🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب لا مانع لما أعطى الله:
باب: جسے اللہ دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6615
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ: اكْتُبْ إِلَيَّ مَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَلْفَ الصَّلَاةِ، فَأَمْلَى عَلَيَّ الْمُغِيرَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ خَلْفَ الصَّلَاةِ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ"، وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ، أَنَّ وَرَّادًا، أَخْبَرَهُ بِهَذَا، ثُمَّ وَفَدْتُ بَعْدُ إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَسَمِعْتُهُ يَأْمُرُ النَّاسَ بِذَلِكَ الْقَوْلِ.
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن ابی لبابہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن شعبہ کے غلام وردا نے بیان کیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دعا لکھ کر بھیجو جو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے بعد کرتے سنی ہے۔ چنانچہ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو لکھوایا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے «اللهم لا مانع لما أعطيت،‏‏‏‏ ولا معطي لما منعت،‏‏‏‏ ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اے اللہ! جو تو دینا چاہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روکنا چاہے اسے کوئی دینے والا نہیں اور تیرے سامنے دولت والے کی دولت کچھ کام نہیں دے سکتی۔ اور ابن جریج نے کہا کہ مجھ کو عبدہ نے خبر دی اور انہیں وردا نے خبر دی، پھر اس کے بعد میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ لوگوں کو اس دعا کے پڑھنے کا حکم دے رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: 6615]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام وراد سے روایت ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دعا لکھ بھیجو جو تم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے بعد کرتے سنی ہو، چنانچہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے لکھنے کا حکم دیا اور کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ ہر نماز کے بعد یہ دعا کرتے تھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اے اللہ! جو تو دینا چاہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روکنا چاہے اسے کوئی دینے والا نہیں اور تیرے حضور کسی دولت مند کی دولت کچھ کام نہیں آ سکتی۔ ابن جریج نے کہا: مجھے عبدہ نے خبر دی اور انہیں وراد نے بتایا، پھر اس کے بعد میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو میں نے سنا کہ وہ لوگوں کو یہ دعا پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: 6615]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥وراد الثقفي، أبو الورد، أبو سعيدثقة
👤←👥عبدة بن أبي لبابة الأسدي، أبو القاسم
Newعبدة بن أبي لبابة الأسدي ← وراد الثقفي
ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عبدة بن أبي لبابة الأسدي
ثقة
👤←👥المغيرة بن شعبة الثقفي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عيسى
Newالمغيرة بن شعبة الثقفي ← ابن جريج المكي
صحابي
👤←👥وراد الثقفي، أبو الورد، أبو سعيد
Newوراد الثقفي ← المغيرة بن شعبة الثقفي
ثقة
👤←👥عبدة بن أبي لبابة الأسدي، أبو القاسم
Newعبدة بن أبي لبابة الأسدي ← وراد الثقفي
ثقة
👤←👥فليح بن سليمان الأسلمي، أبو يحيى
Newفليح بن سليمان الأسلمي ← عبدة بن أبي لبابة الأسدي
صدوق كثير الخطأ
👤←👥محمد بن سنان الباهلي، أبو بكر
Newمحمد بن سنان الباهلي ← فليح بن سليمان الأسلمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6615
لا إله إلا الله وحده لا شريك له اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
صحيح البخاري
6330
إذا سلم لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
صحيح البخاري
7292
لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد ينهى عن قيل وقال كثرة السؤال إضاعة المال ينهى عن عقوق الأمهات وأد البنات منع وهات
صحيح البخاري
6473
لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ينهى عن قيل وقال كثرة السؤال إضاعة المال منع وهات عقوق الأمهات وأد البنات
صحيح البخاري
844
يقول في دبر كل صلاة مكتوبة لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
صحيح مسلم
1342
لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
صحيح مسلم
1338
لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
سنن أبي داود
1505
لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
سنن النسائى الصغرى
