سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. باب منه
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3468
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ كَانَتْ لَهُ عِدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكَانَ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک دن میں سو بار کہا: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير» ۱؎، تو اس کو دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہو گا، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی، اور یہ چیز اس کے لیے شام تک شیطان کے شر سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گی، اور قیامت کے دن کوئی اس سے اچھا عمل لے کر نہ آئے گا سوائے اس شخص کے جس نے یہی عمل اس شخص سے زیادہ کیا ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 11 (3293)، والدعوات 64 (6403)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 10 (2691)، سنن ابن ماجہ/الأدب 54 (3798) (تحفة الأشراف: 12571)، مسند احمد (2/302، 360، 375) (صحیح) (صحیحین میں یحیی ویمیت کا لفظ نہیں ہے)»
وضاحت: ۱؎: کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ اکیلے کے، اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ہے ہر طرح کی تعریف، وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله " يحيي ويميت " الكلم الطيب ص (26 / التحقيق الثاني)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥سمي القرشي، أبو عبد الله سمي القرشي ← أبو صالح السمان | ثقة | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← سمي القرشي | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥معن بن عيسى القزاز، أبو يحيى معن بن عيسى القزاز ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة ثبت | |
👤←👥إسحاق بن موسى الأنصاري، أبو موسى إسحاق بن موسى الأنصاري ← معن بن عيسى القزاز | ثقة متقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6403
| لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير في يوم مائة مرة كانت له عدل عشر رقاب وكتب له مائة حسنة ومحيت عنه مائة سيئة وكانت له حرزا من الشيطان يومه ذلك حتى يمسي ولم يأت أحد بأفضل مما جاء إلا رجل عمل أكثر منه |
صحيح مسلم |
6843
| من قال لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير في يوم مائة مرة كانت له عدل عشر رقاب كتبت له مائة حسنة محيت عنه مائة سيئة كانت له حرزا من الشيطان يومه ذلك حتى يمسي لم يأت أحد أفضل مما جاء به إلا أحد عمل أكثر من ذلك |
جامع الترمذي |
3468
| من قال لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير في يوم مائة مرة كانت له عدل عشر رقاب كتبت له مائة حسنة محيت عنه مائة سيئة كان له حرزا من الشيطان يومه ذلك حتى يمسي لم يأت أحد بأفضل مما جاء به إلا أحد عمل أكثر من |
سنن ابن ماجه |
3798
| لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير كان له عدل عشر رقاب وكتبت له مائة حسنة ومحي عنه مائة سيئة وكن له حرزا من الشيطان سائر يومه إلى الليل ولم يأت أحد بأفضل مما أتى به إلا من قال أكثر |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6405
| من قال سبحان الله وبحمده في يوم مائة مرة حطت خطاياه وإن كانت مثل زبد البحر |
جامع الترمذي |
3468
| من قال سبحان الله وبحمده مائة مرة حطت خطاياه وإن كانت أكثر من زبد البحر |
جامع الترمذي |
3466
| من قال سبحان الله وبحمده مائة مرة غفرت له ذنوبه وإن كانت مثل زبد البحر |
سنن النسائى الصغرى |
1355
| من سبح في دبر صلاة الغداة مائة تسبيحة وهلل مائة تهليلة غفرت له ذنوبه ولو كانت مثل زبد البحر |
سنن ابن ماجه |
3812
| من قال سبحان الله وبحمده مائة مرة غفرت له ذنوبه ولو كانت مثل زبد البحر |
بلوغ المرام |
1337
| من قال : سبحان الله وبحمده مائة مرة حطت عنه خطاياه وإن كانت مثل زبد البحر |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3468 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3468
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ اکیلے کے،
اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں،
اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ہے ہر طرح کی تعریف،
وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
وضاحت:
1؎:
کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ اکیلے کے،
اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں،
اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ہے ہر طرح کی تعریف،
وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3468]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3798
لا الہٰ الا اللہ کی فضیلت۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک دن میں سو بار «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» یعنی اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی و شریک نہیں، اس کے لیے بادشاہت اور تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، کہا تو اس کے لیے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہے، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اور اس کی سو برائیاں مٹائی جاتی ہیں، اور وہ پورے دن رات تک شیطان سے بچا رہتا ہے، اور کسی کا عمل اس کے عمل سے افضل نہ ہو گا مگر جو کوئی اسی کلمہ کو سو ب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3798]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک دن میں سو بار «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» یعنی اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی و شریک نہیں، اس کے لیے بادشاہت اور تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، کہا تو اس کے لیے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہے، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اور اس کی سو برائیاں مٹائی جاتی ہیں، اور وہ پورے دن رات تک شیطان سے بچا رہتا ہے، اور کسی کا عمل اس کے عمل سے افضل نہ ہو گا مگر جو کوئی اسی کلمہ کو سو ب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3798]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کا ذکر ثواب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
(2)
بعض اذکار مالی صدقات و خیرات سے زیادہ ثواب کا باعث ہوتے ہیں۔
(3)
مسنون ذکر شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔
(4)
مسنون اذکار میں اس قدر برکات و فوائد موجود ہیں کہ ان کے ساتھ مزید اذکار ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں۔
اور اپنے بنائے ہوئے اذکار ثواب کا باعث بھی نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کا ذکر ثواب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
(2)
بعض اذکار مالی صدقات و خیرات سے زیادہ ثواب کا باعث ہوتے ہیں۔
(3)
مسنون ذکر شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔
(4)
مسنون اذکار میں اس قدر برکات و فوائد موجود ہیں کہ ان کے ساتھ مزید اذکار ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں۔
اور اپنے بنائے ہوئے اذکار ثواب کا باعث بھی نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3798]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6843
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جو شخص صبح و شام کے وقت سبحان اللہ وبحمدہ سو دفعہ کہتا ہے، قیامت کے دن کوئی اس کے عمل سے بہتر عمل لے کر حاضر نہیں ہو گا مگر وہ انسان جس نے اس کے برابر یا اس سے زیادہ دفعہ یہی کلمات کہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6843]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان احادیث سے معلوم ہوا،
ان کلمات میں اضافہ مطلوب ہے اور وہ اجروثواب میں اضافہ کا باعث ہیں،
یہ ان اشیاء کی طرح نہیں ہے،
جن میں کمی و بیشی ممکن نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان احادیث سے معلوم ہوا،
ان کلمات میں اضافہ مطلوب ہے اور وہ اجروثواب میں اضافہ کا باعث ہیں،
یہ ان اشیاء کی طرح نہیں ہے،
جن میں کمی و بیشی ممکن نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6843]
حدیث نمبر: 3468M
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ، وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
اسی سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: ”جس نے سو مرتبہ: «سبحان الله وبحمده» کہا اس کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3468M]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3468M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 3466 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله " يحيي ويميت " الكلم الطيب ص (26 / التحقيق الثاني)
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3468 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي