🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
105. باب أحب الأسماء إلى الله عز وجل وقول الرجل لصاحبه يا بني:
باب: اللہ پاک کو کون سے نام زیادہ پسند ہیں اور کسی شخص کا کسی کو یوں کہنا بیٹا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6186
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ، فَقُلْنَا: لَا نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلَا كَرَامَةَ، فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" سَمِّ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ".
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، ان سے ابن المنکدر نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں سے ایک صاحب کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ ہم نے ان سے کہا کہ ہم تم کو ابوالقاسم کہہ کر نہیں پکاریں گے (کیونکہ ابوالقاسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت تھی) اور نہ ہم تمہاری عزت کے لیے ایسا کریں گے۔ ان صاحب نے اس کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمٰن رکھ لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6186]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن المنكدر القرشي
ثقة حافظ حجة
👤←👥صدقة بن الفضل المروزي، أبو الفضل
Newصدقة بن الفضل المروزي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6186
سم ابنك عبد الرحمن
صحيح مسلم
5595
أسم ابنك عبد الرحمن
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6186 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6186
حدیث حاشیہ:
حیات نبوی میں کسی کو ابو القاسم سے پکارنا باعث اشتباہ تھا کیونکہ ابو القاسم خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔
لہٰذا آپ نے ہر کسی کو کنیت ابو القاسم رکھنے سے منع فرمایا تاکہ اشتباہ نہ ہو۔
آپ کے بعد یہ کنیت رکھنا علماء نے جائز رکھا ہے۔
عبداللہ، عبدالرحمن اللہ کے نزدیک بڑے پیارے نام ہیں کیونکہ ان میں اللہ کی طرف نسبت ہے جو بندے کی بندگی کو ظاہر کرتے ہے۔
باب کا مضمون صریحاً ایک حدیث میں آیا ہے کہ أَحَبُّ الأسماء إلی اللہِ عبدُاللہ وعبدُ الرحمنِ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6186]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6186
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے عنوان میں ایک حدیث کا حصہ منتخب کیا ہے۔
پوری حدیث اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللہ کے ہاں پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں۔
(صحیح مسلم، الأدب، حدیث: 5587(2132)
ان ناموں کے پسندیدہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کی طرف بندگی کی نسبت کی۔
کسی بھی آدمی کے لیے بہت بڑی سعادت ہے کہ اسے ہر وقت اس عالی نسبت سے پکارا جائے۔
(2)
ان دونوں ناموں کی خصوصیت یہ ہے کہ قرآن کریم میں عبد کی اضافت اللہ اور الرحمٰن کی طرف ہوئی ہے۔
ان کے علاوہ وہ نام بھی ان سے ملحق ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے کسی نام کی طرف عبدیت کی نسبت ہو، جیسے عبدالقیوم، عبدالجبار اور عبدالرب وغیرہ۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6186]