1344
عند انصرافه من الصلاة لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير
سنن النسائى الصغرى
1342
إذا قضى الصلاة قال لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
سنن النسائى الصغرى
1343
يقول دبر الصلاة إذا سلم لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
بلوغ المرام
253
لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
مسندالحميدي
780
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6615 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6615
حدیث حاشیہ:
الفاظ دعا سے ہی کتاب القدر سے مناسبت نکلی۔
عبدہ بن ابی لبابہ کی سند ذکر کرنے سے امام بخاری کی غرض یہ ہے کہ عبدہ کا سماع وراد سے ثابت ہوا کیوں کہ اگلی روایت میں اس سماع کی صراحت نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6615]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6615
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کو نماز کے بعد پڑھنے کا اہتمام کیا کرتے تھے کیونکہ ان میں کمال توحید اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی وسعت کا ذکر ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو تقدیر پر ایمان لانے کے اثرات کو بیان کرنے کے لیے روایت کیا ہے کہ اس سے مومن کا عقیدہ راسخ اور پختہ ہو جاتا ہے کہ عطا کرنے یا روک لینے کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اگر اللہ آپ کو کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو اس کے سوا کوئی اسے دور نہیں کر سکتا اور اگر وہ آپ سے کوئی بھلائی کرنا چاہے تو کوئی اسے ٹالنے والا نہیں۔
وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے، اس سے نوازتا ہے۔
(یونس: 107/10)
راسخ اور پختہ عقیدے کے نتیجے میں خودداری، جراءت مندی اور دلیری پیدا ہوتی ہے۔
جس شخص کا عقیدہ یہ ہو کہ تمام چیزیں تقدیر الٰہی سے ہیں اسے پچھلی باتوں پر رنج اور مستقبل کا فکر دامن گیر نہیں ہوتا۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6615]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1505
آدمی سلام پھیرے تو کیا پڑھے؟
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کیا پڑھتے تھے؟ اس پر مغیرہ نے معاویہ کو لکھوا کے بھیجا، اس میں تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو روک دے، اسے کوئی دے نہیں سکتا اور مالدار کو اس کی مال داری نفع نہیں دے سکتی پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1505]
1505. اردو حاشیہ: کہاں یہ زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے اوراد مبارکہ اور کہاں جاہل صوفیوں کے خود ساختہ وظیفے سچ ہے۔ قدر زر زرگر بد اند یا بداند جوہری یہ اصحاب الحدیث کا ہی شرف ہے۔ کہ وہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ہر فعل کو اپنا لینا ہی سعادت جانتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1505]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:780
780-وراد جو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے سیکرٹری ہیں وہ بیان کرتے ہیں: سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا۔ کہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث لکھ کر بھجوائیں جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو، تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں جوابی خط میں لکھا۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مکمل کر لیتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شئے پر قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ! جسے تو عطا کردے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:780]
فائدہ:
اس حدیث میں نماز کے بعد میں وارد شدہ اذکار میں سے ایک دعا کا ذکر ہے۔ یہ دعائیں ہر مسلمان کو ترجمہ کے ساتھ یاد ہونی چاہئیں تا کہ انھیں نماز کے بعد پڑھا جائے۔ نیز اس مبارک دعا میں عقیدہ کا بہت اہم مسئلہ بھی بیان ہوا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے اس کا کوئی شریک نہیں کل کائنات کا وہی بادشاہ ہے اور ہر قسم کی تعریف بھی اس کے لیے ہے۔ وہی ہر چیز پر قادر ہے وہی مشکل کشا ہے اور وہی نفع و نقصان کا مالک ہے۔ جب نمازی ہرفرض نماز کے بعد اس دعا کو پڑھے گا تو اس کا عقیدہ کتنا مضبوط ہوگا۔ افسوس کہ مسلمانوں کو یہ دعائیں یاد نہیں اگر کسی کو یاد بھی ہے اسے ترجمہ نہیں آتا۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 780]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6330
