🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
109. باب من سمى بأسماء الأنبياء:
باب: جس نے انبیاء کے نام پر نام رکھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6195
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں عدی بن ثابت نے کہا کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ جب آپ کے فرزند ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی دایہ مقرر ہو گئی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6195]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمروصحابي
👤←👥عدي بن ثابت الأنصاري
Newعدي بن ثابت الأنصاري ← البراء بن عازب الأنصاري
ثقة رمي بالتشيع
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عدي بن ثابت الأنصاري
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة إمام حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6195
له مرضعا في الجنة
صحيح البخاري
3255
له مرضعا في الجنة
صحيح البخاري
1382
له مرضعا في الجنة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6195 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6195
حدیث حاشیہ:
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کے نام پر بچوں کے نام رکھے جا سکتے ہیں۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لخت جگر کا نام ''جد اعلیٰ'' حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر ابراہیم رکھا تھا۔
حضرت عبداللہ بن سلام کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے نام یوسف رکھا تھا اور اسے اپنی گود میں بٹھایا۔
(الأدب المفرد، حدیث: 838)
سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ انہیں انبیاء علیہم السلام کے نام پر نام رکھنے بہت محبوب ہیں۔
(فتح الباري: 709/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6195]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1382
1382. حضرات براء بن عازب ؓ سے روایت ہے،انھوں نےفرمایا:جب (جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) حضرت ابراہیم ؑ کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جنت میں اس کے لیے ایک دودھ پلانے والی کو تعینات کردیاگیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1382]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے بھی ثابت ہوا کہ مسلمانوں کی اولاد جنت میں داخل ہوگی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے کے لیے اللہ نے مزید فضل یہ فرمایا کہ چونکہ آپ نے حالت رضاعت میں انتقال فرمایا تھا، لہٰذا اللہ پاک نے ان کو دودھ پلانے کے لیے جنت میں ایک انا کو مقرر فرما دیا۔
اللهم صلی علی محمد وعلی آل محمد وبارك وسلم
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1382]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1382
1382. حضرات براء بن عازب ؓ سے روایت ہے،انھوں نےفرمایا:جب (جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) حضرت ابراہیم ؑ کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جنت میں اس کے لیے ایک دودھ پلانے والی کو تعینات کردیاگیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1382]
حدیث حاشیہ:
(1)
جگر گوشہ رسول حضرت ابراہیم ؓ شیر خوارگی کی عمر میں فوت ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے پیش نظر جنت میں ان کے لیے دودھ پلانے والی دایہ کا بندوبست کر دیا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی اولاد جنت میں ہو گی۔
(2)
امام بخاری ؒ کا اس حدیث کو بیان کرنا اس موقف کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلمانوں کی اولاد جنت میں ہو گی۔
گویا آپ کو اس کے متعلق پہلے توقف تھا، پھر آپ نے اس کے متعلق اپنے رجحان کو جزم و وثوق سے بیان کیا۔
(فتح الباري: 311/3) (3)
امام بخاری ؒ نے اس سلسلے میں قیاس سے بھی کام لیا ہے کہ جب بچہ والدین کے لیے آگ سے حجاب بن سکتا ہے تو وہ خود آگ سے محجوب کیوں نہیں ہو سکتا۔
اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی نابالغ اولاد جنتی ہو گی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1382]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3255
3255. (م) حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ اسلم، غفار اور بعض قبیلے مزینہ اور جہینہ اللہ کے ہاں قیامت کےدن اسد، تمیم، ہوازن اور غطفان سے بہتر ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3255]
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں ہے کہ راوی حدیث اسماعیل نے حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے پوچھا:
کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر ابراہیم ؓ کو دیکھا تھا؟ تو انھوں نے فرمایا:
وہ صغرسنی ہی میں فوت ہو گئے تھے۔
اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کا نبی ہونا مقدر ہوتا تو وہ ضرور زندہ رہتے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
(صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6149)

امام بخاری ؒ نے جنت کا وصف بیان کیا ہے کہ اگر دنیا میں کوئی بچہ دودھ پینے کی عمر میں فوت ہو جائے تو جنت میں اسے دودھ پلانے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جیسا کہ آپ کے بیٹے حضرت ابراہیم ؓکے لیے کیا گیا تھا۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3255]

Sahih Bukhari Hadith 6195 in Urdu