🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب سكرات الموت:
باب: موت کی سختیوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6511
حَدَّثَنِي صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْأَعْرَابِ جُفَاةً يَأْتُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَسْأَلُونَهُ مَتَى السَّاعَةُ؟ فَكَانَ يَنْظُرُ إِلَى أَصْغَرِهِمْ، فَيَقُولُ:" إِنْ يَعِشْ هَذَا لَا يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُمْ"، قَالَ هِشَامٌ: يَعْنِي مَوْتَهُمْ.
مجھ سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ چند بدوی جو ننگے پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے اور آپ سے دریافت کرتے تھے کہ قیامت کب آئے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کم عمر والے کو دیکھ کر فرمانے لگے کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بڑھاپے سے پہلے تم پر تمہاری قیامت آ جائے گی۔ ہشام نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد (قیامت سے) ان کی موت تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6511]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عرب کے بادیہ نشین سادہ منش لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اور آپ سے دریافت کرتے: قیامت آئے گی؟ آپ ان میں سے کمسن شخص کو دیکھتے اور فرماتے: اگر یہ زندہ رہا تو اسے بڑھاپا نہیں آئے گا حتیٰ کہ تم پر تمہاری قیامت قائم ہو جائے گی۔ (راوی حدیث) ہشام نے کہا: قیامت سے مراد ان کی موت تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6511]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥صدقة بن الفضل المروزي، أبو الفضل
Newصدقة بن الفضل المروزي ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6511
إن يعش هذا لا يدركه الهرم حتى تقوم عليكم ساعتكم
صحيح مسلم
7410
إن يعش هذا لم يدركه الهرم قامت عليكم ساعتكم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6511 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6511
حدیث حاشیہ:
آپ کا مطلب یہ تھا کہ قیامت کبریٰ کا وقت تواللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہر آدمی کی موت اس کی قیامت صغریٰ ہے۔
باب سے حدیث کی مناسبت اس طرح ہے کہ آپ نے موت کو قیامت قرار دیا اورقیامت میں سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے ﴿فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ﴾ میں بھی بے ہوشی ہوتی ہے یہی ترجمہ باب ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6511]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6511
حدیث حاشیہ:
(1)
ہر انسان کی موت اس کے لیے قیامت ہے، یعنی یہ اس کے لیے قیامت صغریٰ ہے اور قیامت کبریٰ وہ ہے جو مرنے کے بعد حساب کتاب کے لیے قائم ہو گی۔
مقصد یہ تھا کہ قیامت کبریٰ کے متعلق سوال کرنے کو چھوڑو وہ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
تمہیں اس وقت کے متعلق سوال کرنا چاہیے جس میں تمہارا وقت ختم ہو جائے گا۔
یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ مرنے سے پہلے تم ایسے نیک اعمال کرو جو مرنے کے بعد تمہارے کام آ جائیں۔
(2)
اس حدیث کی عنوان سے مطابقت اس طور پر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کو قیامت قرار دیا ہے اور قیامت کے دن سختی کی وجہ سے لوگ بے ہوش ہو رہے ہوں گے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تو لوگوں کو مدہوش دیکھے گا، حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب بہت شدید ہو گا۔
(الحج: 2)
یعنی قیامت کے دن لوگ بدحواس ہو کر ایک دوسرے پر گریں گے جیسے روشنی پر پتنگے گرتے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6511]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
صحيح مسلم مختصر مع شرح نووي: تحت الحديث صحيح مسلم 7410
قیامت کا قریب ہونا
«. . . أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ؟ وَعِنْدَهُ غُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ يَعِشْ هَذَا الْغُلَامُ فَعَسَى أَنْ لَا يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ . . .»
. . . ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: قیامت کب آئے گی؟ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انصاری لڑکا موجود تھا جس کو محمد کہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ جئیے گا تو شاید بوڑھا نہ ہونے پائے کہ قیامت آ جائے . . . [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ: 7410]
تشریح:
مراد اس قیامت سے وہی قیامت صغریٰ ہے یعنی موت، کیونکہ قیامت کبریٰ کا وقت سوا اللہ کے کسی کو معلوم نہیں۔
[مختصر شرح نووی، حدیث/صفحہ نمبر: 7410]

Sahih Bukhari Hadith 6511 in Urdu