6330. حضرت وراد سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے حضرت امیر معاویہ ؓ کو خط لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد جب سلام پھیرتے تو کہا کرتے تھے: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہت اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفوں کا سزا وار بھی وہی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ ا ے اللہ! جو کچھ تو نے دیا ہے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ اے اللہ!جو کچھ تو نے روک لیا اسے کوئی دینے والا نہیں۔ کسی مالدار یا بزرگ کو (تیری عبادت کی بجائے) اس کا مال یا بزرگی نفع نہیں پہنچا سکتا۔ شعبہ نے منصور سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اس حدیث کو حضرت مسیب سے سنا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6330]
حدیث حاشیہ:
حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما قریشی اموی ہیں ان کی ماں ہندہ بنت عتبہ ہے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا۔
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں ان کو شام کا گورنر بنا دیا تھا خلافت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ میں بھی یہ شام کے حاکم رہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں یہ شام کے مستقل حاکم بن گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت حسن نے41ھ میں امر خلافت ان کے سپرد کر دیا۔
یہ شام کے چالیس سال تک حاکم رہے۔
80برس کی عمر میں بعارضہ لقوہ ماہ رجب میں وفات پائی۔
بڑے ہی دانش مند سیاست دان۔
مرد آہنی تھے۔
ان کے دورحکومت میں اسلام کو دوردراز تک پھیلنے کے بہت سے مواقع ملے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6330]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:844
844. حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت امیر معاویہ ؓ کو خط لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد پڑھتے تھے: (لا إله إلا الله وحده۔۔۔۔ ذالجد منك الجد) اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے۔ اور وہ ہر بات پر قادر ہے۔ اے اللہ! تیری عطا کو کوئی روکنے والا نہیں اور تیری روکی ہوئی چیز کو کوئی عطا کرنے والا نہیں اور کسی دولت مند کو اس کی تونگری تیرے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ امام شعبہ نے بھی عبدالملک بن عمیر سے یہ حدیث بیان کی ہے۔ حسن بصری ؓ بیان کرتے ہیں کہ جد کے معنی تونگری اور بے نیازی کے ہیں، نیز امام شعبہ نے حکم کے واسطے سے بھی یہ روایت وراد سے بیان کی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:844]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ حضرت معاویہ ؓ کی طرف سے کوفہ کے گورنر تھے، انہوں نے اپنے گورنر کو خط لکھا کہ مجھے وہ وظیفہ لکھ کر ارسال کرو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد پڑھتے ہوں تو انہوں نے مذکورہ وظیفہ لکھ کر بھیجا تھا۔
طبرانی کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں:
(يحيي و يميت وهو حي لا يموت بيده الخير)
وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے۔
وہ ایسا زندۂ جاوید ہے کہ اسے کبھی موت نہیں آئے گی اور اس کے ہاتھ خیروبرکت ہے۔
(فتح الباري: 429/2)
امام بخاری ؒ کی عادت ہے کہ اگر حدیث میں کوئی مشکل لفظ آ جائے اور اسی طرح کا لفظ قرآن میں بھی آتا ہو تو قرآنی لفظ کا معنی بتانے کے لیے مفسرین کا حوالہ دیتے ہیں، اس مقام پر حسن بصری سے لفظ جد کی وضاحت کی ہے کہ اس کے معنی بے نیازی کے ہیں جیسا کہ قرآن میں ہے:
﴿وَأَنَّهُ تَعَالَىٰ جَدُّ رَبِّنَا﴾ (الجن3: 72)
اور یہ کہ بہت بلند ہے شان ہمارے رب کی اکثر روایات میں یہ تفسیری بیان ذکر نہیں ہوا۔
(فتح الباري: 430/2) (2)
حضرت معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:
اے معاذ! اللہ کی قسم، میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔
میں نے کہا:
میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔
پھر آپ نے فرمایا:
تو میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ ہر فرض نماز کے بعد یہ ضرور پڑھا کرو:
"رب أعني علی ذكرك و شكرك و حسن عبادتك" اے میرے رب! ذکر کرنے، شکر کرنے اور اچھی عبادت کرنے میں میری مدد کر۔
(سنن النسائي، الصلاة، حدیث: 1304)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 844]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6330
