🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب صفة الجنة والنار:
باب: جنت و جہنم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6562
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ عَلَى أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ وَالْقُمْقُمُ".
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخیوں میں عذاب کے اعتبار سے سب سے ہلکا عذاب پانے والا وہ شخص ہو گا جس کے دونوں پیروں کے نیچے دو انگارے رکھ دئیے جائیں گے جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا جس طرح ہانڈی اور کیتلی جوش کھاتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6562]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥النعمان بن بشير الأنصاري، أبو عبد اللهصحابي صغير
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← النعمان بن بشير الأنصاري
ثقة مكثر
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة
👤←👥عبد الله بن رجاء الغداني، أبو عمرو، أبو عمر
Newعبد الله بن رجاء الغداني ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6561
أهون أهل النار عذابا يوم القيامة لرجل توضع في أخمص قدميه جمرة يغلي منها دماغه
صحيح البخاري
6562
أهون أهل النار عذابا يوم القيامة رجل على أخمص قدميه جمرتان يغلي منهما دماغه كما يغلي المرجل والقمقم
صحيح مسلم
517
أهون أهل النار عذابا من له نعلان وشراكان من نار يغلي منهما دماغه كما يغل المرجل ما يرى أن أحدا أشد منه عذابا وإنه لأهونهم عذابا
صحيح مسلم
516
أهون أهل النار عذابا يوم القيامة لرجل توضع في أخمص قدميه جمرتان يغلي منهما دماغه
جامع الترمذي
2604
أهون أهل النار عذابا يوم القيامة رجل في أخمص قدميه جمرتان يغلي منهما دماغه
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6562 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6562
حدیث حاشیہ:
کیتلی سے چائے دانی کی طرح کا برتن مراد ہے جس میں پانی کو جوش دیتے ہیں۔
بعض نسخوں میں والقمقم کی جگہ بالقمقم ہے۔
قاضی عیاض نے کہا کہ صحیح لفظ والقمقم ہی ہے۔
یہ واؤ عاطفہ ہے لیکن اسماعیلی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں أوالقمقم ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6562]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6562
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اہل جہنم میں ہلکا اور کم ترین عذاب ابو طالب کو ہو گا۔
اسے آگ کے دو جوتے پہنائیں جائیں گے جس سے اس کا دماغ اُبل رہا ہو گا۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 515 (212)
ایک روایت میں ہے، وہ خیال کرے گا کہ مجھے سب سے زیادہ عذاب ہو رہا ہے، حالانکہ اسے سب سے ہلکا عذاب دیا جا رہا ہو گا۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 517 (213) (2)
جس طرح آگ ہانڈی کو جوش دیتی ہے اسی طرح دوزخ کی آگ انسان کے بدن کو سخت گرم کرے گی حتی کہ اس کے اثر سے دماغ کھول رہا ہو گا۔
أعاذنا اللہ منه
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6562]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 6561
قیامت کے دن عذاب کے اعتبار سے سب سے کم شخص
«. . . سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَرَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَةٌ يَغْلِي مِنْهَا دِمَاغُهُ " . . . .»
. . . ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابواسحاق سبیعی سے سنا، کہا کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن عذاب کے اعتبار سے سب سے کم وہ شخص ہو گا جس کے دونوں قدموں کے نیچے آگے کا انگارہ رکھا جائے گا اور اس کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ: 6561]
تخريج الحديث:
[127۔ البخاري فى: 81 كتاب الرقاق: 51 باب صفة الجنة والنار 6561، مسلم 213، ابوعوانة 98/1]
لغوی توضیح:
«أحْمَصِ قَدَمَیْه» قدموں کا وہ نچلا حصہ جو چلتے وقت زمین کو نہیں لگتا۔
«جَمْرَۃُ» انگارہ۔
«یَغْلِی» کھولے گا۔
فھم الحدیث: ایک روایت میں ہے کہ جہنم میں سب سے ہلکا عذاب یہ ہو گا کہ قدموں میں آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گی اور اس سے دماغ اس طرح کھولے گا جیسے ہنڈیا چولہے پر کھولتی ہے۔ [مسلم: كتاب الايمان 213]
ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ عذاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب کو ہو گا۔ [مسلم: كتاب الايمان 212]
[جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 127]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2604
باب:۔۔۔
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے ہلکا عذاب والا وہ جہنمی ہو گا جس کے تلوے میں دو انگارے ہوں گے جن سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة جهنم/حدیث: 2604]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اغلب یہی ہے کہ اس سے ابوطالب مراد ہیں کیوں کہ مسلم اور دیگر لوگوں کی دیگر روایات میں اس کی صراحت ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2604]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 517
حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ دوزخیوں میں سب سے ہلکے عذاب والا وہ شخص ہو گا، جس کو آگ کی دو جوتیاں تسموں سمیت پہنائی جائیں گی، ان سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا جس طرح ہنڈیاکھولتی ہے، وہ سمجھے گا مجھ سے سخت عذاب کسی کو نہیں ہو رہا، حالانکہ اس کو سب سے ہلکا عذاب ہو رہا ہو گا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:517]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سےمعلوم ہوتا ہے کہ دوزخ میں جانے والا فرد یہی سمجھے گا،
کہ سب سےسخت عذاب مجھےہی ہورہاہے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے جو ابو طالب کے عذاب میں تخفیف ہوئی ہے،
وہ اس کےحق میں اس اعتبار سے نافع نہیں ہوئی،
اس لیے یہ تخفیف ﴿فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ﴾ کے منافی نہیں ہے،
یا اس نفع سےمراد:
دوزخ سے نکلنا ہے،
کہ وہ دوزخ سےنہیں نکل سکیں گے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 517]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6561
6561. حضرت نعمان ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن سب سے ہلکے (اور کم) عذاب والا وہ شخص ہوگا جس کے پاؤں تلے آگ کا انگارا رکھا جائے گا اس کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6561]
حدیث حاشیہ:
صحیح مسلم میں آگ کی دو جوتیاں پہنانے کا ذکر ہے۔
اس سے ابوطالب مراد ہیں۔
تشریح:
ابوطالب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت ہی معزز چچا ہیں۔
ان کا نام عبدمناف بن عبدالمطلب بن ہاشم ہے۔
حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ان کے فرزند ہیں۔
ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرتے رہے مگر قوم کے تعصب کی بنا پر اسلام قبول نہیں کیا۔
ان کی وفات کے پانچ دن بعد حضرت خدیجۃ الکبریٰ کا بھی انتقال ہوگیا۔
ان دونوں کی جدائی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد رنج ہوا مگر صبر و استقامت کا دامن آپ نے نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غالب فرمایا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6561]

Sahih Bukhari Hadith 6562 in Urdu