🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب استغفار النبى صلى الله عليه وسلم فى اليوم والليلة:
باب: دن اور رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6307
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" وَاللَّهِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ سے استغفار اور اس سے توبہ کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6307]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَاللَّهِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً» اللہ کی قسم! میں ایک دن میں اللہ کے حضور ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6307]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6307
أستغفر الله وأتوب إليه في اليوم أكثر من سبعين مرة
جامع الترمذي
3259
أستغفر الله في اليوم سبعين مرة
سنن ابن ماجه
3815
أستغفر الله وأتوب إليه في اليوم مائة مرة
المعجم الصغير للطبراني
1067
أستغفر الله في اليوم وأتوب إليه في كل يوم مائة مرة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6307 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6307
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث کے ظاہری الفاظ کا تقاضا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغفرت طلب کرتے اور توبہ کا عزم کرتے تھے، خواہ کوئی بھی الفاظ ہوں جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل الفاظ سو مرتبہ شمار کرتے تھے:
(رب اغفرلي و تب علي، إنك أنت التواب الغفور)
''میرے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رجوع فرما۔
بلاشبہ تو ہی بے حد بخشنے والا بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
'' (مسند أحمد: 2/21) (2)
ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں مذکور الفاظ ہی استعمال کرتے ہوں جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپ ان الفاظ سے دعا کرتے تھے۔
(أستغفرُاللهَ الذي لا الهَ إلا هو الحيُّ القيومُ و أَتوبُ إليه)
''میں اس اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
وہ زندہ جاوید اور قائم رہنے والا ہے اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
'' (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3397) (3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا توبہ استغفار کرنا درج ذیل وجوہات کی بنا پر تھا:
٭ اظہار عبودیت کے لیے۔
٭ امت کو تعلیم دینے کے لیے۔
٭ تواضع اور انکسار کے لیے۔
٭ ترک اولیٰ کی بنا پر استغفار کرتے تھے، پھر دوسری احادیث میں وضاحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار کی تعداد سو تک پہنچتی تھی۔
(جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3259)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6307]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3259
سورۃ محمد سے بعض آیات کی تفسیر۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «واستغفر لذنبك وللمؤمنين والمؤمنات» تو اپنے گناہوں کے لیے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے مغفرت مانگ (محمد: ۱۹)، کی تفسیر میں فرمایا: میں اللہ سے ہر دن ستر بار مغفرت طلب کرتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3259]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تو اپنے گناہوں کے لیے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے مغفرت مانگ۔
 (محمد: 19)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3259]

Sahih Bukhari Hadith 6307 in Urdu