6330. حضرت وراد سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے حضرت امیر معاویہ ؓ کو خط لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد جب سلام پھیرتے تو کہا کرتے تھے: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہت اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفوں کا سزا وار بھی وہی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ ا ے اللہ! جو کچھ تو نے دیا ہے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ اے اللہ!جو کچھ تو نے روک لیا اسے کوئی دینے والا نہیں۔ کسی مالدار یا بزرگ کو (تیری عبادت کی بجائے) اس کا مال یا بزرگی نفع نہیں پہنچا سکتا۔ شعبہ نے منصور سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اس حدیث کو حضرت مسیب سے سنا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6330]
حدیث حاشیہ:
(1)
دراصل حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تھا کہ مجھے وہ احادیث لکھ کر بھیجیں جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں تو انہوں نے جواب میں یہ حدیث لکھ کر بھیجی۔
(صحیح البخاري، الزکاة، حدیث: 1477) (2)
ابن بطال نے لکھا ہے کہ ان احادیث میں ہر نماز کے بعد ذکر الٰہی کی ترغیب ہے اور یہ عمل اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے برابر ہے، نیز امام اوزاعی سے سوال ہوا کہ نماز کے بعد ذکر الٰہی بہتر ہے یا تلاوت قرآن تو انہوں نے فرمایا:
تلاوت قرآن سے بہتر تو کوئی عمل نہیں مگر سلف صالحین کا طریقہ نماز کے بعد ذکر و اذکار کا ہی تھا۔
(فتح الباري: 162/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6330]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6473
6473. حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کے کاتب وراد بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ ؓ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کو خط لکھا کہ کوئی حدیث جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو مجھے لکھ بھیجو، چنانچہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے انہیں لکھا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ نماز سے فراغت کے بعد یہ پڑھتے تھے: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ تنہا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کے لیے بادشاہت ہے اور وہی حمد وثنا کا سزاوار ہے۔ اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔ یہ تین مرتبہ پڑھتے تھے، نیز آپ فضول گفتگو، زیادہ سوال کرنے مال کے ضیاع اپنی چیز بچا کر رکھنے دوسروں کی چیز مانگنے ماؤں کی نافرمانی کرنے اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے سے منع کرتے تھے۔ ہشیم کہتے ہیں کہ ہمیں عبدالملک بن عمیر نے بتایا، انہوں نے کہا: میں نے وراد سے سنا، وہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6473]
حدیث حاشیہ:
(1)
قیل و قال سے مراد ایسی لچر اور فضول گفتگو جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔
بندۂ مومن کو ایسی فضول باتوں سے زبان کی حفاظت کرنی چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عام تعلیم تھی کہ بلا ضرورت اور بے فائدہ باتیں کرنے سے زبان کو روکا جائے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے:
انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضول باتوں اور بے فائدہ کاموں سے بچے۔
(سنن ابن ماجة، الفتن، حدیث: 3976) (2)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بلا ضرورت اور بے فائدہ گفتگو نہ کرنا اور لغو و فضول مشاغل سے خود کو محفوظ رکھنا انسان کے اچھے اسلام کی علامت اور اس کے ایمان کی خوبی ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ انسان لغویات سے خود کو محفوظ رکھے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6473]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7292
7292. سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ کے کاتب وراد سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ ؓ سیدنا مغیرہ ؓ کو خط لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تم نے جو سنا ہے وہ مجھے لکھ بھیجیں، تو انہوں نے انکی طرف لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز کے بعد کہتے تھے: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لیے بادشاہی اور تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔ اے اللہ! جس کو تو عطا کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا اور کسی بزرگ کو اسکی بزرگی تیری مقابلے میں کوئی نفع نہیں پہنچا سکتی۔ نیز لکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیل وقال کثرت سوال، مال کے ضیاع ماؤں کی نافرمانی اور بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے سے منع فرماتے تھے اور اپنا حق محفوظ رکھنے دوسروں کا حق روکنے سے بھی روکتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7292]
حدیث حاشیہ:

حضرت وراد حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کاتب تھے۔
