یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
109. باب من سمى بأسماء الأنبياء:
باب: جس نے انبیاء کے نام پر نام رکھے۔
حدیث نمبر: 6196
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَمُّوا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ"، وَرَوَاهُ أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جریر بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت نہ اختیار کرو کیونکہ میں قاسم (تقسیم کرنے والا) ہوں اور تمہارے درمیان (علوم دین کو) تقسیم کرتا ہوں۔“ اور اس روایت کو انس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6196]
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت اختیار نہ کرو، میں تو «قَاسِمٌ» ”قاسم“ ہوں اور تمہارے درمیان تقسیم کرنے والا ہوں“ اس روایت کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6196]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3538
| تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي |
صحيح البخاري |
6187
| سموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي |
صحيح البخاري |
3114
| سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي جعلت قاسما أقسم بينكم |
صحيح البخاري |
3115
| سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي إنما أنا قاسم |
صحيح البخاري |
6196
| سموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي إنما أنا قاسم أقسم بينكم |
صحيح مسلم |
5589
| سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي بعثت قاسما أقسم بينكم |
صحيح مسلم |
5588
| تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي إنما أنا قاسم أقسم بينكم |
صحيح مسلم |
5591
| تسموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي أنا أبو القاسم أقسم بينكم |
صحيح مسلم |
5593
| سموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي |
جامع الترمذي |
2842
| إذا سميتم باسمي فلا تكتنوا بي |
سنن أبي داود |
4966
| من تسمى باسمي فلا يتكنى بكنيتي من تكنى بكنيتي فلا يتسمى باسمي |
سنن ابن ماجه |
3736
| تسموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي |
مسندالحميدي |
1267
| اسم ابنك عبد الرحمن |
Sahih Bukhari Hadith 6196 in Urdu
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← جابر بن عبد الله الأنصاري