صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. باب فضل التسبيح:
باب: سبحان اللہ کہنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 6405
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، حُطَّتْ خَطَايَاهُ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے «سبحان الله وبحمده.» دن میں سو مرتبہ کہا، اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6405]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥سمي القرشي، أبو عبد الله سمي القرشي ← أبو صالح السمان | ثقة | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← سمي القرشي | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن مسلمة الحارثي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6405
| من قال سبحان الله وبحمده في يوم مائة مرة حطت خطاياه وإن كانت مثل زبد البحر |
جامع الترمذي |
3468
| من قال سبحان الله وبحمده مائة مرة حطت خطاياه وإن كانت أكثر من زبد البحر |
جامع الترمذي |
3466
| من قال سبحان الله وبحمده مائة مرة غفرت له ذنوبه وإن كانت مثل زبد البحر |
سنن النسائى الصغرى |
1355
| من سبح في دبر صلاة الغداة مائة تسبيحة وهلل مائة تهليلة غفرت له ذنوبه ولو كانت مثل زبد البحر |
سنن ابن ماجه |
3812
| من قال سبحان الله وبحمده مائة مرة غفرت له ذنوبه ولو كانت مثل زبد البحر |
بلوغ المرام |
1337
| من قال : سبحان الله وبحمده مائة مرة حطت عنه خطاياه وإن كانت مثل زبد البحر |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6405 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6405
حدیث حاشیہ:
مسلم میں ابوذر سے نقل ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبوب ترین کلام پوچھا تو آپ نے بتلایا کہ إن أحب الکلام إلیٰ اللہ سبحان اللہ وبحمدِہ یعنی اللہ کے ہاں محبوب ترین کلام سبحان اللہ وبحمدہ ہے۔
مسلم میں ابوذر سے نقل ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبوب ترین کلام پوچھا تو آپ نے بتلایا کہ إن أحب الکلام إلیٰ اللہ سبحان اللہ وبحمدِہ یعنی اللہ کے ہاں محبوب ترین کلام سبحان اللہ وبحمدہ ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6405]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6405
حدیث حاشیہ:
(1)
ہر نقص سے اللہ تعالیٰ کو پاک قرار دینا جو اس کے شایان شان نہ ہو تسبیح کہلاتا ہے۔
اس سے شریک، بیوی اور اولاد کی نفی خود بخود لازم آتی ہے۔
بعض اوقات تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کا ذکر اور صلاۃ نافلہ بھی ہے۔
نماز تسبیح کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس میں تسبیحات بکثرت ہوتی ہیں۔
(فتح الباري: 247/11) (2)
واضح رہے کہ اس سے وہ گناہ معاف ہوتے ہیں جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد تو صاحب حق کی رضا مندی کے بغیر معاف نہیں ہوں گے۔
(3)
یہ وظیفہ دن کے کسی وقت میں بھی پڑھا جا سکتا ہے، خواہ ایک مرتبہ سو کی گنتی پوری کر لی جائے یا متفرق اوقات میں سو بار پڑھ لیا جائے ان کی وہی فضیلت ہے جو حدیث میں بیان ہوئی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ شروع دن میں ایک ہی مرتبہ سو بار کہہ لے۔
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ کے ہاں افضل اور اسے سب سے پسندیدہ چار کلمے ہیں:
سبحان الله، والحمدلله، و لا إله إلا الله، والله أكبر۔
ان میں سے جسے بھی تم پہلے پڑھ لو تمہیں اس کا کوئی نقصان نہیں ہے۔
“ (صحیح مسلم، الآداب، حدیث: 5601 (2137)
ایک دوسری حدیث میں ہے:
سبحان الله والحمدلله ولا إله إلا الله والله أكبر۔
پڑھ لینا مجھے پوری کائنات کے مل جانے سے زیادہ محبوب ہے۔
(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 6847 (2695)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا:
ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ نے فرمایا:
”کیا تم میں سے کوئی روزانہ ایک ہزار نیکی کمانے سے عاجز ہے؟“ آپ کی مجلس میں شریک ایک شخص نے کہا:
ہم میں سے کوئی ایک ہزار نیکی کیسے کما سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا:
”سو مرتبہ سبحان اللہ کہنے سے اس کے لیے ایک ہزار نیکی لکھی جاتی ہے اور اس کے ایک ہزار گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
“ (صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 6852 (2698)
(1)
ہر نقص سے اللہ تعالیٰ کو پاک قرار دینا جو اس کے شایان شان نہ ہو تسبیح کہلاتا ہے۔
اس سے شریک، بیوی اور اولاد کی نفی خود بخود لازم آتی ہے۔
بعض اوقات تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کا ذکر اور صلاۃ نافلہ بھی ہے۔
نماز تسبیح کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس میں تسبیحات بکثرت ہوتی ہیں۔
(فتح الباري: 247/11) (2)
واضح رہے کہ اس سے وہ گناہ معاف ہوتے ہیں جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد تو صاحب حق کی رضا مندی کے بغیر معاف نہیں ہوں گے۔
(3)
یہ وظیفہ دن کے کسی وقت میں بھی پڑھا جا سکتا ہے، خواہ ایک مرتبہ سو کی گنتی پوری کر لی جائے یا متفرق اوقات میں سو بار پڑھ لیا جائے ان کی وہی فضیلت ہے جو حدیث میں بیان ہوئی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ شروع دن میں ایک ہی مرتبہ سو بار کہہ لے۔
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ کے ہاں افضل اور اسے سب سے پسندیدہ چار کلمے ہیں:
سبحان الله، والحمدلله، و لا إله إلا الله، والله أكبر۔
ان میں سے جسے بھی تم پہلے پڑھ لو تمہیں اس کا کوئی نقصان نہیں ہے۔
“ (صحیح مسلم، الآداب، حدیث: 5601 (2137)
ایک دوسری حدیث میں ہے:
سبحان الله والحمدلله ولا إله إلا الله والله أكبر۔
پڑھ لینا مجھے پوری کائنات کے مل جانے سے زیادہ محبوب ہے۔
(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 6847 (2695)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا:
ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ نے فرمایا:
