا یہ فطری عادت ہے جو مذموم نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6091]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6091
حدیث حاشیہ:
(1)
اسلام ہمیں تمام معاملات میں افراط و تفریط سے ہٹ کر اعتدال پسندی کا حکم دیتا ہے۔
خوشی کے موقع پر ہمیں باچھیں کھول کر ہنسنے کے بجائے مسکراہٹ کا حکم دیتا ہے۔
ہمیں یہ بھی نہیں کہتا کہ ہر وقت ''عبوسا قمطريرا'' (منہ بنائے رکھنا)
کی تصویر پیش کریں۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہنسنے اور مسکراہٹ کے انداز کو پیش کیا ہے۔
ان تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر حالات میں خوشی یا تعجب کے موقع پر ہلکی سی مسکراہٹ پر اکتفا کرتے تھے۔
کبھی کبھی آپ ہنس پڑتے تھے حتی کہ آپ کے اگلے دانت کھل جاتے۔
کثرت سے ہنستے رہنا یا ہاتھوں پر ہاتھ مار کر لوٹ پوٹ ہونا شریعت کو پسند نہیں کیونکہ اس سے انسان کا وقار مجروح ہوتا ہے۔
اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں، آپ کی اقتدا کو اختیار کیا جائے۔
قرآن کریم نے اس سلسلے میں ان الفاظ میں رہنمائی کی ہے:
”انہیں چاہیے کہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ۔
“ (التوبة: 9: 82)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
”ہنسنا کم کر دو کیونکہ زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے۔
'“ (سنن ابن ماجة، الزھد، حدیث: 4217)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابۂ کرام کے پاس آئے جبکہ وہ ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے، آپ نے فریاما:
'”مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تمہیں ان حقائق کا پتا چل جائے جن کا مجھے علم ہے تو تم بہت کم ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔
“ (الأدب المفرد، حدیث: 284)
(1)
اسلام ہمیں تمام معاملات میں افراط و تفریط سے ہٹ کر اعتدال پسندی کا حکم دیتا ہے۔
خوشی کے موقع پر ہمیں باچھیں کھول کر ہنسنے کے بجائے مسکراہٹ کا حکم دیتا ہے۔
ہمیں یہ بھی نہیں کہتا کہ ہر وقت ''عبوسا قمطريرا'' (منہ بنائے رکھنا)
کی تصویر پیش کریں۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہنسنے اور مسکراہٹ کے انداز کو پیش کیا ہے۔
ان تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر حالات میں خوشی یا تعجب کے موقع پر ہلکی سی مسکراہٹ پر اکتفا کرتے تھے۔
کبھی کبھی آپ ہنس پڑتے تھے حتی کہ آپ کے اگلے دانت کھل جاتے۔
کثرت سے ہنستے رہنا یا ہاتھوں پر ہاتھ مار کر لوٹ پوٹ ہونا شریعت کو پسند نہیں کیونکہ اس سے انسان کا وقار مجروح ہوتا ہے۔
اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں، آپ کی اقتدا کو اختیار کیا جائے۔
قرآن کریم نے اس سلسلے میں ان الفاظ میں رہنمائی کی ہے:
”انہیں چاہیے کہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ۔
“ (التوبة: 9: 82)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
”ہنسنا کم کر دو کیونکہ زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے۔
'“ (سنن ابن ماجة، الزھد، حدیث: 4217)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابۂ کرام کے پاس آئے جبکہ وہ ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے، آپ نے فریاما:
'”مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تمہیں ان حقائق کا پتا چل جائے جن کا مجھے علم ہے تو تم بہت کم ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔
“ (الأدب المفرد، حدیث: 284)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6091]
زينب بنت أم سلمة المخزومية ← أم سلمة زوج النبي