ان کابیان ہے کہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک وفد کےساتھ گیاتو میں نےدیکھا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو بکثرت یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے۔
(صحیح البخاري، القدر، حدیث: 6615)

اس حدیث میں کثرت ِسوال کی ممانعت ہے۔
کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ خوامخواہ سوالات کرنے کے عادی ہوتے ہیں، ان کا مقصد عملی زندگی سنوارنا نہیں بلکہ اپنی شیخی بگھارنا اور خودستائی کرنا ہوتا ہے۔
کچھ لوگ بال کی کھال اُتارنے کے شوقین ہوتے ہیں۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے، بامقصد سوالات پوچھنے کی ممانعت نہیں کیونکہ قرآن کریم کا حکم ہے:
اگر تمھیں علم نہیں تو اہل علم سے سوال کرو۔
(النحل: 43)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7292]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1342
نماز کے اختتام پر ایک دوسری تہلیل و ذکر کا بیان۔
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ چکتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير اللہم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1342]
1342۔ اردو حاشیہ:
➊ نماز کے بعد یہ ذکر کرنا مستحسن ہے کیونکہ اس میں خالص توحید اور اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کا بیان ہے۔
➋ کسی کو حدیث لکھ کر بھیجنا اور اسے آگے بیان کرنا درست ہے۔
➌ ایک آدمی کی خبر بھی حجت ہے جبکہ وہ ثقہ ہو۔
تیرے مقابلے میں یعنی اگر تو پکڑنا چاہے تو کسی کی حیثیت یا اس کا مال اسے کوئی فائدہ دے سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے۔ یا تیرے ہاں کسی مال والے کو اس کا مال فائدہ نہیں ہوتا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1342]

حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، صحیح بخاری 844
نماز کے بعد اجتماعی دعا
فرض نمازوں کے بعد امام اور مقتدیوں کی اجتماعی دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے قطعی طور پر ثابت نہیں یہی وجہ ہے کہ بعض آئمہ نے اسے بدعت بھی قرار دیا ہے۔
(ابن تیمیہؒ) اس میں دو چیزیں ہیں:
➊ نمازی کا دعا کرنا جیسا کہ نمازی دعائے استخارہ وغیرہ کرتا ہے خواہ وہ امام ہو یا مقتدی۔
➋ امام اور مقتدیوں کا مل کر دعا کرنا۔
یہ دوسری چیز بلا شبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نمازوں کے بعد نہیں اختیار کی جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اذکار کیا کرتے تھے اور جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ اگر اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجتماعی دعا کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور نقل فرماتے، پھر تابعین، پھر دیگر علماء، (اسے ضرور نقل کرتے) جیسا کہ انہوں نے اس سے کم درجہ کی اشیاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہیں۔ [الفتاوى الكبرى: 158/1]
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے واضح طور پر اس عمل کو بدعت بھی کہا ہے۔ [مجموع الفتاوى: 519/22]
(ابن قیمؒ) (فرض نمازوں کے بعد) اجتماعی دعا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قطعاً طریقہ نہیں تھا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی صحیح یا حسن سند کے ساتھ منقول ہے۔ [زاد المعاد: 257/1]
(مالکؒ) امام ابن بطالؒ نے امام مالکؒ سے نقل کیا ہے کہ یہ عمل بدعت ہے۔ [فتح البارى: 326/2]
(شاطبیؒ) (نماز کے بعد) دائمی طور پر اجتماعی دعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل نہیں۔ [الاعتصام: 352/1]
(سعودی مجلس افتاء) ہمیں کسی ایسی دلیل کا علم نہیں جو اس عمل کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہو۔ [الفتاوى الإسلامية: 290/1]
(انور شاہ کشمیریؒ) دعا کی اجتماعی صورت جس کا آج کل رواج ہے (شریعت سے) ثابت نہیں۔ [العرف الشذى: ص/86]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 427]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 253
نماز کی صفت کا بیان
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض کے اختتام پر یہ دعا پڑھا کرتے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں۔ فرمانروائی اسی کی ہے اور حمد و ثنا اسی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو عطا فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو کچھ تو روک لے اسے عطا کرنے والا کوئی نہیں اور کسی صاحب نصیبہ کو تیرے بغیر بغیر کوئی نصیبہ نہیں دیتا۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 253»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الأذان، باب الذكر بعد الصلاة، حديث:844، ومسلم، المساجد، باب استحباب الذكر بعد الصلاة، حديث:593.»
