🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
104. باب قول الرجل جعلني الله فداك:
باب: کسی کا یہ کہنا اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6185
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا
‏‏‏‏ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ہم نے آپ پر اپنے باپوں اور ماؤں کو قربان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: Q6185]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6185
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَقْبَلَ هُوَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةُ مُرْدِفُهَا عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَلَمَّا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَثَرَتِ النَّاقَةُ، فَصُرِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ، وَأَنَّ أَبَا طَلْحَةَ قَالَ: أَحْسِبُ اقْتَحَمَ عَنْ بَعِيرِهِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ، هَلْ أَصَابَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْمَرْأَةِ" فَأَلْقَى أَبُو طَلْحَةَ ثَوْبَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَقَصَدَ قَصْدَهَا، فَأَلْقَى ثَوْبَهُ عَلَيْهَا، فَقَامَتِ الْمَرْأَةُ، فَشَدَّ لَهُمَا عَلَى رَاحِلَتِهِمَا، فَرَكِبَا فَسَارُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ، أَوْ قَالَ أَشْرَفُوا عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ"، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُهَا حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ وہ اور ابوطلحہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ منورہ کے لیے) روانہ ہوئے۔ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے تھیں، راستہ میں کسی جگہ اونٹنی کا پاؤں پھسل گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین گر گئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے ابوطلحہ نے اپنی سواری سے فوراً اپنے کو گرا دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے اور عرض کیا: یا نبی اللہ! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے کیا آپ کو کوئی چوٹ آئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، البتہ عورت کو دیکھو۔ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لیا، پھر ام المؤمنین کی طرف بڑھے اور اپنا کپڑا ان کے اوپر ڈال دیا۔ اس کے بعد وہ کھڑی ہو گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین کے لیے ابوطلحہ نے پالان مضبوط باندھا۔ اب آپ نے سوار ہو کر پھر سفر شروع کیا، جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچے (یا یوں کہا کہ مدینہ دکھائی دینے لگا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «آيبون تائبون،‏‏‏‏ عابدون لربنا حامدون» ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرتے ہوئے اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے اور اس کی حمد بیان کرتے ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے برابر کہتے رہے یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6185]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، جبکہ ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے بیٹھی تھیں، راستے میں کسی جگہ اونٹنی کا پاؤں پھسلا تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ سے چھلانگ لگائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کی: اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے! کیا آپ کو چوٹ تو نہیں آئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، لیکن عورت کا پتا کرو۔ چنانچہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے چہرے پر کپڑا ڈال لیا، پھر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھے اور وہ کپڑا ان پر ڈال دیا۔ اس کے بعد وہ کھڑی ہو گئیں، پھر انہوں نے دونوں کے لیے پالان مضبوط کر کے باندھا تو وہ سوار ہو کر پھر چل پڑے، حتیٰ کہ جب وہ مدینہ طیبہ کے قریب پہنچے یا مدینہ طیبہ پر ان کی نظر پڑی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرتے ہوئے، اپنے رب کی عبادت کرنے والے اور اس کی حمد و ثنا کرنے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل یہ کلمات کہتے رہے یہاں تک کہ مدینہ طیبہ میں داخل ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6185]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥يحيى بن أبي إسحاق الحضرمي
Newيحيى بن أبي إسحاق الحضرمي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥بشر بن المفضل الرقاشي، أبو إسماعيل
Newبشر بن المفضل الرقاشي ← يحيى بن أبي إسحاق الحضرمي
ثقة ثبت
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← بشر بن المفضل الرقاشي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5968
آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون
صحيح البخاري
6185
آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون
صحيح مسلم
3280
آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6185 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6185
حدیث حاشیہ:
ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو اس حالت میں دیکھ کر از راہ تعظیم لفظ جعلني اللہ فداك (اللہ مجھ کو آپ پر قربان کرے)
بولا۔
جس کو آپ نے ناپسند نہیں فرمایا۔
اسی سے باب کا مطلب ثابت ہوا۔
مدینہ منورہ خیریت سے واپسی پر آپ نے آئبون تائبون الخ کے الفاظ استعمال فرمائے۔
اب بھی سفر سے وطن بخیریت واپسی پر ان الفاظ کا ورد کرنا مسنون ہے۔
خاص طور پر حاجی لوگ جب وطن پہنچیں تو یہ دعا پڑھتے ہوئے اپنے شہر یا بستی میں داخل ہوں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6185]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6185
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں صراحت ہے کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:
اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے! اگر ایسا کہنا جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے منع فرما دیتے۔
ہمارے رجحان کے مطابق اگر کوئی اپنے سے بڑے صاحب علم و فضل کو عزت افزائی کے لیے کہے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ثواب بھی دے گا کیونکہ یہ اس توقیر و احترام سے ہے جس کا شریعت نے ہمیں حکم دیا ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث ذکر کی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے گئے تو انہوں نے کہا:
اللہ کے رسول! آپ کا کیا حال ہے؟ اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ابھی تک تم نے اپنی بدویت کو نہیں چھوڑا۔
(شعب الإیمان للبیهقي: 459/6، رقم: 8892)
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے اور صحیح روایات کے مقابلے میں پیش نہیں کی جا سکتی۔
اگر صحیح بھی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مریض کو اس طرح کے کلمات نہیں کہنے چاہئیں بلکہ اس کے لیے انس و نرمی اور دعائے شفا کرنی چاہیے۔
(فتح الباري: 698/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6185]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5968
5968. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر سے واپس آ رہے تھے۔ میں ابو طلحہ ؓ کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور آپ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ کی بیوی پیچھے بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس دوران میں اونٹنی نے ٹھوکر کھائی۔ میں نے کہا عورت کی خبر گیری کرو، میں سواری سے اترا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہاری ماں ہیں۔ چنانچہ میں نے کجاوہ مضبوط کر کے باندھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سوار ہو گئے۔ جب آپ مدینہ طیبہ کے قریب آئے اور اسے دیکھا تو فرمایا: ہم واپس آنے والے ہیں اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں اسی کی عبادت کرنے والے ہیں، اپنے مالک کی حمد وثنا کرنے والے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5968]
حدیث حاشیہ:
غزوۂ خیبر میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بطور خدمت گار شریک ہوئے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کریں گے۔
حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اونٹنی کے پھسل جانے کے بعد تمام خدمات حضرت انس رضی اللہ عنہ نے سر انجام دیں، حالانکہ ایسا نہیں کیونکہ اس وقت ان کی عمر صرف دس برس تھی اور کم سن بچے تھے بلکہ یہ تمام خدمات ان کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے شوہر نامدار حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے انجام دی تھیں جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔
(صحیح البخاري، الجھاد والسیر، حدیث: 3086)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5968]

Sahih Bukhari Hadith 6185 in Urdu