🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب صفة الجنة والنار:
باب: جنت و جہنم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6557
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى:" لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ"، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُولُ:" أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا، وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ، أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا، فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي".
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوعمران جونی نے بیان کیا، کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دوزخ کے سب سے کم عذاب پانے والے سے پوچھے گا اگر تمہیں روئے زمین کی ساری چیزیں میسر ہوں تو کیا تم ان کو فدیہ میں (اس عذاب سے نجات پانے کے لیے) دے دو گے، وہ کہے گا کہ ہاں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تم سے اس سے بھی سہل چیز کا اس وقت مطالبہ کیا تھا جب تم آدم علیہ السلام کی پیٹھ میں تھے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا لیکن تم نے (توحید کا) انکار کیا اور نہ مانا آخر شرک ہی کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6557]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عبد الملك بن حبيب الأسدي، أبو عمران
Newعبد الملك بن حبيب الأسدي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عبد الملك بن حبيب الأسدي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6557
أهون أهل النار عذابا يوم القيامة لو أن لك ما في الأرض من شيء أكنت تفتدي به فيقول نعم فيقول أردت منك أهون من هذا وأنت في صلب آدم أن لا تشرك بي شيئا فأبيت إلا أن تشرك بي
صحيح مسلم
7083
أهون أهل النار عذابا لو كانت لك الدنيا وما فيها أكنت مفتديا بها فيقول نعم فيقول قد أردت منك أهون من هذا وأنت في صلب آدم أن لا تشرك أحسبه قال ولا أدخلك النار فأبيت إلا الشرك
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6557 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6557
حدیث حاشیہ:
قیامت کے دن جو کافر اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوں گے وہ کسی صورت میں نجات نہیں پائیں گے۔
اللہ تعالیٰ صرف ذلیل و رسوا کرنے کے لیے انہیں یہ بات کہے گا جو حدیث میں بیان کی گئی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
بلاشبہ جو لوگ کافر ہوئے پھر کفر ہی حالت میں مر گئے اگر وہ زمین بھر سونا دے کر بھی خود چھوٹ جانا چاہیں گے تو ان سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
(آل عمران: 91/3)
بلکہ اس سے بھی زیادہ صراحت اور وضاحت کے ساتھ فرمایا:
جو لوگ کافر ہیں اگر زمین میں موجود سارا مال و دولت ان کی ملکیت ہو بلکہ اتنا اور بھی ہو اور وہ چاہیں کہ یہ سب کچھ دے دلا کر قیامت کے دن عذاب سے چھوٹ جائیں تو بھی ان سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
(المائدة: 36/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6557]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7083
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ سب سے ہلکے عذاب والے دوزخی سے فرمائے گا، اگر تیرے پاس دنیا و مافیہا ہو تو کیا تو اس کو بطور فدیہ (تاوان)(آگ سے بچنے کے لیے)دے دے گا تو وہ کہے گا، ہاں اللہ فرمائے گا، میں نے تم سے اس سے بہت کم آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا جبکہ تو ابھی آدمی کی پشت میں تھا کہ تم شرک نہ کرنا، (میرا خیال ہے، آپ نے فرمایا) اور میں تمھیں آگ میں داخل نہیں کروں گا،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7083]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
انت في صُلب آدم تو آدم کی پشت میں تھا،
سے میثاق ربوبیت یا عہد الست کی طرف اشارہ ہے،
جس کو قرآن مجید میں،
وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ میں بیان کیا گیا ہے کہ انسانوں کو اس دنیا میں پیدا کرنے سے پہلے ہی یہ بتا دیا گیا تھا اور ان سے پختہ وعدہ لیا گیا تھا کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا،
انسانی فطرت،
عقل و شعور اور انبیاء ورسل اور کتب و صحائف کے ذریعہ اس عہد کی یاد دہانی کرئی گئی،
لیکن انسانوں کی اکثریت اس کے باوجود شرک کے موذی مرض میں مبتلا ہو کر جہنم کا ایندھن بن رہی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7083]