”کیا تم میں سے کوئی روزانہ ایک ہزار نیکی کمانے سے عاجز ہے؟“ آپ کی مجلس میں شریک ایک شخص نے کہا:
ہم میں سے کوئی ایک ہزار نیکی کیسے کما سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا:
”سو مرتبہ سبحان اللہ کہنے سے اس کے لیے ایک ہزار نیکی لکھی جاتی ہے اور اس کے ایک ہزار گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
“ (صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 6852 (2698)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6405]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1355
دعا کی ایک اور قسم کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص فجر کی نماز کے بعد سو بار «سبحان اللہ» اور سو بار «لا إله إلا اللہ» کہے گا، اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1355]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص فجر کی نماز کے بعد سو بار «سبحان اللہ» اور سو بار «لا إله إلا اللہ» کہے گا، اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1355]
1355۔ اردو حاشیہ:
➊ مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے، نیز شارح سنن النسائی نے اس پر تفصیلی کلام کرتے ہوئے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ان کے کلام سے یہی بات راجح معلوم ہوتی ہے کہ مذکورہ روایت صحیح اور قابل حجت ہے۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [صحیح سنن النسائي: 345/5، رقم: 1353، و ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 426، 425/15]
➋ یہ رب کریم کا کرم ہے کہ چھوٹے سے کام پر عظیم جزا سے سرفراز فرماتا ہے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ عظیم خوشخبری اس شخص کے لیے ہے جو اس عمل پر ہمیشگی کرتا ہے اور اس پر ہمیشگی خوش بخت مومن ہی کر سکتا ہے۔ اللھم! اجعلنا منھم۔
➌ سمندر کی جھاگ کنایہ ہے بے انتہا سے۔ ہمارے علم کے لحاظ سے سمندر کی جھاگ بے انتہا ہی ہے۔ اسے کثرت بھی کہا: جا سکتا ہے۔ واللہ أعلم۔
➊ مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے، نیز شارح سنن النسائی نے اس پر تفصیلی کلام کرتے ہوئے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ان کے کلام سے یہی بات راجح معلوم ہوتی ہے کہ مذکورہ روایت صحیح اور قابل حجت ہے۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [صحیح سنن النسائي: 345/5، رقم: 1353، و ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 426، 425/15]
➋ یہ رب کریم کا کرم ہے کہ چھوٹے سے کام پر عظیم جزا سے سرفراز فرماتا ہے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ عظیم خوشخبری اس شخص کے لیے ہے جو اس عمل پر ہمیشگی کرتا ہے اور اس پر ہمیشگی خوش بخت مومن ہی کر سکتا ہے۔ اللھم! اجعلنا منھم۔
➌ سمندر کی جھاگ کنایہ ہے بے انتہا سے۔ ہمارے علم کے لحاظ سے سمندر کی جھاگ بے انتہا ہی ہے۔ اسے کثرت بھی کہا: جا سکتا ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1355]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3812
تسبیح (سبحان اللہ) کہنے کی فضیلت۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سو بار «سبحان الله وبحمده» کہے تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے، اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3812]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سو بار «سبحان الله وبحمده» کہے تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے، اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3812]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اس قسم کی نیکیوں سے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں، بڑے گناہ توبہ سے معاف ہوتے ہیں۔
فوائد و مسائل:
اس قسم کی نیکیوں سے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں، بڑے گناہ توبہ سے معاف ہوتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3812]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3468
باب:۔۔۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک دن میں سو بار کہا: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير» ۱؎، تو اس کو دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہو گا، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی، اور یہ چیز اس کے لیے شام تک شیطان کے شر سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گی، اور قیامت کے دن کوئی اس سے اچھا عمل لے کر نہ آئے گا سوائے اس شخص کے جس نے یہی عمل اس شخص سے زیادہ کیا ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3468]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک دن میں سو بار کہا: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير» ۱؎، تو اس کو دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہو گا، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی، اور یہ چیز اس کے لیے شام تک شیطان کے شر سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گی، اور قیامت کے دن کوئی اس سے اچھا عمل لے کر نہ آئے گا سوائے اس شخص کے جس نے یہی عمل اس شخص سے زیادہ کیا ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3468]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ اکیلے کے،
اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں،
اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ہے ہر طرح کی تعریف،
وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
وضاحت:
1؎:
کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ اکیلے کے،
اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں،
اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ہے ہر طرح کی تعریف،
وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3468]
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي