🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب فضل الفقر:
باب: فقر کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6449
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ"، تَابَعَهُ أَيُّوبُ، وَعَوْفٌ، وَقَالَ صَخْرٌ، وَحَمَّادُ بْنُ نَجِيحٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
ہم سے ابوولید نے بیان کیا، کہا ہم سے سلم بن زریر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابورجاء عمران بن تمیم نے بیان کیا، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جنت میں جھانکا تو اس میں رہنے والے اکثر غریب لوگ تھے اور میں نے دوزخ میں جھانکا تو اس کی رہنے والیاں اکثر عورتیں تھیں۔ ابورجاء کے ساتھ اس حدیث کو ایوب سختیانی اور عوف اعرابی نے بھی روایت کیا ہے اور صخر بن جویریہ اور حماد بن نجیح دونوں اس حدیث کو ابورجاء سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6449]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عمران بن ملحان العطاردي، أبو رجاء
Newعمران بن ملحان العطاردي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥حماد بن نجيح الإسكاف، أبو عبد الله
Newحماد بن نجيح الإسكاف ← عمران بن ملحان العطاردي
ثقة
👤←👥صخر بن جويرية البصري، أبو نافع
Newصخر بن جويرية البصري ← حماد بن نجيح الإسكاف
صدوق حسن الحديث
👤←👥عوف بن أبي جميلة الأعرابي، أبو سهل
Newعوف بن أبي جميلة الأعرابي ← صخر بن جويرية البصري
صدوق رمي بالقدر والتشيع
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عوف بن أبي جميلة الأعرابي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيد
Newعمران بن حصين الأزدي ← أيوب السختياني
صحابي
👤←👥عمران بن ملحان العطاردي، أبو رجاء
Newعمران بن ملحان العطاردي ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة
👤←👥سلم بن زرير العطاردي، أبو يونس
Newسلم بن زرير العطاردي ← عمران بن ملحان العطاردي
صدوق حسن الحديث
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← سلم بن زرير العطاردي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6449
اطلعت في الجنة فرأيت أكثر أهلها الفقراء اطلعت في النار فرأيت أكثر أهلها النساء
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6449 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6449
حدیث حاشیہ:
ایوب کی روایت کو امام نسائی نے اور عوف کی روایت کو امام بخاری نے کتاب النکاح میں وصل کیا ہے۔
جنت میں غریب لوگوں سے فقرائے موحدین متبع سنت مراد ہیں اور دوزخ میں عورتوں سے بدکار عورتیں مراد ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6449]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6449
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک دوسری حدیث میں ان فاقہ کش صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تعریف دوسرے انداز سے کی گئی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس تین شخص آئے، انہوں نے کہا:
اے ابو محمد! ہمارے پاس کچھ بھی نہیں، کوئی خرچہ ہے نہ سواری اور نہ سازوسامان ہی۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم کچھ مال چاہتے ہو تو ہمارے پاس پھر آنا، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جو میسر فرمایا وہ ہم تمہیں عطا کریں گے اور اگر تم چاہو تو ہم تمہارا معاملہ حاکم وقت سے ذکر کر دیں گے؟ اگر تم چاہو تو صبر کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مہاجر فقراء قیامت کے دن مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔
یہ بشارت سن کر تنگ دست فقراء نے کہا کہ ہم صبر کرتے ہیں اور ہم آپ سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کریں گے۔
(صحیح مسلم، الزھد، حدیث: 7463 (2979)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بےشک اللہ تعالیٰ اپنے اس عیال دار بندے کو پسند کرتا ہے جو ضرورت مند ہونے کے باوجود سوال نہیں کرتا۔
(سنن ابن ماجة، الزھد، حدیث: 4121) (2)
واضح رہے کہ جنت میں فقراء لوگوں کی اکثریت ان کا فقر نہیں بلکہ عقیدے کی درستی اور نیک اعمال کا جذبہ ہو گا اور اگر کوئی فقیر نیک کردار نہیں تو وہ قطعاً جنت کا حق دار نہیں ہو گا۔
بہرحال حدیث میں دنیا کی لذتوں سے کنارہ کش ہونے پر ابھارا گیا ہے۔
(فتح الباري: 337/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6449]