🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب كيف يرد على أهل الذمة السلام:
باب: ذمیوں کے سلام کا جواب کس طرح دیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6258
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ".
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن ابی بکر بن انس نے خبر دی، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو تم اس کے جواب میں صرف «وعليكم» کہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6258]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عبيد الله بن أبي بكر الأنصاري، أبو معاذ
Newعبيد الله بن أبي بكر الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية
Newهشيم بن بشير السلمي ← عبيد الله بن أبي بكر الأنصاري
ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← هشيم بن بشير السلمي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6926
السام عليك قالوا يا رسول الله ألا نقتله قال لا إذا سلم عليكم أهل الكتاب فقولوا وعليكم
صحيح البخاري
6258
إذا سلم عليكم أهل الكتاب فقولوا وعليكم
صحيح مسلم
5652
إذا سلم عليكم أهل الكتاب فقولوا وعليكم
صحيح مسلم
5653
أهل الكتاب يسلمون علينا فكيف نرد عليهم قال قولوا وعليكم
جامع الترمذي
3301
إذا سلم عليكم أحد من أهل الكتاب فقولوا عليك قال عليك ما قلت قال وإذا جاءوك حيوك بما لم يحيك به الله
سنن أبي داود
5207
قولوا وعليكم
سنن ابن ماجه
3697
إذا سلم عليكم أحد من أهل الكتاب فقولوا وعليكم
المعجم الصغير للطبراني
664
الله رفيق يحب الرفق يعطي على الرفق ما لا يعطي على العنف
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6258 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6258
حدیث حاشیہ:
یہ بھی ایک خاص واقعہ سے متعلق ہے جب کہ یہودی نے صاف لفظوں میں بد دعا کے الفاظ سلام کی جگہ استعمال کئے تھے۔
آج کے دور میں غیر مسلم اگر کوئی اچھے لفظوں میں دعا سلام کرتا ہے تو اس کا جواب بھی اچھا ہی دینا چاہئے ﴿وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا﴾ میں عام حکم ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6258]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6258
حدیث حاشیہ:
(1)
بعض دیگر احادیث میں کفار کے سلام کے جواب میں صرف "علیکم" آیا ہے، یعنی واؤ کے بغیر۔
بعض اہل علم نے واؤ عاطفہ اور اس کے بغیر سلام کا جواب دینے میں نکتہ آفرینی کی ہے، تاہم دونوں طرح صحیح ہے اور روایات اس کی تائید کرتی ہیں۔
بعض اوقات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے سلام کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ انداز اختیار کیا ہے جیسا کہ مسيء الصلاة نے جب آپ کو سلام کیا تو آپ نے"وعلیك" کہا تھا۔
(جامع الترمذي، الاستئذان، حدیث: 2692) (2)
اب یہ انداز اہل کتاب کو جواب دینے کے لیے مشہور ہوچکا ہے، اس لیے مسلمان کے جواب میں اس انداز کو اختیار نہیں کرنا چاہیے،چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
"ہمیں حکم دیا گیا تھا کہ اہل کتاب کے سلام کے جواب میں "وعلیکم" کے الفاظ پر کسی چیز کا اضافہ نہ کریں۔
(مسند أحمد: 113/3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نےبھی اس امر کو بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 56/13)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6258]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5207
اہل ذمہ (معاہد کافروں) کو سلام کرنے کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے آپ سے عرض کیا: اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) ہم کو سلام کرتے ہیں ہم انہیں کس طرح جواب دیں؟ آپ نے فرمایا: تم لوگ «وعليكم» کہہ دیا کرو ابوداؤد کہتے ہیں: ایسے ہی عائشہ، ابوعبدالرحمٰن جہنی اور ابوبصرہ غفاری کی روایتیں بھی ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5207]
فوائد ومسائل:
دیگر بعض احادیث میں کفار کے سلام کے جواب صرف علیکم آیا ہے، یعنی واو کےبغیر۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5207]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3301
سورۃ المجادلہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
انس ابن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے پاس آ کر کہا: «السام عليكم» (تم پر موت آئے) لوگوں نے اسے اس کے «سام» کا جواب دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا: کیا تم جانتے ہو اس نے کیا کہا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، اے اللہ کے نبی! اس نے تو سلام کیا ہے، آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس نے تو ایسا ایسا کہا ہے، تم لوگ اس (یہودی) کو لوٹا کر میرے پاس لاؤ، لوگ اس کو لوٹا کر لائے، آپ نے اس یہودی سے پوچھا: تو نے «السام عليكم» کہا ہے؟ ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3301]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ یہودی جب تمہارے پاس آتے ہیں تو وہ تمہیں اس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تمہیں سلام نہیں کیا ہے (المجادلة: 8)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3301]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6926
6926. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: تم پر ہلاکت ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے جواب میں) فرمایا: تجھ پر بھی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کرام سے) پوچھا: تمہیں معلوم ہے کہ اس نے کیا کہا تھا؟ اس نے السام علیك کہا تھا۔ صحابہ کرام نے کہا: اللہ کے رسول! اسے ہم قتل نہ کر دیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں جب تمہیں اہل کتاب سلام کہیں تو تم جواب میں یہ کہہ دیا کرو، وعلیکم تم پر بھی ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6926]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ جب کوئی ذمی یا معاہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اعلانیہ سب وشتم نہ کرے بلکہ اشارے کنائے کے ذریعے سے اپنے دل کی بھڑاس نکالتا رہے تو اسے قتل نہ کیا جائے جیسا کہ اس حدیث میں صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ یہودی کے متعلق قتل کرنے کی اجازت نہیں دی۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ یہودی کو تالیف قلب کی مصلحت کی بنا پر قتل نہیں کیا یا اس لیے کہ واضح طور پر اس نے سب وشتم نہیں کیا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دونوں وجوہات ہوں اور یہی زیادہ بہتر ہے۔
(فتح الباري: 352/12)
اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو واضح طور پر برا بھلا کہے تو ایسے شخص کے قتل پر اجماع ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک نابینا صحابی کی ام ولد لونڈی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی اور آپ کی شان میں گستاخی کی مرتکب ہوتی تھی، ایک دن جب وہ اپنے آقا کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے رہی تھیں تو انھوں نے اسے قتل کر دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب علم ہوا تو آپ نے اعلانیہ طور پر فرمایا:
خبردار! گواہ ہو جاؤ کہ اس لونڈی کا خون رائیگاں اور ضائع ہے۔
(سنن أبي داود، الحدود، حدیث: 4361)
جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ثابت ہے تو جو بدبخت شخص اللہ تعالیٰ، اس کی کتاب، اسلام یا سنت مطہرہ اور دین اسلام میں طعن کرے تو اسے قتل کرنا بالاولیٰ لازم ہے۔
یہ ایسی حقیقت ہے کہ اس پر مزید دلائل کی ضرورت نہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6926]

Sahih Bukhari Hadith 6258 in Urdu