تشریح:
1. اس حدیث میں منقول دعا اس پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ وحدہ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں کہ جس کی طرف حاجات اور ضروریات کی تکمیل کے لیے رجوع کیا جا سکے۔
دنیا و مافیہا اور آسمانوں کی ہر ایک چیز اس کی مخلوق ہے اور مخلوق اپنے خالق کی ہر وقت محتاج ہے۔
وہ قادر مطلق ہے‘ کسی کو کچھ دینے اور نہ دینے کے جملہ اختیارات بلا شرکت غیرے اسی کے قبضہ ٔقدرت میں ہیں۔
اس کی سرکار میں دنیوی جاہ و حشمت اور عزت و سلطنت اس کے فضل اور رحمت کے سوا ذرہ بھر بھی کارگر اور منافع بخش ثابت نہیں ہو سکتیں۔
2. یہ دعا فرض نماز سے فارغ ہو کر پڑھنی مستحب ہے۔
اور تشہد پڑھنے کے بعد‘ سلام پھیرنے سے پہلے‘ یعنی نماز کے اندر بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 253]

حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، صحیح بخاری 6330
فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا
فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ دیکھئے: [هدية المسلمين 54 ح22]
سیدنا عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب جس روایت سے نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا استدلال کیا جاتا ہے۔
روایت مذکورہ کے لئے دیکھئے: [المعجم الكبير / قطعه من الجزء ج21 ص37 ح90]
اس کی سند فضیل بن سلیمان النمیری «ضعيف عند الجمهور» کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔

تنبیہ:
اس راوی کی صحیحین مں تمام روایات صحیح ہیں۔
سرفراز خان صفدر کے بیٹے عبدالقدوس دیو بندی نے لکھا ہے:
جن کتب میں صحت کا التزام کیا گیا ہے ان میں راوی کی حیثیت اور ہے اگر وہی راوی کسی دوسری جگہ آ جائے تو اس کی حیثیت اور ہو گی۔ [مجذدبانه واويلا ص247]

دیو بندی مفتی رشید احمد لدھیانوی نے لکھا ہے:
نماز کے بعد اجتماعی دعاء کا مروجہ طریقہ بالا جماع بدعت قبیحہ شنیعہ ہے۔ [نمازوں كے بعد دعاء ص19، احسن الفتاويٰ ج10]
… اصل مضمون …
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
[فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 77]

اردو فتاویٰ، صحیح بخاری 7292
فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کرنا
ہمارے زمانے کے علمائے اہل حدیث اس بارے میں مختلف ہیں، بعض کہتے ہیں کہ چونکہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی ہو اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس پر آمین کہی ہو، جیسا کہ آج کل عام رواج ہے۔ لہٰذا ان علمائے کرام کے نزدیک فرضوں کے بعد مروجہ دعا کا طریق بدعت ہے، جیسا کہ امام ابن القیم نے بھی لکھا ہے:
«اما الدعاء بعد السلام مستقبل القبلة او المامومين فلم يكن ذلك من هدية صلى الله عليه وسلم اصلا ولا روي عنه باسناد صحيح ولاحسن وعامة الادعية المتعلقة بالصلوة إنما فعلها وأمر بها فيها وهذا هواللائق بحال المصلي فإنه مقبل على ربه يناجيه مادام فى الصلوة .» [إنتهي ملخصا من زادالمعاد ص257 ج1 بحث الدعاء بعد السلام من الصلوة]
فرضوں کے بعد قبلہ رخ ہو کر یا نمازیوں کے طرف منہ کر کے دعا مانگنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بالکل ثابت نہیں ہے۔ صحیح حدیث کے ساتھ اور نہ حسن حدیث کے ساتھ۔ کیونکہ اکثر متعدد دعائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے اندر ہی مانگی ہیں اور نماز کے اندر ہی ان دعاؤں کے مانگنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے نمازی نماز کی حالت میں اللہ کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ اور اپنے اللہ سے مناجات کرتا ہے۔
لیکن دوسرے علماء اس دعا کے جواز کے قائل ہیں اور مندرجہ ذیل احادیث سے استدلال کرتے ہیں:
«عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَا مِنْ عَبْدٍ بَسَطَ كَفَّيْهِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِلَهِي وَإِلَهَ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْحَاقَ، وَيَعْقُو بَ، وَإِلَهَ جَبْرَائِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَإِسْرَافِيلَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، أَسْأَلُكَ أَنْ تَسْتَجِيبَ دَعْوَتِى، فَإِنِّى مُضْطَرٌّ، وَتَعْصِمَنِى فِي دِينِى فَإِنِّى مُبْتَلًى، وَتَنَالَنِى بِرَحْمَتِكَ فَإِنِّى مُذْنِبٌ، وَتَنْفِيَ عَنِّى الْفَقْرَ فَإِنِّى مُتَمَسْكِنٌ، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَرُدَّ يَدَيْه خَائِبَتَيْنِ أخرجه الحافظ والليلي قلت فى سنده عبدالعزيز بن عبدالرحمان القرشي قال فى الميزان إتهمه احمد وقال النسائي وغيره ليس بثقة .» [تحفة الاحوذي: ص246ج1 باب ما يقول اذاسلم]
حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ہر نماز کے بعد ہاتھ پھیلا کر یہ دعا پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں کو ناکام نہیں لوٹاتا۔
اس حدیث کا ایک راوی عبدالعزیز بن عبدالرحمان جو سخت مجروح ہے، مولانا مبارک پوری رحمہ الله نے میزان الاعتدال سے بہت سے ائمہ حدیث کی اس پر سب جرحیں نقل فرمائی ہیں کسی ایک نے بھی توثیق نہیں کی ہے۔ علاوہ اس کے کہ ایسے مجروح راوی کی روایت کسی درجے میں بھی قبول نہیں کی جا سکتی۔ سوال میں مذکور طریق کا اس میں بھی ذکر نہیں۔ (ع، ح)

«عن محمد يحيي السلمي (تقريب اور تهذيب ميں اسلمی ہے . ع)، حقال رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَرَأَى رَجُلًا رَافِعًا يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاته، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهَا، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ»
«ذكر ه الحافظ الهيثمي فى مجمع الزوائد قال ورواه الطبراني وترجم له فقال محمد بن يحيي السلمي عن عبدالله بن الزبير ورجاله ثقات .» [تحفة الاحوذي: ص245ج1]
محمد بن یحییٰ السلمی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو نماز میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے ہوئے دیکھا جب وہ فارغ ہوا تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بھائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو نماز سے فارغ ہو کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے تھے۔

«عن ابي بكرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قا ل سلوا الله بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ، وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا .» [رواه الطبراني فى الكبير ورجالة رجال الصحيح غير عماد بن خلد الواسطي وهو ثقة۔ مجمع الزوائد ص129، 130 كنز العمان: ص175ج1]
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے سیدھے ہاتھوں کے ساتھ دعا مانگا کرو اور الٹے ہاتھوں سے نہ مانگو۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ امام اور مقتدی فرض نمازوں کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگ سکتے ہیں اور اس کو بدعت کہنا صحیح معلوم نہیں ہوتا ہے۔ تاہم اس کا التزام اور اس پر ہمیشگی بدعت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دعا التزام ضعیف حدیث سے بھی ثابت نہیں۔ مذکورہ احادیث بھی چونکہ کچھ ضعیف ہی ہیں، اس لیے ان سے استحباب ثابت ہوتا ہے۔
جیسے کہ ملا علی قاری فرماتے ہیں۔ «ألاستحباب يثبت بالضعيف لا بالموضوع .» ہمارے حنفی بھائی اس دعا کو لازم سمجھے بیٹھے ہیں حالانکہ خود امام ابوحنیفہ رحمہ الله اور حنفی فقہاء کے نزدیک فرضوں کے بعد مروجہ دعا مانگنا کوئی ضروری نہیں۔ جیسے البحرالرائق میں ہے:
«وَلَمْ يَذْكُرْ الْمُصَنِّفُ مَا يَفْعَلُهُ بَعْدَ السَّلَامِ وَقَدْ قَالُوا: إنْ كَانَ إمَامًا وَكَانَتْ صَلَاةً يُتَنَفَّلُ بَعْدَهَا فَإِنَّهُ يَقُومُ وَيَتَحَوَّلُ من مكانه يمينه او يساره او خلفه والجلوس مستقبلا بدعة .» [تحفة الاحوذي: ص247ج1]
اور نہیں ذکر کیا مصنف نے کہ امام سلام کے بعد کیا کرے۔ تاہم فقہاء کا خیال ہے جس نماز کے بعد نفل ہوں ان میں امام کھڑا ہو جائے اور دائیں بائیں پھر جائے اور قبلہ رخ بیٹھ رہنا بدعت ہے۔
«هذا ما عندي والله أعلم بالصواب»
۔۔۔ اصل مضمون۔۔۔
فتاویٰ محمدیہ ج1ص368
[اردو فتاوىٰ، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

Sahih Bukhari Hadith 6615 in Urdu